مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

نفاس کے بعد چالیس دن سے زائد خون پر نماز روزہ کا حکم

فونٹ سائز:
ماخوذ : فتاویٰ ارکان اسلام
مضمون کے اہم نکات

نفاس کے خون کی مدت

سوال

نفاس والی عورت کا خون اگر چالیس دن کے بعد بھی جاری رہے تو کیا وہ نماز اور روزہ شروع کر دے؟

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اگر نفاس والی عورت کا خون چالیس دن مکمل ہونے کے بعد بھی بند نہ ہو اور اس میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہ آئے، تو اس صورت میں درج ذیل تفصیل کے مطابق عمل کیا جائے گا:

1. اگر چالیس دن کے بعد عورت کے ماہانہ ایام (حیض) اس کی سابقہ عادت کے مطابق شروع ہو چکے ہوں:

◈ ایسی حالت میں عورت کو بیٹھ جانا چاہیے، یعنی نماز اور روزہ شروع نہ کرے۔
◈ اس کی سابقہ عادت کی بنیاد پر یہ خون حیض شمار ہوگا، اس لیے عبادات سے رُکنا واجب ہوگا۔

2. اگر چالیس دن کے بعد بھی خون جاری ہے، لیکن اس کی سابقہ عادت کے مطابق ماہانہ ایام (حیض) شروع نہیں ہوئے:

◈ اس مسئلے میں علماء کے درمیان دو آراء پائی جاتی ہیں:

(الف) پہلا قول:

◈ بعض علماء کا کہنا ہے کہ:
◈ عورت کو غسل کر کے نماز اور روزہ شروع کر دینا چاہیے، چاہے خون جاری ہی کیوں نہ ہو۔
◈ کیونکہ ایسی صورت میں یہ خون استحاضہ شمار ہوگا، جس کا حکم حیض یا نفاس سے مختلف ہے۔

(ب) دوسرا قول:

◈ بعض علماء کی رائے یہ ہے کہ:
◈ عورت کو اسی حالت میں رہنا چاہیے اور ساٹھ دن مکمل ہونے تک انتظار کرنا چاہیے۔
◈ کیونکہ ایسی بھی عورتیں پائی گئی ہیں جن کا نفاس ساٹھ دن تک جاری رہا ہے۔
◈ جب ساٹھ دن مکمل ہو جائیں، تب:
◈ وہ اپنے معمول کے حیض کی طرف رجوع کرے گی۔
◈ اپنی سابقہ عادت کے مطابق حیض کے دنوں میں بیٹھے گی۔
◈ پھر غسل کر کے نماز اور روزہ شروع کرے گی، کیونکہ اب یہ خون استحاضہ شمار ہوگا۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔