نمازِ استسقاء کا مکمل طریقہ، دعائیں اور آداب صحیح احادیث کی روشنی میں

یہ اقتباس مکتبہ دارالاندلس کی جانب سے شائع کردہ کتاب صحیح نماز نبویﷺ سے ماخوذ ہے جو الشیخ عبدالرحمٰن عزیز کی تالیف ہے۔
مضمون کے اہم نکات

نماز استسقاء کا بیان

قحط سالی کیوں ہوتی ہے؟:

❀ قحط سالی یعنی بارش نہ ہونا عذاب الہی ہے، اس کے اسباب میں سے ماپ تول میں کمی کرنا اور زکاۃ ادا نہ کرنا ہے۔
❀ گناہوں کے باوجود بارش حیوانات کی وجہ سے ہوتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لم ينقصوا المكيال والميزان إلا أخذوا بالسنين وشدة المؤونة وجور السلطان عليهم ولم يمنعوا الزكاة إلا منعوا القطر من السماء ولولا البهائم لم يمطروا
”جب کوئی قوم ماپ تول میں کمی کرتی ہے تو اسے قحط سالی، سخت محنت اور سلطان کے جبر و ستم کے ذریعے عذاب دیا جاتا ہے اور جب لوگ زکاۃ ادا نہ کریں تو بارش روک دی جاتی ہے اور اگر حیوانات نہ ہوتے تو (ایسے لوگوں پر) قطعاً بارش نہ ہوتی۔“
[مستدرک حاکم: 4/540، ح: 8623 – إسناده حسن لذاته (حفص بن غیلان صدوق، وثقه الجمهور)]

قحط سالی کے وقت کرنے کے کام:

❀شریعت نے ایسے کام بھی بتائے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ کا غصہ ختم ہو جاتا ہے، اس کی رحمت جوش میں آتی ہے اور بارش برستی ہے، مثلاً:
➊ گناہوں کی معافی مانگنا اور استغفار کرنا چاہیے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُمْ مِدْرَارًا
[نوح: 10-11]
”پس میں نے کہا اپنے رب سے معافی مانگ لو، بلاشبہ وہ بہت معاف کرنے والا ہے، تم پر آسمان سے خوب بارشیں برسائے گا۔“
➋ اللہ کا ڈر اور تقویٰ اختیار کیا جائے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ الْقُرَىٰ آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَرَكَاتٍ مِنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ
[الأعراف: 96]
”اگر یہ بستیوں والے ایمان لاتے اور اللہ کا تقوی اختیار کرتے، تو ہم ان پر آسمان و زمین کی برکتوں کے دروازے کھول دیتے۔“
➌ معاشرے میں قرآن و سنت کا نفاذ کیا جائے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَلَوْ أَنَّهُمْ أَقَامُوا التَّوْرَاةَ وَالْإِنْجِيلَ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِمْ مِنْ رَبِّهِمْ لَأَكَلُوا مِنْ فَوْقِهِمْ وَمِنْ تَحْتِ أَرْجُلِهِمْ
[المائدة: 66]
”اگر یہ (یہود و نصاری) تورات، انجیل اور دوسری کتب کو جو ان پر ان کے رب کی طرف سے نازل ہوئی تھیں، انھیں نافذ کرتے، تو ضرور اپنے اوپر کی جانب سے اور اپنے پاؤں کے نیچے سے کھاتے۔“
➍ زیادہ سے زیادہ صدقہ کرنا چاہیے، کیونکہ صدقہ اللہ کے غصہ کو ختم کرتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی اسرائیل کے ایک آدمی کا واقعہ بیان فرمایا جو اپنے باغ کے پھل کے تین حصے کرتا تھا، ایک حصہ باغ پر خرچ کرتا، دوسرا گھر کے اخراجات کے لیے رکھتا اور تیسرا حصہ اللہ کے راستے میں دے دیتا تھا، اسی وجہ سے خاص اس کے باغ کو سیراب کرنے کے لیے بادل بارش برساتا تھا۔
[مسلم، کتاب الزهد، باب فضل الإنفاق على المساكين وابن السبيل: 2984]
➎ پھر عجز و انکسار کے ساتھ اللہ سے بارش کی دعا مانگنی چاہیے۔ آج مسلمان بارش کے لیے دعا کرتے ہیں، نماز استسقاء ادا کرتے ہیں لیکن بارش نہیں ہوتی، اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم دعا تو کرتے ہیں لیکن خود کو بدلنے اور گناہ چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ضروری ہے کہ سب سے پہلے مرض کے اصل اسباب کو دور کیا جائے۔

بارش طلب کرنے کے طریقے:

❀ بارش طلب کرنے کے دو طریقے ہیں، ایک دعا کرنا اور دوسرا نماز ادا کرنا اور اسی کو نماز استسقاء کہا جاتا ہے۔

بارش کے لیے دعا کرنے کے مواقع:

❀ اگر مسلمانوں کو بارش کی ضرورت ہو تو اس کے لیے اللہ سے دعا کرنی چاہیے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
”ایک دیہاتی آدمی جمعہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا (اور آپ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے)، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! جانور ہلاک ہو گئے، اہل و عیال تباہ ہو گئے اور لوگ مصیبت میں پڑ گئے (لہذا آپ اللہ سے دعا کریں کہ وہ ہم پر بارش برسائیں) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ اٹھا کر دعا کرنے لگے اور لوگ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہاتھ اٹھا کر دعا کرنے لگے۔“
[بخاری، کتاب الاستسقاء، باب رفع الناس أيديهم مع الإمام في الاستسقاء: 1014، 1029 – مسلم: 897]
❀ ضرورت کے وقت کسی بھی وقت بارش کی دعا کی جا سکتی ہے۔ سیدنا کعب بن مرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہنے لگا: ”اے اللہ کے رسول! اللہ سے بارش کی دعا کریں۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ اٹھا کر دعا کرنے لگے۔
[ابن ماجه، كتاب إقامة الصلوات، باب ما جاء في الدعاء في الاستسقاء: 1269 – مستدرك حاکم: 1/328، ح: 1226]
❀ بارش کی دعا خطبہ جمعہ میں کی جائے تو بہتر ہے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کے کہنے پر خطبہ جمعہ کے درمیان دعا کی۔

دعائے استسقاء کا طریقہ:

❀ بارش کے لیے انفرادی طور پر دعا مانگنا بھی جائز ہے، جیسا کہ اوپر حدیث گزر چکی ہے کہ ایک آدمی کے کہنے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بارش کی دعا مانگی تھی۔
❀ بارش کی دعا اجتماعی طور پر کرنا بھی جائز ہے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ کے دوران میں منبر پر دعا فرمائی اور لوگوں نے بھی آپ کے ساتھ دعا کی۔
❀ بارش کی دعا کسی نیک آدمی سے بھی کروائی جا سکتی ہے، جیسا کہ ایک صحابی کے کہنے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی۔
دعائے استسقاء میں اس قدر ہاتھ اٹھانے چاہییں کہ آدمی کی بغلیں نظر آنے لگیں۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يرفع يديه فى الدعاء حتى يرى بياض إبطيه
”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اس قدر ہاتھ اٹھا کر دعا کر رہے تھے کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی نظر آ رہی تھی۔“
[مسلم، كتاب الاستسقاء، باب رفع اليدين بالدعاء في الاستسقاء: 895]

استقاء کی دعائیں:

❀ استقاء کے لیے درج ذیل دعائیں ثابت ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی دعا پڑھی جا سکتی ہے:
اللَّهُمَّ اسْقِنَا اللَّهُمَّ اسْقِنَا اللَّهُمَّ اسْقِنَا
”اے اللہ! ہمیں پانی پلا، اے اللہ! ہمیں پانی پلا، اے اللہ! ہمیں پانی پلا۔“
[بخاری، کتاب الاستسقاء، باب الاستسقاء في المسجد الجامع: 1013]
اللَّهُمَّ اسْقِنَا غَيْثًا مُغِيثًا مَرِيئًا مَرِيعًا نَافِعًا غَيْرَ ضَارٍّ عَاجِلًا غَيْرَ آجِلٍ
”اے اللہ! ہمیں پانی پلا، ہمارے اوپر ایسی بارش نازل کر جو ہماری تشنگی ختم کر دے، ہلکی پھوار بن کر غلہ اگانے والی، نفع بخش ہو، نقصان دینے والی نہ ہو، جلدی آنے والی ہو نہ کہ دیر لگانے والی۔“
[أبو داؤد، كتاب صلاة الاستسقاء، باب رفع اليدين في الاستسقاء: 1169 – صحیح]
اللَّهُمَّ اسْقِ عِبَادَكَ وَبَهَائِمَكَ وَانْشُرْ رَحْمَتَكَ وَأَحْيِ بَلَدَكَ الْمَيِّتَ
”اے اللہ! اپنے بندوں اور جانوروں کو پانی پلا اور اپنی رحمت پھیلا دے اور اپنے مردہ (بنجر) شہروں کو زندہ (آباد) کر دے۔“
[أبو داؤد، کتاب صلاة الاستسقاء، باب رفع اليدين في الاستسقاء: 1176 – حسن]
الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ يَفْعَلُ مَا يُرِيدُ اللَّهُمَّ أَنْتَ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ الْغَنِيُّ وَنَحْنُ الْفُقَرَاءُ أَنْزِلْ عَلَيْنَا الْغَيْثَ وَاجْعَلْ مَا أَنْزَلْتَ لَنَا قُوَّةً وَبَلَاغًا إِلَى حِينٍ
”تمام تعریف اللہ کے لیے ہے جو سب جہانوں کا پروردگار ہے، بے حد مہربان نہایت رحم والا ہے، قیامت کے دن کا مالک ہے، اے اللہ! تو اللہ ہے، تیرے سوا کوئی سچا معبود نہیں، تو غنی ہے اور ہم فقیر و محتاج ہیں، ہمارے اوپر بارش برسا اور جو بارش تو برسائے اسے ہمارے لیے ایک مدت تک قوت اور (مقاصد تک) پہنچنے کا ذریعہ بنا۔“
[أبو داؤد، کتاب صلاة الاستسقاء، باب رفع اليدين في الاستسقاء: 1173 – حسن]

نماز استسقاء کا وقت:

❀ نماز استسقاء کا وقت طلوع آفتاب کے فوراً بعد ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے قحط سالی کی شکایت کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے عید گاہ میں منبر رکھ دیا گیا اور آپ نے لوگوں کے نکلنے کے لیے ایک دن مقرر کر دیا۔ اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت نکلے جب سورج طلوع ہو چکا تھا، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف فرما ہوئے، پھر اللہ کی کبریائی اور حمد و ثنا کی، پھر آپ یہ دعا کرنے لگے:
الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ يَفْعَلُ مَا يُرِيدُ اللَّهُمَّ أَنْتَ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ الْغَنِيُّ وَنَحْنُ الْفُقَرَاءُ أَنْزِلْ عَلَيْنَا الْغَيْثَ وَاجْعَلْ مَا أَنْزَلْتَ لَنَا قُوَّةً وَبَلَاغًا إِلَى حِينٍ
تمام تعریف اللہ کے لیے ہے جو سب جہانوں کا پروردگار ہے، بے حد مہربان نہایت رحم والا ہے، قیامت کے دن کا مالک ہے، اے اللہ! تو اللہ ہے، تیرے سوا کوئی سچا معبود نہیں، تو غنی ہے اور ہم فقیر و محتاج ہیں، ہمارے اوپر بارش برسا اور جو بارش تو برسائے اسے ہمارے لیے ایک مدت تک قوت اور (مقاصد تک) پہنچنے کا ذریعہ بنا۔
پھر آپ نے ہاتھ اٹھائے یہاں تک کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگی، پھر لوگوں کی طرف پیٹھ پھیر کر کھڑے ہو گئے اور اپنی چادر کو پلٹایا، پھر لوگوں کی طرف چہرہ کیا، پھر نیچے اتر کر دو رکعات نماز پڑھائی۔
[ابو داؤد، کتاب صلاة الاستسقاء، باب رفع اليدين في الاستسقاء: 1173 – حسن]

نماز استسقاء کہاں ادا کرنی چاہیے؟

❀ نماز استسقاء آبادی سے باہر کھلے میدان میں ادا کرنی چاہیے، جیسا کہ مذکورہ بالا حدیث عائشہ رضی اللہ عنہا میں ہے۔

نماز استسقاء کے آداب:

نماز استسقاء کے لیے تمام لوگوں کو جمع ہونا چاہیے۔
[أبو داؤد، کتاب صلاة الاستسقاء، باب رفع اليدين في الاستسقاء: 1173]
❀ پرانے کپڑوں میں، عجز و انکسار کی حالت میں جانا چاہیے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم متبدلا متواضعا متضرعا
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز استسقاء کے لیے پرانے کپڑوں میں اور عجز و انکسار کی حالت میں باہر گئے۔“
[أبو داؤد، کتاب صلاة الاستسقاء، باب جماع أبواب صلاة الاستسقاء وتفريعها: 1165 – ترمذی: 558 – نسائی: 1507 – حسن]
❀ نماز استسقاء کے لیے اذان اور اقامت نہیں ہے۔
[بخاری، کتاب الاستسقاء، باب الدعاء في الاستسقاء قائما: 1022]
❀ سب سے پہلے امام منبر پر بیٹھ کر خطبہ دے، جس میں اللہ کی تعریفیں ہوں اور اپنی کمزوری اور بے بسی کا اعتراف ہو، جیسا کہ حدیث عائشہ رضی اللہ عنہا میں ہے۔
❀ پھر قبلہ رخ ہو کر امام (اوپر بیان کی گئی) اپنی چادر پلٹے، جیسا کہ حدیث عائشہ رضی اللہ عنہا میں ہے۔ امام کے ساتھ لوگ بھی اپنی چادر پلٹ دیں۔
[مسند أحمد: 4/41، ح: 16579 – إرواء الغليل: 676 – حسن]
چادر پلٹنے کے دو طریقے ہیں:
ایک یہ کہ دائیں ہاتھ سے کمر کے پیچھے سے چادر کا نیچے والا بایاں کنارہ پکڑیں اور بائیں ہاتھ سے کمر کے پیچھے سے چادر کا نیچے والا دایاں کنارہ پکڑ کر اس طرح پلٹیں کہ چادر کا دایاں کنارہ بائیں طرف، بایاں کنارہ دائیں طرف، اوپر والا نیچے اور نیچے والا اوپر ہو جائے۔
اگر یہ مشکل ہو تو دوسرا طریقہ اختیار کر لیں۔ وہ یہ کہ دائیں ہاتھ سے گردن کے اوپر سے چادر کا بایاں کنارہ پکڑ لیں اور بائیں ہاتھ سے گردن کے اوپر سے چادر کا دایاں کنارہ پکڑ لیں۔ اس طرح پلٹیں کہ دایاں بائیں کندھے پر اور بایاں دائیں کندھے پر آ جائے۔
[أبو داؤد، کتاب صلاة الاستسقاء، باب جماع أبواب صلاة الاستسقاء وتفريعها: 1163-1164 – صحیح]
چادر پلٹنے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ اس طرح ہمارے حالات پلٹ دے۔
❀ پھر امام دعا کرائے (تفصیل اوپر موجود ہے)۔
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم استسقاء میں ہاتھوں کی پشت آسمان کی طرف کر کے دعا کرتے تھے۔
[مسلم، كتاب الاستسقاء، باب رفع اليدين بالدعاء في الاستسقاء: 896]
❀ دعا قبلہ رخ کھڑے ہو کر کرنی چاہیے، جیسا کہ حدیث عائشہ رضی اللہ عنہا میں ہے۔

نماز استسقاء کا طریقہ:

❀ پھر دو رکعات نماز استسقاء ادا کی جائے۔
❀ نماز استسقاء میں قراءت جہری ہوگی۔ عباد بن تمیم اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں:
صلى ركعتين يجهر فيهما بالقراءة
”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دو رکعات نماز پڑھائی اور اس میں جہری قراءت کی۔“
[بخاری، کتاب الاستسقاء، باب الجهر بالقراءة في الاستسقاء: 1024]
❀ نماز استسقاء نماز عید کی طرح دو رکعت ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
صلى ركعتين كما يصلي فى العيد
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز استسقاء کی دو رکعات عید کی طرح پڑھائیں۔“
[أبو داود، كتاب الاستسقاء، باب جماع أبواب صلاة الاستسقاء وتفريعها: 1165 – ترمذی: 558 – نسائی: 1509 – حسن (ہشام بن اسحاق صدوق، حسن الحدیث، وثقه الترمذی وابن خزیمة وابن حبان وابن الجارود بتصحیح حدیثه ابن حبان: 2862 – ابن خزیمة: 2/331 – المنتقى لابن الجارود: 253)]

بارش ہوتے وقت کی دعا:

❀ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بارش دیکھتے تو یہ دعا پڑھتے:
اللَّهُمَّ صَيِّبًا نَافِعًا
”اے اللہ! اس بارش کو (ہمارے لیے) نفع بخش بنا دے۔“
[بخاری، كتاب الاستسقاء، باب ما يقال إذا أمطرت: 1032]

بارش میں نہانا:

❀ بارش کا پانی بابرکت ہے، اس میں نہانا مسنون ہے۔ انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
”ایک دفعہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ بارش ہونے لگی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا اوپر کا کپڑا اتار دیا، یہاں تک کہ آپ پر بارش پڑنے لگی۔ ہم نے پوچھا: آپ نے ایسا کیوں کیا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لأنه حديث عهد بربه عز وجل
”اس لیے کہ یہ پانی اللہ تعالیٰ کے پاس سے ابھی ابھی آ رہا ہے۔“
[مسلم، كتاب الاستسقاء، باب الدعاء في الاستسقاء: 898]

بارش روکنے کی دعا:

❀ بارش ضرورت سے زیادہ ہونے لگے کہ زحمت بننے لگے، تو یہ دعا پڑھنا مسنون ہے:
اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا اللَّهُمَّ عَلَى الْآكَامِ وَالطَّرَابِ وَبُطُونِ الْأَوْدِيَةِ وَمَنَابِتِ الشَّجَرِ
”اے اللہ! اب ہمارے ارد گرد بارش برسا، ہم سے اسے روک دے، ٹیلوں، پہاڑوں، پہاڑی وادیوں اور باغوں کو سیراب کر۔“
[بخاری، کتاب الاستسقاء، باب الاستسقاء في خطبة الجمعة غير مستقبل القبلة: 1014 – مسلم: 897]

آندھی سے اللہ کی پناہ مانگنا:

❀ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
”جب آندھی وغیرہ کے آثار پیدا ہوتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا رنگ بدل جاتا، نہایت پریشانی میں کبھی اندر آتے اور کبھی باہر جاتے، جب بارش برسنے لگتی تو آپ خوش ہو جاتے۔ ایک دفعہ میں نے اس کی وجہ پوچھی تو آپ نے فرمایا: ”میں اس لیے پریشان ہوتا ہوں کہیں یہ بادل قوم عاد کی طرح نہ ہو جائے کہ جب انھوں نے بادل کو اپنی طرف آتا دیکھا تو کہنے لگے یہ بادل ہم پر بارش برسائے گا (حالانکہ وہ ان کے لیے عذاب کا باعث بن گیا)۔“
[مسلم: 899]
❀ اور آندھی کو دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھتے تھے:
اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَهَا وَخَيْرَ مَا فِيهَا وَخَيْرَ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ مَا فِيهَا وَشَرِّ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ
”اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اس کی خیر کا اور جو اس میں ہے اس کی خیر کا اور اس کے ذریعے جو بھیجا جائے اس کی خیر کا اور میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں اس کے شر سے اور اس شر سے جو اس میں ہے اور اس شر سے جو اس کے ذریعے بھیجا جائے۔“
[مسلم، كتاب الاستسقاء، باب التعوذ عند رؤية الريح الخ: 899]

کافروں کے لیے بارش نہ ہونے کی دعا:

❀ چونکہ قحط سالی اللہ کا عذاب ہے، لہذا کافروں اور دین کے دشمنوں کے لیے قحط سالی کی دعا کی جا سکتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دین کے دشمنوں کے لیے قحط سالی کی دعا ان الفاظ میں کرتے تھے:
اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ اللَّهُمَّ اجْعَلْهَا سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ
”اے اللہ! مضر قبیلہ کو سختی سے پکڑ لے۔ اے اللہ! ان کے سال یوسف علیہ السلام کے سے سال بنا دے (یعنی ان پر ایسا قحط نازل فرما جیسا اس وقت نازل فرمایا تھا)۔“
[بخاری، کتاب الاستسقاء، باب دعاء النبي ….. الخ: 1006]
مضر قبیلہ کی جگہ اپنے موجودہ دشمن کا نام لینا چاہیے۔

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

سوشل میڈیا پر یہ مضمون فیچرڈ امیج کے ساتھ شئیر کرنے کے لیے یہ تصویر محفوظ کریں ⬇️

نمازِ استسقاء کا مکمل طریقہ، دعائیں اور آداب  صحیح احادیث کی روشنی میں