نفل نماز میں کتنی لمبی قرآت کی جاسکتی ہے؟

ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال :

نفل نماز میں کتنی لمبی قرآت کی جاسکتی ہے؟

جواب :

نفل نماز میں جتنی چاہے، لمبی قرآت کی جاسکتی ہے۔
❀ سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
صليت مع النبى صلى الله عليه وسلم ذات ليلة، فافتتح البقرة، فقلت : يركع عند المائة، ثم مضى، فقلت : يصلي بها فى ركعة، فمضى، فقلت : يركع بها، ثم افتتح النساء، فقرأها ، ثم افتتح آل عمران، فقرأها.
”ایک رات میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( تہجد کی) نماز پڑھی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورت بقرہ کی قرآت شروع کی ، میں نے سوچا کہ سو آیات پر رکوع کر دیں گے، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جاری رکھا، میں نے سوچا : سورت بقرہ مکمل ایک رکعت میں پڑھیں گے ، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآت جاری رکھی ، میں نے سوچا کہ سورت مکمل کر کے رکوع کر دیں گے، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سورت نساء شروع کر دی، اسے مکمل کیا ، پھر سورت آل عمران شروع کی اور اس کی بھی مکمل قرآت کی۔“
(صحیح مسلم : 772)
ابو سلمہ بن عبد الرحمن رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رمضان میں نماز کیسی تھی ؟ تو آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا:
ما كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يزيد فى رمضان ولا فى غيره على إحدى عشرة ركعة، يصلي أربعا، فلا تسأل عن حسنهن وطولهن، ثم يصلي أربعا، فلا تسأل عن حسنهن وطولهن، ثم يصلي ثلاثا، قالت عائشة : فقلت : يا رسول الله ، أتنام قبل أن توتر؟ فقال : يا عائشة، إن عيني تنامان ولا ينام قلبي.
”رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان اور غیر رمضان میں گیارہ رکعت سے زیادہ نماز نہیں پڑھتے تھے، چار رکعت پڑھتے ، ان کا حسن اور ان کی طوالت مت پوچھئے ، پھر چار رکعت پڑھتے ، طوالت اور حسن میں مثالی، پھر تین وتر پڑھتے ۔ میں نے پوچھا: اللہ کے رسول ! آپ وتر پڑھنے سے پہلے سو جاتے ہیں؟ فرمایا : عائشہ! میری آنکھیں سوتی ہیں مگر دل نہیں سوتا۔“
(صحيح البخاري : 1147 ، صحیح مسلم : 125/738)
❀ صحیح بخاری (1123) میں ہے:
يسجد السجدة من ذلك قدر ما يقرأ أحدكم خمسين آية، قبل أن يرفع رأسه.
”سجدہ اتنا طویل ہوتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سراٹھانے سے قبل پچاس آیات پڑھی جاسکتی ہیں۔“
❀ سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
لأرمقن صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم الليلة، فصلى ركعتين خفيفتين، ثم صلى ركعتين طويلتين طويلتين طويلتين، ثم صلى ركعتين، وهما دون اللتين قبلهما، ثم صلى ركعتين، وهما دون اللتين قبلهما ، ثم صلى ركعتين، وهما دون اللتين قبلهما، ثم صلى ركعتين وهما دون اللتين قبلهما ، ثم أوتر، فذلك ثلاث عشرة ركعة.
”میں نے عزم کیا کہ آج رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا مشاہدہ کروں گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو ہلکی سی رکعتیں پڑھیں، پھر دو رکعتیں بہت لمبی پڑھیں، پھر ان کی نسبت چھوٹی دو رکعتیں ادا کیں، بعد والی دو رکعتیں ان سے بھی چھوٹی تھیں، آئندہ دو رکعتیں ان سے بھی مختصر رہیں، آخری دو رکعت سب سے مختصر تھیں، پھر وتر ادا کیے۔ یہ کل تیرہ رکعات ہوئیں۔“
(صحیح مسلم : 765)
بعض سلف سے ایک رکعت میں مکمل قرآن پڑھنا بھی ثابت ہے۔
یادر ہے کہ جب قیام اللیل میں قرآت لمبی ہوتی تھی تو رکوع وسجود بھی لمبے ہوتے تھے۔

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سوشل میڈیا پر یہ مضمون فیچرڈ امیج کے ساتھ شئیر کرنے کے لیے یہ تصویر محفوظ کریں ⬇️