نمازِ اشراق کیا ہے؟ وقت، رکعات، سفر میں ادائیگی صحیح احادیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس مکتبہ دارالاندلس کی جانب سے شائع کردہ کتاب صحیح نماز نبویﷺ سے ماخوذ ہے جو الشیخ عبدالرحمٰن عزیز کی تالیف ہے۔

نماز اشراق

اس نماز کے مختلف اوصاف کی وجہ سے مختلف تین نام ہیں:
اشراق: سورج طلوع ہونے کا وقت۔
ضحي: روشنی ہونے کی وجہ سے۔
اوابين: وہ وقت جب اونٹوں کے بچوں کے پاؤں جلنے لگ جائیں۔

اشراق کی اہمیت:

❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
يصبح على كل سلامى من أحدكم صدقة فكل تسبيحة صدقة وكل تحميدة صدقة وكل تهليلة صدقة وكل تكبيرة صدقة وأمر بالمعروف صدقة ونهي عن المنكر صدقة ويجزئ من ذلك ركعتان يركعهما من الضحى
”جب کوئی آدمی صبح کرتا ہے تو اس کے لیے ہر جوڑ کی طرف سے صدقہ کرنا ضروری ہوتا ہے، پس سبحان اللہ کہنا صدقہ ہے، الحمد للہ کہنا صدقہ ہے، لا الہ الا اللہ کہنا صدقہ ہے، اللہ اکبر کہنا صدقہ ہے، نیکی کا حکم دینا صدقہ ہے اور برائی سے روکنا صدقہ ہے اور ان سب کی طرف سے نماز اشراق کی دو رکعات کافی ہیں۔“
[مسلم، کتاب صلاة المسافرين، باب استحباب صلاة الضحى: باب استحاب صلاۃ الضحی الخ : 720]
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من خرج من بيته متطهرا إلى صلاة مكتوبة فأجره كأجر الحاج المحرم ومن خرج إلى تسبيح الضحى لا ينصبه إلا إياه فأجره كأجر المعتمر
”جو شخص گھر سے با وضو فرض نماز کے لیے نکلے اسے احرام باندھ کر حج کو جانے والے کے برابر ثواب ملتا ہے اور جو با وضو نماز ضحی کے لیے نکلتا ہے اور صرف اسی مقصد کے لیے نکلا تو اسے عمرہ کے لیے جانے والے کی مانند ثواب ملتا ہے۔“
[أبو داؤد، كتاب الصلاة، باب ما جاء في فضل المشي إلى الصلاة: 558 – حسن]
❀ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
أوصاني خليلي بثلاث لا أدعهن حتى أموت: صوم ثلاثة أيام من كل شهر وصلاة الضحى ونوم على وتر
”میرے دوست (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) نے مجھے تین کاموں کی وصیت فرمائی، جنھیں میں مرتے دم تک نہیں چھوڑوں گا، وہ یہ کہ ہر ماہ تین روزے رکھوں، نماز اشراق کا اہتمام کروں اور سونے سے پہلے وتر پڑھوں۔“
[بخاری، کتاب التهجد، باب صلاة الضحى في الحضر: 1178 – مسلم: 731]
❀ نماز ضحی اور اشراق ہی نماز اوابین ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا يحافظ على صلاة الضحى إلا أواب قال وهى صلاة الأوابين
”بہت زیادہ نیک آدمی ہی نماز اشراق کی حفاظت کر سکتا ہے اور یہی نماز اوابین ہے۔“
[ابن خزيمة: 1/525، ح: 1224 – مستدرك حاکم: 1/314، ح: 1182 – صحیح علی شرط مسلم (حاکم اور الذہبی)، حسن (الالبانی)]

اشراق کا وقت:

❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
صلاة الأوابين حين ترمض الفصال
”نماز اوابین (اشراق) کا وقت وہ ہے جب اونٹوں کے بچوں کے پاؤں جلنے لگتے ہیں۔“
[مسلم، کتاب صلاة المسافرين، باب صلاة الأوابين حين ترمض الفصال: 748]
نماز اشراق کا وقت مکمل طلوع آفتاب سے لے کر زوال تک ہے۔

نماز اشراق کی رکعات:

❀ نماز اشراق کی دو، چار، چھ اور آٹھ رکعات ثابت ہیں، جتنی چاہیں پڑھ لیں۔
[مسلم، كتاب صلاة المسافرين: 719، 721 – إرواء الغليل: 463 – صحیح]

سفر میں نماز اشراق:

❀ سفر میں بھی نماز اشراق ادا کرنی چاہیے۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
”میرے دوست (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) نے مجھے تین کاموں کی وصیت فرمائی، جنھیں میں مرتے دم تک نہیں چھوڑوں گا، وہ یہ کہ ہر ماہ تین روزے رکھوں، نماز اشراق کا اہتمام کروں اور سونے سے پہلے وتر پڑھوں۔“
[بخاری: 1178 – مسلم: 721]