سوال:
نصف شعبان کی رات کو بعض لوگ ”صلوٰة البراءة“ یا ”صلوٰة الالفيه“ ادا کرتے ہیں، بعض 100 رکعت نماز اور ہر رکعت میں 10 بار سورۃ الاخلاص پڑھتے ہیں، اس طرح ایک ہزار مرتبہ سورۃ الاخلاص پڑھی جاتی ہے۔ کیا ایسا عمل کسی صحیح حدیث سے ثابت ہے؟
جواب:
”صلوٰۃ البراءة“ یا ”صلوٰة الالفيه“ بدعت ہے، اس کا ثبوت کسی بھی صحیح روایت میں موجود نہیں۔ علامہ طاہر احمد پنی ہندی رقمطراز ہیں:
”شعبان کی نصف رات کو جو نماز الفیہ ادا کی جاتی ہے یہ بدعات میں سے ہے، جس میں سو رکعات میں سے ہر رکعت میں 10 بار ﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ﴾ پڑھی جاتی ہے اور لوگوں نے عیدوں سے زیادہ اس کا اہتمام کیا ہے۔ اس کے متعلق اخبار و آثار ضعیف یا موضوع ہیں۔ امام غزالی نے احیاء العلوم وغیرہ میں جو اس کا ذکر کیا ہے اس سے دھوکا نہ کھایا جائے اور نہ تغییر شعبی سے دھوکا کھائیں کہ شب قدر لیلۃ القدر ہے۔ اس نماز کی وجہ سے عوام الناس ایک عظیم فتنہ میں مبتلا ہو گئے ہیں، حتیٰ کہ اس کے سبب وہ چراغاں کثرت سے کرتے ہیں اور اس پر فسق و فجور اور عفت و عصمت دری کا ترتب رہتا ہے، جس کا ذکر نا قابل بیان ہے۔ یہ نماز سب سے پہلے بیت المقدس میں 448ھ میں ایجاد کی گئی ہے۔“
تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو تذکرۃ الموضوعات (ص 46، 45) لہٰذا ایسی کوئی نماز شریعت سے ثابت نہیں جس میں ہزار (1000) بار سورۃ الاخلاص تلاوت کی جائے اور اسے ”صلوٰة البراءة“ کا نام دیا جائے۔