سوال:
نقش و نگار والے مصلیٰ پر نماز کا کیا حکم ہے؟
جواب:
رنگ دار اور پھول دار قالین پر نماز پڑھنا درست ہے۔
❀ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:
كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي على الخمرة، وفيها تصاوير.
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کی پتیوں سے بنی ہوئی چٹائی پر نماز پڑھتے تھے، اس پر (بے جان چیزوں کی) تصاویر تھیں۔“
(سير أعلام النبلاء للذهبي: 407/9، وسنده صحيح)
❀ صحیح مسلم (556) میں ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک نقش دار چادر تھی، (جو ابو جہم بن حذیفہ نے تحفہ میں دی تھی):
كان يتشاغل بها فى الصلاة.
”جس کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں مشغول ہو جاتے تھے۔“
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ چادر ابو جہم رضی اللہ عنہ کو واپس دے دی اور ان سے بغیر نقوش کے اونی چادر لے لی۔
❀ صحیح بخاری (373) اور صحیح مسلم (556) کی ایک روایت کے الفاظ ہیں:
إنها ألهتني عن صلاتي.
”اس (نقش دار چادر) نے مجھے میری نماز سے مشغول کر دیا۔“
❀ ایک روایت میں ہے:
إني نظرت إلى علمها فى الصلاة، فكاد يفتنني.
”میں نے نماز میں اس چادر کی دھاریوں کی طرف دیکھا، قریب تھا کہ یہ مجھے فتنے میں مبتلا کر دیتیں۔“
(مؤطأ الإمام مالك: 97/1، وسنده حسن)
ثابت ہوا کہ ہر وہ نقش دار چیز جو نماز میں غفلت کا باعث بنے، توجہ میں خلل انداز ہو، اس پر نماز پڑھنے سے اجتناب کرنا چاہیے، بصورت دیگر نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں۔