مضمون کے اہم نکات
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
استسقا سے مراد اللہ تعالیٰ سے بارش کی دعا کرنا ہے۔ کسی حاجت کے وقت فریاد کرنا انسان کی فطرت اور جبلت میں شامل ہے، اور حقیقی حاجت روا و مشکل کشا صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ نمازِ استسقا سابقہ امتوں میں بھی معروف رہی ہے، اس لیے یہ انبیائے کرام علیہم السلام کی سنتوں میں سے ایک سنت ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿وَإِذِ استَسقىٰ موسىٰ لِقَومِهِ…﴿٦٠﴾… سورة البقرة﴾
"اور جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے لیے پانی مانگا۔” [البقرۃ: 60]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی متعدد مواقع پر بارش کی دعا فرمائی، اور یہ دعا مختلف طریقوں سے منقول ہے۔ نمازِ استسقا کی مشروعیت پر اہلِ علم کا اجماع ہے۔
استسقا کی ضرورت اور مختلف صورتیں
جب طویل مدت تک بارش نہ ہو، زمین خشک اور بنجر ہو جائے، اور لوگ نقصان میں مبتلا ہو جائیں، تو ایسی حالت میں بندوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے رب کے حضور عاجزی کے ساتھ دعا کریں اور بارش طلب کریں۔
استسقا کی درج ذیل صورتیں ہو سکتی ہیں:
① باجماعت نمازِ استسقا ادا کی جائے۔
② انفرادی طور پر بارش کی دعا کی جائے۔
③ خطبۂ جمعہ میں صرف دعا کی جائے۔
④ فرض نماز کے بعد بارش کی دعا کی جائے۔
⑤ تنہائی میں بغیر نماز اور خطبہ کے دعا کی جائے۔
ان تمام صورتوں کی گنجائش موجود ہے۔
نمازِ استسقا کی سنت مؤکدہ حیثیت
نمازِ استسقا سنتِ مؤکدہ ہے۔ سیدنا عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
"خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَسْقِي، فَتَوَجَّهَ إِلَى القِبْلَةِ يَدْعُو وَحَوَّلَ رِدَاءَهُ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ جَهَرَ فِيهِمَا بِالقِرَاءَةِ”
"ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم طلبِ باراں کے لیے تشریف لے گئے، قبلہ رخ ہو کر دعا کی اور اپنی چادر کو پلٹا، پھر دو رکعتیں بلند آواز سے قراءت کے ساتھ ادا فرمائیں۔” [صحیح البخاری، کتاب الاستسقاء، باب الجہر بالقراءة في الاستسقاء، حدیث 1024، 1025؛ صحیح مسلم، کتاب صلاة الاستسقاء، حدیث 894]
نمازِ استسقا اور نمازِ عید میں مشابہت
نمازِ استسقا مقام اور بعض احکام کے اعتبار سے نمازِ عید کے مشابہ ہے:
◈ کھلے میدان میں ادا کرنا مستحب ہے۔
◈ دو رکعتیں ہیں۔
◈ جہری قراءت کی جاتی ہے۔
◈ نماز خطبہ سے پہلے ادا کی جاتی ہے۔
بعض کے نزدیک بارہ تکبیریں بھی کہی جاتی ہیں، تاہم اس بارے میں کوئی صحیح روایت ثابت نہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت میں نمازِ عید سے مشابہت صرف رکعتوں کی تعداد میں واضح ہے۔ [نماز استسقا میں بارہ تکبیریں کہنے کی کوئی صحیح روایت نہیں مل سکی۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مذکورہ روایت میں نماز استسقا کی نماز عید سے مشابہت و مماثلت صرف تعداد رکعات کے اعتبار سے واضح ہوتی ہے۔ (فاروق صارم)]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
"وَصَلَّى رَكْعَتَينِ كَمَا كَانَ يُصَلِّي فِي العِيدِ”
"نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازِ عید کی طرح نمازِ استسقا کی دو رکعتیں پڑھائیں۔” [جامع الترمذی، کتاب الجمعة، باب ما جاء في صلاة الاستسقاء، حدیث 558، 559؛ المستدرک للحاکم 1/326-327، حدیث 1218، 1219]
میدان میں ادائیگی اور وعظ و نصیحت
اہلِ شہر کو چاہیے کہ کھلے میدان میں نماز ادا کریں، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسی طرح ادا فرمائی۔ اس میں عاجزی اور احتیاج کا اظہار زیادہ نمایاں ہوتا ہے۔
نماز کے لیے نکلنے سے پہلے امام لوگوں کو وعظ و نصیحت کرے:
✔ توبہ کی تلقین کرے۔
✔ مظالم کی ادائیگی کا حکم دے۔
✔ صدقہ و خیرات کی ترغیب دے۔
کیونکہ گناہ بارش رکنے کا سبب بنتے ہیں اور توبہ رحمت کے نزول کا ذریعہ ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿وَلَو أَنَّ أَهلَ القُرىٰ ءامَنوا وَاتَّقَوا لَفَتَحنا عَلَيهِم بَرَكـٰتٍ مِنَ السَّماءِ وَالأَرضِ وَلـٰكِن كَذَّبوا فَأَخَذنـٰهُم بِما كانوا يَكسِبونَ ﴿٩٦﴾… سورة الاعراف﴾
"اور اگر ان بستیوں کے رہنے والے ایمان لے آتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان و زمین کی برکتوں کے دروازے کھول دیتے، لیکن انہوں نے جھٹلایا تو ہم نے انہیں ان کے اعمال کی وجہ سے پکڑ لیا۔” [الاعراف: 96]
عاجزی کے ساتھ خروج
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
"إن رسول الله صلى الله عليه و سلم خَرج مُتَبَذِّلاً مُتَوَاضِعًا مُتَضَرِّعًا”
"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس حال میں نکلے کہ آپ کی کیفیت نہایت عاجزی، تواضع اور گڑگڑانے والی تھی۔” [جامع الترمذی، کتاب الجمعة، باب ما جاء في صلاة الاستسقاء، حدیث 558]
ہر وہ شخص جو جانے کی طاقت رکھتا ہو اسے شریک ہونا چاہیے، حتیٰ کہ بچے اور وہ عورتیں بھی جن سے فتنے کا اندیشہ نہ ہو۔
خطبہ اور اس کا طریقہ
امام دو رکعتیں پڑھانے کے بعد خطبہ دے۔ بعض علماء دو خطبوں کے قائل ہیں، لیکن ایک خطبہ پر اکتفا کرنا دلائل کے اعتبار سے راجح ہے۔
خطبہ میں:
◈ کثرت سے استغفار کرے۔
◈ بارش سے متعلق آیات کی تلاوت کرے۔
◈ دونوں ہاتھ اٹھا کر خوب دعا کرے۔
◈ درود شریف پڑھے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دعا کے وقت اتنے بلند ہاتھ اٹھاتے کہ بغلوں کی سفیدی نظر آتی تھی۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿لَقَد كانَ لَكُم فى رَسولِ اللَّهِ أُسوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَن كانَ يَرجُوا اللَّهَ وَاليَومَ الءاخِرَ …﴿٢١﴾… سورة الاحزاب﴾
"یقیناً تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں بہترین نمونہ ہے، ہر اس شخص کے لیے جو اللہ اور یومِ آخرت کی امید رکھتا ہے۔” [الاحزاب: 21]
چادر پلٹنے کا مسنون طریقہ
دعا کے وقت امام قبلہ رخ ہو کر اپنی چادر پلٹائے۔
"فَحَوَّلَ إِلَى النَّاسِ ظَهْرَهُ، وَاسْتَقْبَلَ القِبْلَةَ يَدْعُو، ثُمَّ حَوَّلَ رِدَاءَهُ”
"آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی طرف پشت کی، قبلہ رخ ہو کر دعا کی، پھر اپنی چادر کو پلٹا۔” [صحیح البخاری، کتاب الاستسقاء، باب كيف حول النبي صلى الله عليه وسلم ظهره إلى الناس، حدیث 1025؛ صحیح مسلم، کتاب صلاة الاستسقاء، حدیث 894]
مسند احمد میں ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بھی اپنی چادریں پلٹائیں۔ [مسند احمد 4/41]
اگر بارش نہ ہو تو ضرورت کے تحت دوسری یا تیسری مرتبہ بھی نمازِ استسقا ادا کی جا سکتی ہے۔
بارش کے وقت کی دعائیں
بارش شروع ہو تو ابتدا میں اس کے نیچے کھڑا ہونا چاہیے اور یہ دعا پڑھے:
"اللَّهُمَّ صَيِّبًا نَافِعًا”
"اے اللہ! اسے نفع بخش بارش بنا۔” [صحیح البخاری، کتاب الاستسقاء، باب ما يقال إذا مطرت، حدیث 1032]
اور یہ کہے:
"مُطِرْنَا بِفَضْلِ اللَّهِ وَرَحْمَتِهِ”
"ہم پر اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے بارش ہوئی۔” [صحیح البخاری، کتاب الاستسقاء، باب قول الله تعالى: وَتَجْعَلُونَ رِزْقَكُمْ أَنَّكُمْ تُكَذِّبُونَ، حدیث 1038]
اگر بارش حد سے بڑھ جائے اور نقصان کا اندیشہ ہو تو یہ دعا کرے:
"اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا اللَّهُمَّ عَلَى الْآكَامِ وَالظِّرَابِ وَبُطُونِ الْأَوْدِيَةِ وَمَنَابِتِ الشَّجَرِ”
"اے اللہ! ہمارے اردگرد بارش برسا، ہم پر نہ برسا، اے اللہ! اسے ٹیلوں، پہاڑوں، وادیوں اور درختوں کی جگہوں پر برسا۔” [صحیح البخاری، کتاب الاستسقاء، باب الاستسقاء في المسجد الجامع، حدیث 1013؛ صحیح مسلم، کتاب الاستسقاء، باب الدعاء في الاستسقاء، حدیث 897]
یہی کلمات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں۔
اختتامیہ
ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب