نصب الراية میں ابن أبى ليلى کی ترک رفع یدین والی روایت

فونٹ سائز:
یہ اقتباس محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمه الله کی کتاب نور العینین فی اثبات رفع الیدین عند الرکوع و بعدہ فی الصلٰوۃ سے ماخوذ ہے۔

◈ترفع الأيدي والی روایت

عن ابن أبى ليلى عن نافع عن ابن عمر (رفعه قال:) ترفع الأيدي فى سبعة مواطن: عند افتتاح الصلوة واستقبال البيت والصفا والمروة والوقفين والجمرتين [نصب الراية 391/1]
رفع الیدین سات مقامات پر کیا جائے۔ ابتداء نماز کے وقت، بیت الله کی زیارت کے وقت، صفا اور مروہ پہاڑی پر قیام کے وقت، وقوف عرفہ اور مزدلفہ کے وقت، رمي الجمار کے وقت۔ (رفع الیدین کے خلاف ڈیروی صاحب کی کتاب ص 68)
جواب:
یہ روایت ضعیف ہے کیونکہ اس کا راوی محمد بن عبد الرحمن بن ابی لیلی، جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف ہے۔

راوی محمد بن عبد الرحمن بن ابی لیلی، جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف ہے۔ائمہ حدیث کے ان اقوال سے معلوم ہوا کہ علماء کی بہت بڑی اکثریت محمد ابن ابی لیلی کوضعیف ہی الحفظ اور کثیر الوہم کہتی ہے۔ بیہقی کے نزدیک وہ کثیر الخطاء تھے لہذا چند علماء کی توثیق مردود ہے۔ رہا بعض علماء کا اسے فقیہ قرار دینا تو یہ ثقاہت کی دلیل نہیں۔
زائدہ نے اسے فقیہ کہا اور پھر اس کی حدیث کو ترک کر دیا۔
ذہبی اور ہیثمی کے اقوال باہم متعارض ہیں لہذا ساقط ہیں۔ جن لوگوں نے اس کی توثیق کی ہے وہ اس کی ذات کے لحاظ سے ہے۔ یعنی ذاتی طور پر وہ سچا شخص تھا مگر بُرے حافظے اور کثرت اوہام و خطا کی وجہ سے ضعیف ٹھہرا۔

محمد بن ابی لیلی اور حنفی و غیر اہل حدیث حضرات

ابن ابی لیلیٰ کو حنفی اور غیر اہل حدیث حضرات نے بھی مجروح قرار دیا ہے۔
➊ طحاوی: مضطرب الحفظ جدا [مشكل الآثار 226/3]
➋ زیلعی: ضعيف [نصب الراية 1/318]
➌ ابن التركماني: ابن أبى ليلى متكلم فيه [الجوهر القى 347/7]
➍ النيموي: ليس بالقوي [آثار السنن: ح32 کا حاشیہ]
➎ خلیل احمد سہارنپوری دیوبندی: كثير الوهم (بذل الجهود ج3 ص 37)
➏ انور شاہ کشمیری دیوبندی صاحب محمد ابن ابی لیلی کے بارے میں فرماتے ہیں:
فهو ضعيف عندي كما ذهب إليه الجمهور
پس وہ میرے نزدیک ضعیف ہے اور جمہور کا بھی یہی فیصلہ ہے۔ (فیض الباری 168/3)
➐ محمد یوسف بنوری دیو بندی صاحب بھی محمد ابن ابی لیلی کو جمہور کے نزدیک ضعیف قرار دیتے ہیں۔ [معارف السفن 290/5]
نصب الراية میں ابن أبى ليلى کی ترک رفع یدین والی روایت – Noor-ul-Enain-Rafa-ul-Yadain-091 (1)
اسے محمد بن فضیل بن غزوان نے محمد بن عبد الرحمن بن ابی لیلی (ضعیف) سے موقوفا بیان کیا ہے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ج4 ص 96 ح 15747]
بعض راویوں نے ”ترفع الأيدي“ کے الفاظ بیان کئے ہیں۔
خلاصہ یہ کہ یہ روایت مرفوعاً موقوفاً لا ترفع اور ترفع سب الفاظ کے ساتھ ضعیف ہے۔

متن پر بحث:

اگر ہاتھ اُٹھا نا صرف ان سات مقامات پر ہی مقید ہے تو پھر رفع الیدین کی مخالفت کرنے والے لوگ قنوت، عیدین اور دعا میں کیوں ہاتھ اُٹھاتے ہیں؟
اگر ان مقامات کی تخصیص دیگر احادیث سے ثابت ہے تو رفع الیدین عند الرکوع و عند الرفع منہ کی تخصیص صحیحین وغیر ہما کی متواتر احادیث سے ثابت ہے۔
خود سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے صحیح متواتر احادیث کے ساتھ رفع الیدین کرنا ثابت ہے لہذا بعض الناس کا اس روایت باطلہ سے استدلال بھی باطل ہے۔
تنبیہ: رکوع سے پہلے اور بعد والے رفع الیدین کے منع، نسخ یا ترک پر ایک بھی صحیح (عند الجمہور) صریح حدیث موجود نہیں ہے۔ رفع یدین کی مخالفت کرنے والے لوگوں کی پیش کردہ روایات یا تو ضعیف ہیں اور یا مجمل و مبہم، جن کی زد سے وہ خود بھی نہیں بچ سکتے۔