نصف شعبان کے روزوں کا حکم

فونٹ سائز:
یہ اقتباس فضیلتہ الشیخ مُبشر احمد ربانی رحمہ اللہ کی کتاب احکام و مسائل رمضان سے ماخوذ ہے۔

نصف شعبان کے روزوں کا حکم :۔

فتوی :۔

ہر مہینہ میں ان تین دنوں کے روزے مستحب ہیں۔ خواہ یہ شعبان کے ہوں یا کسی اور مہینہ کے۔ جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو ان کا حکم دیا۔
(بخاری کتاب الصوم باب صوم الدہر: 1976 ، مسلم کتاب الصیام باب النہی عن صوم الدہر عن تضرر بہ : 1159)
نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوالدرداء رضی اللہ عنہ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو ان کی وصیت فرمائی۔ اور جو شخص بعض مہینوں میں یہ روزے رکھ لے۔ اور بعض میں چھوڑ دے یا کبھی رکھ لے اور کبھی چھوڑ دے تو بھی کوئی بات نہیں۔ کیونکہ یہ نفلی روزے ہیں، فرضی نہیں اور بہتر یہ ہے کہ اگر کسی کو میسر آسکے تو ہر ماہ ان دنوں کے روزے رکھتا رہے۔
(مسلم کتاب صلاۃ المسافرین باب استحباب صلاۃ الضحی : 722 بخاری کتاب الصوم باب صیام البیض : 1981)