نفلی روزوں کے بارے میں صحیح نقطہ نظر

فونٹ سائز:
یہ اقتباس فضیلتہ الشیخ مُبشر احمد ربانی رحمہ اللہ کی کتاب احکام و مسائل رمضان سے ماخوذ ہے۔

نفلی روزوں کے بارے میں صحیح نقطہ نظر :۔

سوال :۔

رجب میں کچھ نفلی روزے رکھے جاتے ہیں، کیا وہ مہینے کے شروع میں ہوتے ہیں یا درمیان میں یا آخر میں؟

فتوی :۔

ماہ رجب کے روزوں کی فضیلت میں خاص طور پر کوئی حدیث نہیں آئی۔ سنن نسائی اور سنن ابی داؤد میں سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے ایک حدیث مروی ہے جسے امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ نے صحیح قرار دیا ہے۔ سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے عرض کی اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں آپ کو کسی مہینے میں اتنے روزے رکھتے نہیں دیکھتا جتنے روزے آپ صلی اللہ علیہ وسلم شعبان میں رکھتے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
ذلك شهر يغفل عنه الناس بين رجب ورمضان، وهو شهر ترفع فيه الأعمال إلى رب العالمين فأحب أن يرفع عملي وآنا صائم
”یہ رجب اور رمضان کے درمیان ایسا مہینہ ہے جس سے لوگ غفلت برتتے ہیں، حالانکہ یہ ایسا مہینہ ہے جس میں اعمال رب العالمین کے حضور پیش کئے جاتے ہیں۔ اس لئے میں پسند کرتا ہوں کہ جب میرے اعمال پیش ہوں تو میں روزے کی حالت میں ہوں۔“
(مسند احمد : 5/201 ، سنن نسائی : 4/201)
البتہ ہر مہینہ میں تین روزے رکھنے کی عمومی ترغیب آئی ہے۔ اور ہر قمری مہینہ کی تیرہ چودہ پندرہ تاریخ کا روزہ رکھنے کی ترغیب وارد ہے حرمت والے مہینوں (ذوالحجہ، محرم اور رجب) میں روزہ رکھنے اور سوموار اور جمعرات کا روزہ رکھنے کی ترغیب آئی ہے۔ ان میں رجب بھی شامل ہو جاتا ہے۔ اگر آپ ہر مہینے روزے رکھنا چاہتے ہیں تو ایام بیض کے تین روزے (13، 14، 15 تاریخ) یا سوموار اور جمعرات کا روزہ رکھا کریں۔ ورنہ اس میں گنجائش ہے۔ (یعنی نفلی روزہ کبھی بھی رکھا جا سکتا ہے) البتہ رجب کو خاص کر کے اس میں روزہ رکھنے کی کوئی شرعی بنیاد نہیں۔