نمازِ استخارہ کا مسنون طریقہ صحیح احادیث کی روشنی میں

یہ اقتباس مکتبہ دارالاندلس کی جانب سے شائع کردہ کتاب صحیح نماز نبویﷺ سے ماخوذ ہے جو الشیخ عبدالرحمٰن عزیز کی تالیف ہے۔

سببی نمازیں

نماز استخارہ کا بیان:

❀ کوئی بھی اہم کام کرنا ہو تو اس سے پہلے لازمی طور پر استخارہ کرنا چاہیے۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمام کاموں میں استخارہ کرنے کی تعلیم اس طرح دیتے جس طرح ہمیں قرآن کی سورت کی تعلیم دیتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے:
إذا هم أحدكم بالأمر فليركع ركعتين من غير الفريضة ثم ليقل
”تم میں سے کوئی شخص جب کسی اہم کام کا ارادہ کرے تو وہ فرض کے علاوہ دو رکعات پڑھے، پھر یہ (استخارہ کی دعا) پڑھے۔“
[بخاری، كتاب التهجد، باب ما جاء في التطوع مثنى مثنى: 1162، بعد الحديث: 1171]
استخارہ یہ ہے کہ گویا بندہ اپنے کسی کام میں اللہ تعالیٰ، جو علام الغیوب ہے، اس سے مشورہ کر رہا ہے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام نکاح ملنے پر زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا نے فرمایا:
ما أنا بصانعة شيئا حتى أوامر ربي
”میں اپنے رب سے مشورہ کیے بغیر کچھ نہیں کروں گی۔“ پھر وہ (استخارہ کے لیے) نماز پڑھنے لگیں۔
[مسلم، كتاب النكاح، باب زواج زينب بنت جحش: 3502]
❀ استخارہ کا طریقہ یہ ہے کہ دو رکعت نماز نفل پڑھ کر مندرجہ ذیل دعا پڑھ لیں:
اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ الْعَظِيمِ فَإِنَّكَ تَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ وَتَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ وَأَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا الْأَمْرَ خَيْرٌ لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي فَاقْدُرْهُ لِي وَيَسِّرْهُ لِي ثُمَّ بَارِكْ لِي فِيهِ وَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا الْأَمْرَ شَرٌّ لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي فَاصْرِفْهُ عَنِّي وَاصْرِفْنِي عَنْهُ وَاقْدُرْ لِيَ الْخَيْرَ حَيْثُ كَانَ ثُمَّ أَرْضِنِي بِهِ
”اے اللہ! میں تجھ سے تیرے علم کے ذریعے خیر مانگتا ہوں اور تجھ سے تیری قدرت کے ذریعے طاقت مانگتا ہوں اور میں تجھ سے تیرا عظیم فضل مانگتا ہوں، بلاشبہ تو قدرت رکھتا ہے میں قدرت نہیں رکھتا اور تو جانتا ہے میں نہیں جانتا اور تو ہی تمام غیوب کا جاننے والا ہے۔ اے اللہ! تیرے علم کے مطابق اگر یہ کام (اپنے کام کا نام لے) میرے لیے میرے دین، میری معاش اور میرے کام کے انجام میں بہتر ہے تو اسے میرا مقدر بنا دے اور اسے میرے لیے آسان کر دے، پھر میرے لیے اس میں برکت ڈال دے اور اگر تیرے علم میں یہ کام میرے لیے میرے دین، میری معاش اور میرے کام کے انجام میں برا ہے تو اسے مجھ سے پھیر دے اور مجھے اس سے دور کر دے اور بھلائی کو جہاں بھی ہو میرے مقدر میں کر دے، پھر مجھے اس پر راضی کر دے۔“
[بخاری، كتاب التهجد، باب ما جاء في التطوع مثنى مثنى: 1162، بعد الحديث: 1171]
اس دعا کے آخر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور اپنے کام کا نام لے۔“
❀استخارہ دن اور رات کے کسی بھی وقت کیا جا سکتا ہے، جیسا کہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے جب ضرورت پڑی تو فوراً استخارہ کے لیے کھڑی ہو گئیں۔
❀بعض لوگ کہتے ہیں کہ جب آدمی سونے لگے تو دو رکعت نماز پڑھے اور استخارہ کی مخصوص دعا پڑھے اور قبلہ رخ ہو کر سو جائے، اگر ایک روز میں دل مطمئن نہ ہو تو مسلسل سات روز تک ایسا ہی کرے، مگر حدیث میں اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔
❀استخارہ ضرورت مند آدمی کو خود کرنا چاہیے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”تم میں سے کوئی شخص جب کسی اہم کام کا ارادہ کرے تو وہ فرض کے علاوہ دو رکعات پڑھے، پھر یہ (استخارہ کی دعا) پڑھے۔“
[بخاری، کتاب التهجد، باب ما جاء في التطوع مثنى مثنى: 1162، بعد الحديث: 1171]
❀بعض لوگوں نے یہ عقیدہ بنا لیا ہے کہ فلاں بزرگ سے استخارہ کروائیں گے تو ہمیں کوئی پکی بات مل جائے گی۔ اسی بات کو مد نظر رکھتے ہوئے بعض لوگوں نے استخارہ کو کاروبار بنا لیا ہے اور جگہ جگہ اس کے اڈے بن گئے ہیں۔ ان کا استخارہ کا طریقہ یہ ہے کہ وہ کچھ دعائیں پڑھ کر آنکھیں بند کر لیتے ہیں، کچھ دیر کے بعد سائل کو جواب دے دیتے ہیں اور انھوں نے اسے مکاشفہ کا نام دے رکھا ہے۔ بعض ٹیلی ویژن چینل اس کی تشہیر کر رہے ہیں۔ جاہل اور کمزور عقیدہ لوگوں کی اکثریت اس فراڈ کا شکار ہو رہی ہے۔ اسے شیطانی کھیل کے علاوہ کوئی نام نہیں دیا جا سکتا اور یہ لوگوں کے ایمان کے لیے زہر ہلاہل سے زیادہ خطرناک ہے۔
❀بعض لوگوں نے یہ عقیدہ بنا لیا ہے کہ استخارہ کرنے سے آدمی کو رات خواب میں صحیح صورتحال نظر آ جاتی ہے۔ صحیح بات یہ ہے کہ استخارہ کرنے سے اللہ تعالیٰ آدمی کا سینہ کھول دیتا ہے اور کسی ایک جانب اس کی توجہ مبذول کر دیتا ہے اور جو چیز اس کے لیے بہتر ہوتی ہے اس کے لیے آسانیاں پیدا ہوتی جاتی ہیں اور رہی بات خواب کی تو خواب بھی آ سکتا ہے، لیکن یہ ضروری نہیں۔
❀استخارہ ایک کام کے لیے ایک سے زیادہ دفعہ بھی کیا جا سکتا ہے۔
❀استخارہ کے ساتھ ساتھ اصحاب الخیر سے مشورہ بھی کرتے رہنا چاہیے۔ ارشاد ربانی ہے:
وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ
[آل عمران: 159]
”اپنے کام میں ان (اپنے اصحاب) سے مشورہ کیجیے، پھر جب آپ پختہ عزم کر لیں تو اللہ پر بھروسا (کر کے کام) کیجیے۔“

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

سوشل میڈیا پر یہ مضمون فیچرڈ امیج کے ساتھ شئیر کرنے کے لیے یہ تصویر محفوظ کریں ⬇️

نمازِ استخارہ کا مسنون طریقہ صحیح احادیث کی روشنی میں