نصف سال چرنے والے مویشیوں پر زکوٰۃ کا مکمل شرعی حکم

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاویٰ ارکان اسلام

نصف سال چرنے والے جانوروں پر زکوٰۃ کا حکم

سوال:

کیا ان مویشیوں پر زکوٰۃ واجب ہے جو صرف نصف سال تک گھاس چرتے ہوں؟

جواب:

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جو مویشی صرف نصف سال یا سال کے کچھ حصے تک گھاس چرتے رہیں، ان پر زکوٰۃ واجب نہیں ہے۔

❀ مویشیوں پر زکوٰۃ واجب ہونے کی شرط یہ ہے کہ وہ پورا سال یا سال سے زائد عرصے تک چرنے والے (سائمہ) ہوں۔

❀ اگر مویشی پورا سال یا سال سے زیادہ عرصہ چرا کرتے رہیں، تو ان میں زکوٰۃ واجب ہوگی۔

❀ لیکن اگر وہ صرف نصف سال یا سال کے کچھ حصہ تک چرنے والے ہوں، تو ان میں زکوٰۃ نہیں ہے۔

تجارت کی نیت ہو تو کیا حکم ہوگا؟

❀ اگر ایسے مویشی تجارت کے لیے رکھے گئے ہوں، تو ان پر سامانِ تجارت کی زکوٰۃ کا حکم لاگو ہوگا۔

❀ ایسی صورت میں:

◈ ہر سال ان مویشیوں کی بازاری قیمت کا اندازہ لگایا جائے گا۔

◈ پھر ان کی کل مالیت کا ڈھائی فیصد (2.5%) زکوٰۃ میں ادا کیا جائے گا۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب