مضمون کے اہم نکات
سوال
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
نفاس اور اس کے احکام
الجواب بعون الوهاب بشرطِ صحتِ سوال
وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
نفاس اور حیض کے احکام کی مماثلت
نفاس اور حیض کے احکام حلت و حرمت کے اعتبار سے ایک جیسے ہیں، مثلاً:
◈ حیض اور نفاس دونوں حالتوں میں شوہر کے لیے فرج میں جماع کے علاوہ بیوی سے دیگر قسم کا تمتع جائز ہے، لیکن جماع دونوں میں حرام ہے۔
◈ نماز اور روزہ دونوں حالتوں میں منع ہیں۔
◈ طلاق دینا، طوافِ کعبہ کرنا، قرآنِ مجید کی تلاوت کرنا اور مسجد میں ٹھہرنا ممنوع ہے۔
◈ حیض اور نفاس دونوں کے ختم ہونے پر غسل فرض ہے۔
◈ دونوں حالتوں میں چھوڑی گئی نماز کی قضا نہیں، البتہ روزے کی قضا لازم ہے۔
نفاس کی تعریف
◈ نفاس اس خون کو کہتے ہیں جو ولادت کے بعد رحم سے خارج ہوتا ہے۔
◈ یہ دراصل مدتِ حمل کے دوران رکا ہوا باقی ماندہ خون ہوتا ہے۔
نفاس کی زیادہ سے زیادہ مدت
◈ نفاس کے خون کی زیادہ سے زیادہ مدت چالیس (40) دن ہے۔
اسی بنا پر امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
"صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین اور ان کے بعد کے اہلِ علم کا اس بات پر اجماع ہے کہ نفاس والی عورت چالیس دن تک نماز ادا نہ کرے، البتہ اگر چالیس دن سے پہلے نفاس کا خون بند ہو جائے اور عورت کو اپنی طہارت کا یقین ہو جائے تو وہ غسل کرکے نماز ادا کرے۔” [جامع الترمذی، الطھارۃ، باب ما جاء فی کم تمکث النفساء، حدیث 139]
◈ نفاس کے خون کے بند ہونے اور غسل کے بعد عورت وہ تمام کام کر سکتی ہے جو نفاس کی وجہ سے ممنوع تھے۔
ناقص بچے کی ولادت کے بعد خون کا حکم
◈ اگر حاملہ عورت ایسا ناقص بچہ جنے جس کی شکل و صورت بن چکی ہو، اور اس کے فوراً بعد رحم سے خون خارج ہو، تو وہ خون نفاس شمار ہوگا۔
◈ واضح رہے کہ عام طور پر تین ماہ کے حمل میں انسانی تخلیق نمایاں ہو جاتی ہے، اور اس کی کم از کم مدت اکیاسی (81) دن بیان کی گئی ہے۔
خون کے لوتھڑے کے اخراج کا حکم
◈ اگر عورت کے رحم سے بچے کی بجائے صرف خون کا لوتھڑا خارج ہو، جس میں بچے کی تخلیق اور شکل و صورت واضح نہ ہو، تو:
✔ اس کے بعد آنے والا خون نفاس شمار نہیں ہوگا۔
✔ ایسی عورت نماز اور روزہ ترک نہیں کرے گی۔
✔ نفاس سے متعلق دیگر احکام بھی اس پر لاگو نہیں ہوں گے۔
اہم تنبیہ
یہاں ایک نہایت اہم مسئلے کی طرف توجہ دلانا ضروری ہے:
◈ بعض عورتیں رمضان المبارک کے روزوں کی تعداد مکمل کرنے یا حج کے مناسک پورے کرنے کے لیے مانعِ حیض گولیوں کا استعمال کرتی ہیں۔
◈ اگر ان گولیوں کا استعمال محض چند دن کے لیے ہو اور کسی وقتی مقصد کے حصول کے لیے ہو، تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
◈ لیکن اگر ان کا مقصد حیض کے خون کو ہمیشہ کے لیے بند کرنا ہو، تو شوہر کی اجازت کے بغیر ایسا کرنا درست نہیں، کیونکہ یہ عمل نسل کے خاتمے کا سبب بن سکتا ہے۔ [ایسا کرنا شرعاً ناجائز ہے الا یہ کہ کوئی اضطراری صورت پیدا ہو جائے (صارم)]
اختتامی کلمات
یہ نفاس سے متعلق چند بنیادی احکام تھے جو اجمالی طور پر بیان کیے گئے ہیں۔ مزید تفصیل کی یہاں گنجائش نہیں، تاہم اگر اس موضوع میں کسی خاص مسئلے میں اشکال ہو یا وضاحت درکار ہو تو اہلِ علم سے رجوع کیا جائے، ان شاء اللہ وہاں مکمل رہنمائی حاصل ہو جائے گی۔
ھذا ما عندی، والله أعلم بالصواب