نشہ، تعزیر، چوری اور ڈاکہ زنی کی سزائیں قرآن و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
ماخوذ: قرآن وحدیث کی روشنی میں فقہی احکام و مسائل، حدود و تعزیرات کے مسائل:جلد 02: صفحہ430
مضمون کے اہم نکات

نشہ کرنے والے کی سزا کا بیان

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

"مسكرُ” ‘اسكر’ سے اسمِ فاعل ہے۔ مسكرُ اس چیز کو کہا جاتا ہے جو اپنے پینے والے کو "سكران” یعنی بے ہوش یا مدہوش کردے۔ اصطلاح میں "سُکر” سے مراد عقل کا خلط ملط ہوجانا ہے، خواہ یہ کیفیت خمر سے پیدا ہو یا کسی اور نشہ آور چیز سے۔

خمر، یعنی نشہ دینے والی اشیاء کا استعمال حرام ہے۔ اس کی حرمت کتاب اللہ اور سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے، اور اس کے حرام ہونے پر علماء امت کا اجماع بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا إِنَّمَا الخَمرُ وَالمَيسِرُ وَالأَنصابُ وَالأَزلـٰمُ رِجسٌ مِن عَمَلِ الشَّيطـٰنِ فَاجتَنِبوهُ لَعَلَّكُم تُفلِحونَ ﴿٩٠﴾ إِنَّما يُريدُ الشَّيطـٰنُ أَن يوقِعَ بَينَكُمُ العَد‌ٰوَةَ وَالبَغضاءَ فِى الخَمرِ وَالمَيسِرِ وَيَصُدَّكُم عَن ذِكرِ اللَّهِ وَعَنِ الصَّلو‌ٰةِ فَهَل أَنتُم مُنتَهونَ ﴿٩١﴾… سورة المائدة
"اے ایمان والو! بات یہی ہے کہ شراب اور جوا اور تھان اور فال نکالنے کے پانسے کے تیر، یہ سب گندی باتیں، شیطانی کام ہیں ان سے بالکل الگ رہو تاکہ تم فلاح یاب ہو (90)شیطان تو یوں چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعے سے تمہارے آپس میں عداوت اور بغض واقع کرا دے اور اللہ تعالیٰ کی یاد سے اور نماز سے تم کو باز رکھے سواب بھی باز آجاؤ ” [المائدۃ 5/90۔91۔]

خمر ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو عقل کو ڈھانپ لے، خواہ وہ کسی بھی چیز سے تیار کی گئی ہو۔

احادیثِ نبویہ میں خمر کے بارے میں یہ حکم وارد ہوا ہے:

"كُلُّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ”
"ہر نشہ آور شے خمر ہے اور ہر خمر حرام ہے۔” [صحیح البخاری المغازی باب بعث ابی موسیٰ ومعاذ الی الیمن۔۔۔حدیث 4344،6124 وصحیح مسلم الاشربۃ باب بیان ان کل مسکر خمر وان کل خمر حرام،حدیث (75) 2003 واللفظ لہ۔]

ایک اور مقام پر فرمایا:

"كُلُّ شَرَابٍ أَسْكَرَ فَهُوَ حَرَامٌ”
"جو بھی مشروب نشہ دے وہ حرام ہے۔” [صحیح البخاری الوضوء باب لا یجوز الوضوء بالنبیذ ولا المسکر حدیث 242 وصحیح مسلم الاشربۃ باب بیان ان کل مسکر خمر وان کل خمر حرام حدیث 2001۔]

نیز سنن ابو داود کی روایت میں ہے:

"مَا أَسْكَرَ كَثِيرُهُ فَقَلِيلُهُ حَرَامٌ”
” ہر وہ شے جس کی زیادہ مقدار نشہ دے اس کی معمولی مقدار بھی حرام ہے۔” [سنن ابی داود الاشربۃ باب ماجاء فی السکر حدیث 3581۔]

اور وہ "خمر” یعنی شراب ہی کے حکم میں ہے۔ خمر جس صورت میں بھی ہو، چاہے انگور سے حاصل کی گئی ہو یا کسی اور چیز سے تیار کی گئی ہو، حرام ہے۔

سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:

"أَنَّ الْخَمْرَ مَا خَامَرَ الْعَقْلَ”
"جو شے عقل کو ڈھانپ لے اس کانام”خمر” ہے۔ [صحیح البخاری التفسیر باب قولہ "إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ” (المائدۃ 5/90) حدیث 4619۔]

جمہور اہلِ لغت کا بھی یہی قول ہے۔

شیخ الاسلام تقی الدین ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "صحیح بات یہ ہے کہ "حشیش” نجس شے ہے اور وہ حرام ہے، خواہ اس سے نشہ ہو یا نہ ہو۔ اگر وہ نشہ دے تو اس کے حرام ہونے میں تمام اہلِ اسلام کا اتفاق ہے۔ مزید یہ کہ بعض اعتبار سے اس کے نقصانات "خمر” سے بھی بڑھ کر ہیں۔ واضح رہے کہ "حشیش” اور اس کے خواص کا علم چھٹی صدی میں ہوا۔” [مجموع الفتاویٰ لشیخ الاسلام ابن تیمیہ 34/198۔ بتصرف۔]

① نشہ آور اشیاء کے معاشرتی نقصانات

حشیش، ہیروئن اور دوسری اقسام کی نشہ آور اشیاء کے استعمال نے مسلمانوں کی نوجوان نسل کو تباہی کے کنارے پہنچادیا ہے۔ ہمارے دشمن ان چیزوں کو ایک ہتھیار کے طور پر ہمارے خلاف استعمال کررہے ہیں۔ یہود اور ان کے ایجنٹ خاص طور پر ان اشیاء کو مسلمانوں میں پھیلانے میں سرگرم ہیں تاکہ مسلمان کمزور ہوجائیں، نوجوان نسل برباد ہوجائے، اور وہ معاشرے میں کسی تعمیری کردار کے قابل نہ رہیں۔ نہ اپنے دین کے لیے جہاد کرسکیں، اور نہ اس قابل رہیں کہ قوم اور وطن کے فسادیوں اور دشمنوں کا مقابلہ کرسکیں۔

یہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ کافر دشمنوں کی سازشوں کی وجہ سے حالات اس قدر خراب ہوچکے ہیں کہ بہت بڑی تعداد میں نوجوان نشے کے عادی بن چکے ہیں۔ وہ یا تو معاشرے پر بوجھ بن گئے ہیں یا جیلوں میں اپنی باقی زندگی گزار رہے ہیں۔ یہ سب اثرات مسلمان ممالک میں نشہ آور اشیاء کے عام ہوجانے کی وجہ سے ہیں۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ان تمام چیزوں سے محفوظ رکھے جو انسانی تباہی کا ذریعہ بنتی ہیں۔ لا حول وال قوۃ الا باللہ۔

② شراب ہر حال میں حرام ہے

شراب یعنی خمر ہر حال میں حرام ہے۔ اس کا استعمال خواہ لذت حاصل کرنے کے لیے ہو، دوا کے طور پر ہو، پیاس بجھانے کے لیے ہو، یا کسی اور غرض سے ہو، ہر صورت میں حرام ہے۔

③ علاج کے لیے بھی شراب اور نشہ آور چیزوں کا استعمال حرام ہے

علاج کی نیت سے بھی شراب یا دوسری نشہ آور اشیاء استعمال کرنا جائز نہیں، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:

"إِنَّهُ لَيْسَ بِدَوَاءٍ وَلَكِنَّهُ دَاءٌ”
"خمر دوا نہیں بلکہ داء(بیماری) ہے۔” [صحیح مسلم الاشربۃ باب تحریم التداوی بالخمر وبیان انھالیست بدواء حدیث 1984۔]

سیدنا ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا فتویٰ ہے:

” إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَجْعَلْ شِفَاءَكُمْ فِيمَا حُرِّمَ عَلَيْكُمْ "
"اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے اس شے میں شفا نہیں رکھی جو حرام ہے۔” [صحیح البخاری الاشربۃ باب شراب الحلواء والعسل بعد حدیث 5613 معلقاً جبکہ حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے اسےموصولاً ذکر کیا ہے۔دیکھئے تغلیق التعلیق 5/29۔]

④ پیاس بجھانے کے لیے بھی اس کا استعمال ناجائز ہے

اسی طرح پیاس بجھانے کے لیے بھی اسے استعمال کرنا حرام ہے، کیونکہ اس سے اصل مقصد حاصل نہیں ہوتا بلکہ پیاس کی شدت اور جسمانی حرارت اور زیادہ بڑھ جاتی ہے۔

⑤ نشہ آور مشروب پینے والے پر حد

جب کوئی مسلمان نشہ آور شے، مثلاً "یوڈی کلون” یا "الکحل” ملا مشروب پی لے، اور اسے اس کے نشہ آور ہونے کا علم بھی ہو، تو اس پر حد قائم کرنا لازم ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَاجْلِدُوهُ "
"جو شخص شراب وغیرہ پیے اسے کوڑے لگاؤ۔” [(ضعیف) سنن ابی داود الحدود باب اذا تتابع فی شرب الخمر:4485۔]

⑥ حدِ خمر کی مقدار

حدِ خمر کی مقدار اسی (80) کوڑے ہے، کیونکہ سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب لوگوں سے شراب کی حد کے بارے میں مشورہ لیا تو سیدنا عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رائے دی کہ اس کی کم از کم مقدار اسی (80) کوڑے ہونی چاہیے۔ چنانچہ سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسی (80) کوڑے مقرر کیے، پھر یہی حکم لکھ کر خالد اور ابو عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی طرف روانہ کیا، جو اس وقت شام میں تھے۔ [صحیح مسلم الحدود باب حد الخمر حدیث 1706 وسن ابی داود الحدود باب فی حدالخمر حدیث 4479۔]

اس تعزیری مقدار کا تعین مہاجرین و انصار صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کی موجودگی میں ہوا تھا، اور کسی نے اس کی مخالفت نہیں کی۔ علامہ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ کا بھی یہی نقطۂ نظر ہے۔ چنانچہ وہ فرماتے ہیں: "سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے شراب کی حد کو حدِ قذف کے برابر قرار دیا اور تمام صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے اس کی تائید کی۔” [اعلام الموقعین 1/161۔]

شیخ الاسلام رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "شراب کی حد سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اجماع سے چالیس کوڑے واضح ہوتی ہے، البتہ اگر لوگ شراب پینے سے باز نہ آئیں اور انہیں روکنے کے لیے حاکمِ وقت سزا میں اضافہ کردے تو اس کا یہ اقدام درست ہے۔” [مجموع الفتاوی 28/336 بتغیر۔]

⑦ حدِ خمر ثابت ہونے کا طریقہ

شراب وغیرہ کی حد لگانے کے لیے ضروری ہے کہ مجرم خود اقرار کرے، یا دو معتبر آدمیوں کی شہادت مل جائے۔

⑧ منہ سے بدبو آنے کی صورت میں حکم

علماء کے درمیان اس مسئلے میں اختلاف ہے کہ اگر کسی شخص کے منہ سے شراب وغیرہ کی بدبو آرہی ہو تو اس پر حد لگائی جائے گی یا نہیں؟ ایک قول یہ ہے کہ اس پر حد نہیں لگے گی بلکہ تعزیر ہوگی۔ دوسرا قول یہ ہے کہ اس پر حد لگائی جائے گی بشرطیکہ کوئی شک وشبہ نہ ہو۔ امام احمد رحمۃ اللہ علیہ سے بھی یہی منقول ہے، اور امام مالک رحمۃ اللہ علیہ اور ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اسی دوسرے قول کو اختیار کیا ہے۔

ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور سیدنا ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس شخص پر حد جاری کرنے کا فیصلہ کیا تھا جس کے منہ سے شراب کی بدبو آتی تھی، اور صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین میں سے کسی نے اس فیصلے سے اختلاف نہیں کیا۔

⑨ نشہ آور اشیاء کے استعمال کے خطرات

نشہ آور اشیاء کے استعمال میں بہت سے خطرات پوشیدہ ہیں۔ یہ ایک شیطانی ہتھیار ہے جس کے ذریعے سے شیطان مسلمانوں کو سخت نقصان پہنچاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿إِنَّما يُريدُ الشَّيطـٰنُ أَن يوقِعَ بَينَكُمُ العَد‌ٰوَةَ وَالبَغضاءَ فِى الخَمرِ وَالمَيسِرِ وَيَصُدَّكُم عَن ذِكرِ اللَّهِ وَعَنِ الصَّلو‌ٰةِ فَهَل أَنتُم مُنتَهونَ ﴿٩١﴾…سورة المائدة
"شیطان تو یوں چاہتا ہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعے سے تمہارے آپس میں عداوت اور بغض واقع کرا دے اور اللہ تعالیٰ کی یاد سے اور نماز سے تم کو باز رکھے سواب بھی باز آجاؤ ” [المائدۃ 5/91۔]

⑩ خمر ام الخبائث ہے

خمر ام الخبائث ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں دس اشخاص پر لعنت فرمائی ہے۔ چنانچہ ارشاد ہے:

"لَعَنَ اللَّهُ الْخَمْرَ وَشَارِبَهَا وَسَاقِيَهَا وَبَائِعَهَا وَمُبْتَاعَهَا وَعَاصِرَهَا وَمُعْتَصِرَهَا وَحَامِلَهَا وَالْمَحْمُولَةَ إِلَيْهِ "
"بے شک اللہ تعالیٰ نے شراب،اس کو کشید کرنےوالے،جس کے لیے کشیدگی کی گئی،اسے پینے والے،پلانے والے،اسے اٹھانے والے،جس کے لیے اٹھائی گئی ہو،اسے بیچنے والے،خریدنے والے اور اس کی قیمت کھانے والے(سب) پر لعنت کی ہے۔” [مسند احمد 2/71 والمستدرک للحاکم 4/144۔145۔حدیث 7228 واللفظ لہ۔]

مسلمانوں کو چاہیے کہ شراب اور دیگر نشہ آور اشیاء کی حقیقت کو سمجھیں، ان کے استعمال سے بچیں، مکمل احتیاط کریں، اور دلیری کے ساتھ ان لوگوں کا مقابلہ کریں جو مسلمانوں میں ان چیزوں کو پھیلاتے ہیں، بلکہ انہیں سخت سزا دی جائے، کیونکہ ان چیزوں کے نتیجے میں ہر برائی آسان ہوجاتی ہے۔ آدمی رذالت کے گڑھے میں جاگرتا ہے اور اس سے خیر کی امید ختم ہوجاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو اس کے شر اور تمام خطرات سے محفوظ رکھے۔

حدیث میں وارد ہے کہ قیامت کے قریب بعض لوگ شراب کو حلال سمجھیں گے اور اس کا نام بدل کر اسے پئیں گے، لہٰذا مسلمانوں کو چاہیے کہ ایسے فاسد لوگوں سے ہوشیار رہیں۔

تعزیر کے احکام

تعزیر کے لغوی معنی "روکنے” کے ہیں، اور اس میں "مدد کرنے” اور "ادب سکھانے” کے معنی بھی پائے جاتے ہیں، کیونکہ تعزیر کے ذریعے ظالم کو دوسروں کو ایذا پہنچانے سے روکا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:

﴿وَتُعَزِّروهُ وَتُوَقِّروهُ …﴿٩﴾… سورة الفتح
"(تاکہ) تم اس(نبی) کی مدد کرو اور اس کاادب کرو۔” [الفتح 9/48۔]

لہٰذا تعزیر کے معنی عزت وتوقیر کرنا بھی ہیں، اور تعزیر کے معنی سزا دینا بھی ہیں۔ گویا یہ لفظ ان الفاظ میں سے ہے جو دو متضاد معنی رکھتے ہیں۔ فقہی اصطلاح میں تعزیر سے مراد "ادب سکھانا” ہے۔ اس باب میں تعزیر کو یہ نام اس لیے دیا گیا ہے کہ سزا کے ذریعے انسان ناجائز کام سے رک جاتا ہے، اور اس اعتبار سے تعزیر توقیر کا سبب بھی بن جاتی ہے، کیونکہ جب کوئی شخص سزا کے نتیجے میں نامناسب اعمال و حرکات سے باز آجاتا ہے تو پھر اسے دوبارہ وقار اور عزت حاصل ہوجاتی ہے۔

① کن گناہوں میں تعزیر واجب ہوتی ہے

دینِ اسلام میں تعزیر ہر اس معصیت پر واجب ہوتی ہے جس کے ارتکاب سے نہ حد لازم آتی ہو اور نہ کفارہ۔ یہ کسی حرام کام کے ارتکاب کے سبب بھی ہوسکتی ہے اور کسی واجب کو چھوڑ دینے کی وجہ سے بھی۔ تعزیر میں مظلوم کی طرف سے سزا کا مطالبہ ضروری نہیں ہوتا۔ حاکم بغیر مطالبے کے بھی ظالم کو سزا دے سکتا ہے۔ تعزیر کا نفاذ، یا اس میں کمی بیشی، حاکم کی صوابدید پر موقوف ہے، کیونکہ جرائم کی نوعیت مختلف ہوتی ہے؛ بعض جرائم بڑے ہوتے ہیں اور بعض چھوٹے۔

② تعزیر میں متعین حد بندی نہیں

درست بات یہی ہے کہ تعزیر میں کوئی مقرر حد بندی نہیں ہوتی، لیکن جب معصیت اس قسم کی ہو جس کی شریعت نے سزا مقرر کی ہو، مثلاً زنا اور چوری، تو اس میں حد سے کم درجے کے جرم کی تعزیر حد تک نہیں پہنچے گی۔

③ بعض مصلحتوں میں تعزیر کے طور پر قتل بھی ہوسکتا ہے

اگر کسی مصلحت کا تقاضا ہو تو تعزیر میں قتل کی سزا بھی دی جاسکتی ہے، مثلاً جاسوس کو قتل کرنا، یا ایسے شخص کو قتل کرنا جو مسلمانوں کی جماعت میں انتشار و افتراق پیدا کررہا ہو، یا کوئی شخص کتاب اللہ اور سنتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی اور کی طرف لوگوں کو دعوت دے رہا ہو، یا کوئی اور ایسا جرم ہو جس کا علاج قتل کے بغیر ممکن نہ ہو، تو ایسی صورت میں تعزیر کے طور پر قتل کرنا درست ہوگا۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "یہ قول عدل وانصاف پر مبنی ہے۔ اس پر سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین رضوان اللہ عنھم اجمعین کی سنت دلالت کرتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو سو کوڑے مارنے کا حکم دیا جس نے اپنی بیوی کی لونڈی سے بیوی کی اجازت کے ساتھ جماع کیا تھا۔” [دیکھئے سنن ابی داود الحدود باب فی الرجل یزنی بجاریۃ امراتہ حدیث 4451 وجامع الترمذی الحدود باب ماجاء فی الرجل یقع علی جاریۃ امراتہ حدیث 1451۔]

سیدنا ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک مرد اور ایک عورت کو سو سو کوڑے مارنے کا حکم دیا تھا جو ایک ہی لحاف میں پائے گئے تھے۔ اسی طرح سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے صبیغ کی سخت پٹائی کی تھی۔ واضح رہے کہ صبیغ وہ شخص تھا جو قرآن کے متشابہات کے بارے میں گفتگو کرکے لوگوں میں دینی شکوک وشبہات پھیلایا کرتا تھا۔ [مجموع الفتاویٰ 28/108۔]

شیخ الاسلام رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "جب فساد کو روکنا مقصود ہو اور وہ قتل ہی سے ممکن ہو تو قتل کرنا جائز ہے، مثلاً اگر کوئی شخص ایسی خرابی وفساد کا باعث بن رہا ہو کہ مقررہ حدود لگانے سے بھی باز نہ آتا ہو، تو اس کی سزا قتل ہی ہے۔ جیسے حملہ آور کو اگر قتل کیے بغیر روکا نہ جاسکتا ہو تو اسے قتل کرنا جائز ہے۔” [الفتاویٰ الکبریٰ الاختیارات العلمیۃ الحدود 5/530۔]

④ کم از کم تعزیر کی کوئی حد مقرر نہیں

کم از کم تعزیر کی بھی کوئی حد بندی نہیں، کیونکہ جرائم کی نوعیت احوال اور اوقات کے لحاظ سے مختلف ہوتی ہے۔ کوئی جرم شدید ہوتا ہے اور کوئی کم درجے کا۔ لہٰذا ایسے جرائم کی سزا حاکم اپنے اجتہاد سے، ضرورت اور مصلحت کے مطابق متعین کرے گا۔ تعزیر کی بہت سی صورتیں ہوسکتی ہیں، مثلاً کسی کو مارپیٹ کی سزا دینا، قید کردینا، تھپڑ مارنا، ڈانٹ پلانا یا سرکاری منصب سے معزول کردینا وغیرہ۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "کبھی تعزیر بے عزتی کی صورت میں بھی ہوتی ہے، مثلاً کسی جرم کے مرتکب کو یہ کہا جائے: اے ظالم! یا اے زیادتی کرنے والے! یا اسے مجلس سے اٹھا دیا جائے، یا ڈانٹ ڈپٹ کی جائے۔” [الفتاویٰ الکبریٰ الاختیارات العلمیۃ الحدود 5/530۔]

⑤ تعزیر میں دس کوڑوں والی حدیث

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

"لا يجلد أحد فوق عشرة أسواط إلا في حد من حدود الله "
"کسی کو دس کوڑوں سے زیادہ نہ مارے جائیں الا یہ کہ وہ حدود الٰہی میں سے کوئی حد پامال کرنے والا ہو۔” [صحیح البخاری الحدود باب کم التعزیر والادب؟حدیث 6848۔6850 وصحیح مسلم الحدود باب قدر اسواط التعزیر حدیث 1708 واللفظ لہ۔]

جن اہلِ علم نے تعزیر میں دس کوڑوں سے زیادہ مارنے کی اجازت دی ہے، انہوں نے مذکورہ بالا حدیث کا یہ جواب دیا ہے کہ یہاں معصیت کی سزا کا ذکر ہے، نہ کہ شرعی حدود کا، اور اس باب میں محرمات کے ارتکاب کی سزا مراد ہے جو مصلحت اور جرم کی مقدار کے مطابق مقرر کی جائے گی۔

⑥ تعزیر میں مثلہ اور حرام طریقے جائز نہیں

تعزیر میں مجرم کا کوئی عضو کاٹ دینا، اسے زخمی کرنا یا اس کی داڑھی مونڈ دینا جائز نہیں، کیونکہ یہ مثلہ ہے اور مثلہ ممنوع ہے۔ اسی طرح تعزیر میں حرام طریقے اختیار کرنا بھی جائز نہیں، مثلاً شراب پلانا وغیرہ۔

⑦ مسلسل لوگوں کو ایذا دینے والے کی سزا

جو شخص مسلسل لوگوں کو تکلیف دینے یا ان کے مال کو نقصان پہنچانے میں مشہور ہوچکا ہو، اسے جیل میں بند کردیا جائے حتیٰ کہ وہ وہیں مرجائے یا توبہ کرلے۔

ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "ایسے مجرم کو لازمی طور پر قید کیا جائے۔ اس مسئلے میں متعدد علماء کی یہی رائے ہے، لہٰذا اس میں اختلاف کرنا جائز نہیں۔ اس میں مسلمانوں کی خیر خواہی ہے، کیونکہ ظالم کے ظلم سے لوگوں کو محفوظ رکھا گیا ہے۔”

امام موصوف آگے فرماتے ہیں: "نظامِ سلطنت کی کامیابی کا راز یہ ہے کہ اسے احتیاط اور دانشمندی سے چلایا جائے۔ اس کے لیے ایسے حکمرانوں کی ضرورت ہے جو شرعی احکام کو نافذ کرنے والے ہوں، ان کی مخالفت کرنے والے نہ ہوں۔ جب کسی مملکت میں عدل وانصاف کی نشانیاں نمایاں ہوجائیں تو سمجھ لو کہ وہاں شریعتِ الٰہی کا اتمام ہوگیا ہے۔ یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ "سیاست عادلہ” شریعت کے ارشادات اور منشا کے خلاف ہے، بلکہ وہ شریعت کے مطابق ہے، بلکہ اس کے اجزاء میں سے ایک جز ہے۔ اسے سیاست کا نام اس لیے دیا جاتا ہے کہ یہ موجودہ دور کی اصطلاح ہے، ورنہ حقیقت میں یہ شریعت ہی ہے۔” [اعلام الموقعین 4/349۔350 بتصرف۔]

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مشکوک شخص کو قید میں رکھا، اور شک کی بنیاد پر ایک شخص کو سزا بھی دی، کیونکہ قرائن سے وہ مجرم دکھائی دیتا تھا۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ شعبدہ باز لوگوں کے متعلق فرماتے ہیں: "سانپ پکڑنے والا، یا آگ میں داخل ہونے والا، یا جو شخص اس قسم کی شعبدہ بازی کرتا ہے، وہ قابلِ تعزیر ہے۔” [الفتاویٰ الکبریٰ الاختیارات العلمیۃ الحدود 5/534۔]

⑧ بعض الفاظ سے اذیت پہنچانے والے کا حکم

جو شخص کسی مسلمان کو "مُسلا” کہہ کر اذیت دے، یا کسی ذمی کو "حاجی صاحب” کہے، یا جو شخص کسی مزار اور عرس وغیرہ سے آنے والے کو حاجی کہہ کر پکارے اور سمجھے، وہ قابلِ تعزیر ہے۔

⑨ جھوٹا دعویٰ کرنے والے کی سزا

اگر کسی مدعی نے اپنے دعوے کے ذریعے مدعاعلیہ کو تکلیف پہنچائی، پھر معلوم ہوگیا کہ مدعی جھوٹا تھا، تو وہ تعزیر کا مستحق ہے۔ نیز اس نے ظلم کے ذریعے جو کچھ لیا تھا، وہ چیز یا اس کا بدل بطور تاوان ادا کرنا ہوگا، کیونکہ وہ ظلم کا سبب بنا ہے۔

چوری کی حد کا بیان

کسی مال کو اس طرح خفیہ طور پر اٹھانا کہ مالک یا اس کا نائب اس سے بے خبر ہو۔ پھر مال اٹھانے والا اسلامی احکام کا تابع مسلمان یا ذمی ہو، اور وہ مال اس قدر ہو کہ مقررہ نصاب تک پہنچتا ہو، اور وہ مال کسی محفوظ جگہ سے اٹھایا گیا ہو، یعنی شارع عام پر پڑا نہ ہو، اور مالک ایسا ہو کہ مال اٹھانے والے کو اس میں اپنے استحقاق کا کوئی شبہ نہ ہو۔ جب یہ شرائط جمع ہوجائیں تو یہ چوری ہوگی، اور اسی کی بنا پر ہاتھ کاٹا جائے گا۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿وَالسّارِقُ وَالسّارِقَةُ فَاقطَعوا أَيدِيَهُما جَزاءً بِما كَسَبا نَكـٰلًا مِنَ اللَّهِ وَاللَّهُ عَزيزٌ حَكيمٌ ﴿٣٨﴾… سورةالمائدة
"چوری کرنے والے مرد اور عورت کے ہاتھ کاٹ دیاکرو۔یہ بدلہ ہے اس کا جو انھوں نے کیا(اور) عذاب اللہ کی طرف سے(ہے) اور اللہ قوت وحکمت والاہے۔” [المائدۃ:5/38۔]

اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:

"لَا تُقْطَعُ يَدُ السَّارِقِ إِلَّا فِي رُبْعِ دِينَارٍ فَصَاعِدًا”
"چور کا ہاتھ دینار کے چوتھائی حصے یا اس سے زیادہ چوری کرنے پرکاٹا جائے گا۔” [صحیح البخاری الحدود باب قول اللہ تعالیٰ(وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا) (المائدۃ 5/38) حدیث 6789،6790۔]

مختصر طور پر یہ بات ہے کہ مسلمانوں کا اس پر اجماع ہے کہ چور کا ہاتھ وجوبی طور پر کاٹا جائے گا۔

① چور معاشرے کا فاسد عنصر ہے

چور انسانی معاشرے میں ایک فاسد عنصر ہے۔ اگر اسے آزاد چھوڑ دیا جائے تو اس کا بگاڑ قوم کے جسم میں آہستہ آہستہ سرایت کرتا جائے گا۔ اس لیے اسے مناسب سزا کے ذریعے روکنا نہایت ضروری ہے۔ اسی بنا پر اللہ تعالیٰ نے اس کا ہاتھ کاٹنا مشروع قرار دیا ہے۔ یہ ظالم ہاتھ اس چیز کی طرف بڑھا جس کی طرف بڑھنا اس کے لیے جائز نہ تھا۔ یہ ہاتھ تخریب کا سبب بنا، تعمیر کا نہیں۔ یہ ہاتھ اشیاء اٹھانے والا ہے، دوسروں کو دینے والا نہیں۔

② چوری کب کہلائے گی اور کن صورتوں میں ہاتھ کاٹا جائے گا

اب تفصیل کے ساتھ بیان کیا جاتا ہے کہ چوری کا اطلاق کب ہوگا اور کن صورتوں میں اس کے مرتکب کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ اگر ان میں سے ایک شرط بھی نہ پائی جائے تو ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ وہ صورتیں یہ ہیں:

1۔ مال خفیہ طور پر اٹھایا گیا ہو

آدمی نے مال خفیہ طریقے سے اٹھایا ہو۔ اگر اس نے مال خفیہ طور پر نہیں اٹھایا تو اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ مثلاً کوئی شخص ڈاکہ ڈالے اور کسی کا مال زبردستی چھین لے یا سرعام اٹھا کر لے جائے، تو یہ چوری نہیں کہلائے گی، کیونکہ مال کا مالک غاصب کا ہاتھ پکڑ سکتا تھا یا دوسروں سے اس کے خلاف مدد لے سکتا تھا۔ ڈاکے کی حد کا ذکر آگے آئے گا۔

امام ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "ہاتھ کاٹنے کا شرعی حکم چور سے متعلق ہے، غاصب یا لوٹ مار کرنے والے سے نہیں، کیونکہ چور سے مال بچانا ممکن نہیں ہوتا۔ وہ گھروں میں نقب لگاتا ہے، محفوظ مقام میں ناجائز داخل ہوتا ہے اور بند تالے توڑتا ہے۔ اگر ایسے شخص کا ہاتھ نہ کاٹا جائے تو دوسرے لوگ بھی ایک دوسرے کا مال چوری کرنے لگ جائیں گے، نقصانات بڑھ جائیں گے، اور پریشانیاں شدت اختیار کرجائیں گی۔”

"الافصاح” کے مصنف نے لکھا ہے: "علماء کا اتفاق ہے کہ لوٹ مار اور غصب کرنے والوں کا جرم بڑا ہونے کے باوجود ان کا ہاتھ نہیں کاٹا جاتا۔” البتہ ایسے لوگوں کو ظلم وزیادتی سے روکنے کے لیے مارا جائے، لمبی قید دی جائے یا عبرتناک سزا دی جائے۔

2۔ مال حرمت والا اور جائز ہو

ہاتھ کاٹنے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ چوری کردہ مال حرمت والا اور جائز ہو۔ اگر وہ جائز مال نہ ہو تو وہ قابلِ حرمت نہیں، لہٰذا اس میں ہاتھ کاٹنے کا حکم نہیں، مثلاً لہو ولعب کے آلات، شراب، خنزیر اور مردار وغیرہ۔ اگر وہ جائز مال ہو لیکن قابلِ حرمت نہ ہو، تو اس میں بھی ہاتھ کاٹنے کا حکم نہیں، مثلاً حربی کافر کا مال۔ ایسے شخص کے مال پر قبضہ کرنا بلکہ اسے قتل کردینا بھی جائز ہے۔

3۔ مال نصاب کے برابر ہو

چوری کردہ مال مقررہ نصاب کے برابر ہو، یعنی اسلامی حساب سے تین درہم یا ایک دینار کا چوتھا حصہ، یا اس کی قیمت کے برابر موجودہ کرنسی ہو، یا چوری کردہ سامان کی قیمت اس نصاب کے برابر ہو، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"لا تقطع اليد إلا في ربع دينار فما فوقه”
"دینار کے چوتھے حصے سے کم چوری میں کسی کاہاتھ نہ کاٹا جائے۔” [صحیح مسلم الحدود باب حد السرقۃ ونصابھا حدیث 1684۔]

واضح رہے کہ اس وقت، یعنی عہدِ نبوی میں، دینار کی چوتھائی تین درہم کے برابر تھی۔

③ نصاب مقرر کرنے کی حکمت

چور کا ہاتھ کاٹنے کے لیے یہ نصاب مقرر کرنے میں یہ حکمت ہے کہ مال کی یہ مقدار ایک درمیانے درجے کی معیشت رکھنے والے شخص اور اس کے زیرِ کفالت افراد کے لیے ایک وقت گزارنے کے لیے کافی ہوجاتی ہے۔

④ ہاتھ کی عظمت اور خیانت کی ذلت

ذرا غور کیجیے! جس ہاتھ کی قیمت پانچ سو دینار تھی، وہی ہاتھ دینار کے چوتھے حصے کے بدلے میں کاٹ دیا گیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب وہ ہاتھ امانت دار تھا تو قیمتی تھا، اور جب وہ خیانت کا مرتکب ہوا تو بے وقعت ہوگیا۔ اسی وجہ سے بعض ملحد لوگوں، جیسے معری وغیرہ نے چور کی سزا پر اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے:

يدٌ بِخَمْسِ مِئِين عَسجد فُديت
ما بالها قُطّعت في ربع دينارِ

"جس ہاتھ کی قیمت(بصورت دیت) پانچ سو دینار تھی تعجب ہے کہ وہ دینار کے چوتھے حصے کے عوض کاٹ دیا گیا۔”

بعض علماء نے اس اعتراض کا یہ جواب دیا ہے:

عز الأمانة أغلاها وأرخصها
ذل الخيانة فأفهم حكمة الباري

"نادان! باری تعالیٰ کی حکمت کو سمجھ! دیانتداری کی عزت نے اسے نہایت قیمتی بنایا تھا لیکن خیانت کی رسوائی نے اسے سستا اور بے وقعت کردیا۔”

5۔ مال محفوظ جگہ سے چوری کیا گیا ہو

جس چوری کے نتیجے میں ہاتھ کاٹا جائے گا، اس کی ایک شرط یہ بھی ہے کہ چوری کردہ مال کسی محفوظ جگہ سے اٹھایا گیا ہو، مثلاً وہ چیز کسی گھر، دوکان یا محفوظ عمارت کے بند دروازوں کے پیچھے یا تالے لگے ہوئے کمرے کے اندر رکھی گئی ہو۔ یاد رہے کہ حفاظت کے طریقے مختلف علاقوں کے اعتبار سے مختلف ہوسکتے ہیں۔ اگر مال ایسی جگہ سے اٹھایا گیا ہو جو چار دیواری یا کسی محفوظ مقام میں نہ تھی، تو ایسی صورت میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔

6۔ استحقاق کا شبہ نہ ہو

اگر کسی کا خیال ہو کہ فلاں مال میں اس کا استحقاق ہے، پھر اسی شبہے میں وہ اسے اٹھا لے، تو اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"ادْرَءُوا الْحُدُودَ عَنْ الْمُسْلِمِينَ مَا اسْتَطَعْتُمْ”
"جہاں تک ہوسکے مسلمانوں پر شبہات کی بنا پر حدود نافذ نہ کرو۔” [(ضعیف) جامع الترمذی الحدود باب ماجاء فی درء الحدود حدیث 1424 وسنن ابن ماجہ الحدود باب الستر علی المؤمن ودفع الحدود بالشبھات حدیث 2545۔]

لہٰذا اگر بیٹا باپ کے مال میں سے کچھ چرا لے، یا باپ بیٹے کے مال سے خفیہ طور پر کچھ لے لے، تو کسی کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، کیونکہ ہر ایک کے مال میں دوسرے کا ایک حق موجود ہوتا ہے، اور یہی شبہ حد کو ساقط کردیتا ہے۔ اسی طرح اگر کسی شخص کا دوسرے کے مال میں کوئی حق ہو، پھر وہ اسے بلااجازت اٹھالے، تو وہ چور قرار نہیں پائے گا اور اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، البتہ یہ فعل ناجائز ضرور ہے، جس کی وجہ سے وہ تعزیر کا مستحق ہوگا، اور اس سے مال واپس لیا جائے گا۔

7۔ چوری ثابت کرنے کا طریقہ

مذکورہ بالا شرائط کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ چوری ثابت ہو، اور اس کے لیے دو معتبر آدمیوں کی شہادت موجود ہو جو چوری کی کیفیت اور چوری شدہ مال کی حالت کو پوری وضاحت سے بیان کریں، تاکہ واقعے کی سچائی میں کوئی شک وشبہ باقی نہ رہے۔ یا پھر مجرم خود چوری کا دو مرتبہ اقرار واعتراف کرلے۔ چنانچہ سنن ابی داود میں روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک چور پیش کیا گیا۔ اس نے ایک مرتبہ چوری کا اعتراف کیا، جبکہ چوری شدہ مال اس کے پاس نہ تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"مَا إِخَالُكَ سَرَقْتَ ؟ قَالَ بَلَى. فَأَعَادَ عَلَيْهِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا فَأَمَرَ بِهِ فَقُطِعَ "
"میرا خیال ہے کہ تم نے چوری نہیں کی ہوگی۔اس نے کہا:کیوں نہیں!(مجھ سے یہ کام یقیناً سرزد ہوا ہے۔) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو یاتین مرتبہ اپنی اسی بات کو دہرایا تو بالآخر آپ نے حکم دیا اور اس کا ہاتھ کاٹ دیاگیا۔” [ (ضعیف) سنن ابی داود الحدود باب فی التلقین فی الحد حدیث 4380۔]

مجرم کا ہاتھ کاٹنے سے پہلے ضروری ہے کہ اس کا اعتراف صاف اور واضح الفاظ میں ہو، یہاں تک کہ اس میں کسی شک وشبہ یا احتمال کی گنجائش باقی نہ رہے۔ ہوسکتا ہے کہ اس نے مال ایسی صورت میں لیا ہو جس کے بارے میں وہ سمجھتا ہو کہ اس سے ہاتھ کاٹنا لازم آتا ہے، حالانکہ وہ حقیقت میں ہاتھ کاٹنے والی صورت نہ ہو۔ اسی طرح حاکم کو مذکورہ شرائط کے پائے جانے یا نہ پائے جانے کا بھی علم ہونا چاہیے۔

جس شخص کا مال چوری ہوا ہو، اس پر لازم ہے کہ معلوم ہونے کے بعد چور سے اپنے مال کی واپسی کا مطالبہ کرے۔ اگر وہ ایسا نہیں کرے گا تو چور کا ہاتھ کاٹنا لازم نہیں ہوگا، کیونکہ مالک کے مباح کردینے سے وہ مال ملزم کے لیے مباح ہوسکتا ہے۔ جب مطالبہ ہی نہ ہو تو یہ احتمال پیدا ہوگا کہ اس نے چور کو وہ مال لینے کی اجازت دے دی ہے، اور یہ شبہ حد کے نفاذ سے مانع ہے۔

⑤ ہاتھ کاٹنے کا طریقہ

جب مذکورہ شرائط اور تقاضے مکمل ہوجائیں تو مجرم کا دایاں ہاتھ کاٹا جائے گا، کیونکہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قراءت میں ہے:

"فَاقْطَعُوا أَيْمَانهمَا”
دونوں(مرد یا عورت) کے دائیں ہاتھ کاٹو۔” [تفسیر الطبری المائدۃ 5/38۔رقم 9308۔]

دایاں ہاتھ کلائی کے جوڑ سے کاٹا جائے گا، کیونکہ یہی حصہ چوری کا آلہ بنا تھا، اس لیے سزا بھی یہی ہے کہ اسے ختم کردیا جائے۔ کلائی کے جوڑ تک کاٹنے پر اس لیے اکتفا کیا گیا ہے کہ لفظ "ید” مطلق طور پر بولنے سے عموماً ہاتھ اسی حد تک مراد ہوتا ہے۔ ہاتھ کاٹنے کے بعد زخم کا مناسب علاج کیا جائے گا تاکہ خون بند ہوجائے اور ایسا نہ ہو کہ اس کے نتیجے میں اس کی موت واقع ہوجائے۔

ڈاکہ زنی کی حد کا بیان

اللہ تعالیٰ یہ چاہتا ہے کہ اس کی زمین پر مسلمان اپنے باہمی مصالح اور منافع کے تبادلے، اموال میں اضافے، ایک دوسرے سے صلہ رحمی، نیکی اور تقویٰ میں باہم تعاون کے لیے امن وسکون کے ساتھ چلیں پھریں، اور خصوصاً حج کے سفر میں ایک دوسرے کی مصلحتوں کا لحاظ رکھیں۔ وہ محبت وپیار کے ساتھ زندگی گزاریں تاکہ حج اور عمرہ جیسی عظیم عبادات کو اچھے انداز سے ادا کرسکیں۔

جو شخص مسلمانوں کی زندگی میں مشکلات پیدا کرتا ہے، ان کی راہیں روکتا ہے، اور سفروں میں خوف وہراس پھیلاتا ہے، تو ایسے شخص کو روکنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے سخت سزا مقرر فرمائی ہے۔ چنانچہ ارشاد ہے:

﴿إِنَّما جَز‌ٰؤُا۟ الَّذينَ يُحارِبونَ اللَّهَ وَرَسولَهُ وَيَسعَونَ فِى الأَرضِ فَسادًا أَن يُقَتَّلوا أَو يُصَلَّبوا أَو تُقَطَّعَ أَيديهِم وَأَرجُلُهُم مِن خِلـٰفٍ أَو يُنفَوا مِنَ الأَرضِ ذ‌ٰلِكَ لَهُم خِزىٌ فِى الدُّنيا وَلَهُم فِى الءاخِرَةِ عَذابٌ عَظيمٌ ﴿٣٣﴾ إِلَّا الَّذينَ تابوا مِن قَبلِ أَن تَقدِروا عَلَيهِم فَاعلَموا أَنَّ اللَّهَ غَفورٌ رَحيمٌ ﴿٣٤﴾… سورة المائدة
"جو اللہ تعالیٰ سے اور اس کے رسول سے لڑیں اور زمین میں فساد کرتے پھریں ان کی سزا یہی ہے کہ وه قتل کر دیئے جائیں یا سولی چڑھا دیئے جائیں یا مخالف جانب سے ان کے ہاتھ پاوں کاٹ دیئے جائیں، یا انہیں جلاوطن کر دیا جائے، یہ تو ہوئی ان کی دنیوی ذلت اور خواری، اور آخرت میں ان کے لئے بڑا بھاری عذاب ہے (33) ہاں جو لوگ اس سے پہلے توبہ کر لیں کہ تم ان پر قابو پالو تو یقین مانو کہ اللہ تعالیٰ بہت بڑی بخشش اور رحم و کرم والاہے” [المائدۃ 5/33۔34۔]

① محاربین سے مراد کون ہیں

آیت میں مذکور محاربین سے مراد وہ لوگ ہیں جو زمین میں فساد اور بگاڑ پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ راستوں میں ناکے لگاکر لوگوں کو لوٹتے ہیں، صحراؤں یا شہروں میں لوگوں کے سامنے آکر ان کے اموال چھینتے ہیں۔ یہ چوری نہیں بلکہ علی الاعلان لوگوں کا مال اٹھانا اور چھیننا ہے۔

② ڈاکہ زنی کی حد ثابت ہونے کی شرط

ایسے شخص پر حد تب لگے گی جب وہ بقدر نصابِ سرقہ مال چھین لے یا اسے محفوظ جگہ سے اٹھالے، یا کسی قافلے میں موجود آدمی سے مال چھین لے، اور اس کی ڈاکہ زنی اس کے اپنے اقرار سے ثابت ہو، یا دو قابلِ اعتماد آدمیوں کی گواہی سے ثابت ہوجائے۔

③ ڈاکہ زنی کرنے والوں کی سزائیں ان کے جرم کے مطابق مختلف ہیں

ڈاکہ زنی کرنے والوں کی سزائیں ان کے جرائم کی مختلف نوعیت کے باعث مختلف ہوں گی:

جس نے ڈاکہ زنی میں قتل بھی کیا اور مال بھی لوٹا، اسے لازماً قتل کیا جائے گا اور سرعام سولی پر لٹکایا جائے گا تاکہ لوگ عبرت حاصل کریں۔ اس سے درگزر بالکل جائز نہیں۔ علامہ ابن منذر رحمۃ اللہ علیہ کے مطابق اس مسئلے پر علماء کا اتفاق ہے۔

جس نے صرف قتل کیا اور مال نہ اٹھایا، اسے صرف قتل کیا جائے گا، سولی پر لٹکانے کی ضرورت نہیں۔

جس نے صرف مال لوٹا لیکن مال کے مالک کو قتل نہیں کیا، اس کا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹا جائے گا، پھر خون بند کرنے کے لیے مرہم پٹی کرکے اسے چھوڑ دیا جائے گا۔

جس نے صرف راستے میں خوف وہراس پیدا کیا، نہ قتل کیا اور نہ مال لوٹا، تو اسے علاقہ بدر کیا جائے گا اور کسی جگہ دیر تک ٹھہرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

الغرض جرائم مختلف ہونے کی وجہ سے سزائیں بھی مختلف ہوجاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿إِنَّما جَز‌ٰؤُا۟ الَّذينَ يُحارِبونَ اللَّهَ وَرَسولَهُ وَيَسعَونَ فِى الأَرضِ فَسادًا أَن يُقَتَّلوا أَو يُصَلَّبوا أَو تُقَطَّعَ أَيديهِم وَأَرجُلُهُم مِن خِلـٰفٍ أَو يُنفَوا مِنَ الأَرضِ …﴿٣٣﴾… سورة المائدة
"ان کی سزا جو اللہ سے اور اس کےرسول سے لڑیں اورزمین میں فساد کرتے پھریں یہی ہے کہ وہ قتل کردیے جائیں یا سولی چڑھا دیے جائیں یامخالف جانب سے ان کےہاتھ پاؤں کاٹ دیے جائیں یا جلاوطن کردیا جائے۔” [المائدۃ 5/33۔]

سلف صالحین کی اکثریت کی یہی رائے ہے کہ یہ آیت ڈاکہ زنی کرنے والوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: "ڈاکو جب قتل کریں اور مال لوٹ لیں تو انہیں قتل کیا جائے گا اور سولی دی جائے گی۔ اگر صرف قتل کریں اور مال نہ لوٹیں تو قتل کیا جائے گا مگر سولی نہ دی جائے گی۔ جب وہ مال چھین لیں اور قتل نہ کریں تو ان کے ہاتھ پاؤں مخالف سمت میں کاٹ دیے جائیں۔ اور اگر صرف خوف وہراس پیدا کریں اور مال وغیرہ نہ لوٹیں تو انہیں علاقہ بدر کیا جائے گا۔” [کتاب الام للامام الشافعی 8/80۔]

④ بعض نے قتل کیا ہو تو سب کے بارے میں حکم

اگر ڈاکہ زنی کرنے والوں میں سے بعض نے قتل کیا ہو تو سب کو قتل کیا جائے گا۔ اور اگر کچھ افراد نے قتل کیا اور کچھ نے مال لوٹا، تب بھی سب کو قتل کیا جائے گا اور سولی پر لٹکایا جائے گا۔

⑤ گرفتاری سے پہلے توبہ کا حکم

اگر ڈاکہ زنی کرنے والے گرفتار ہونے سے پہلے ہی توبہ کرلیں تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے لیے جو سزا مقرر ہے وہ معاف ہوجائے گی، یعنی علاقہ بدر کرنا، ایک ہاتھ اور ایک پاؤں کا کاٹنا، یا سزائے موت جو ان پر واجب تھی، ساقط ہوجائے گی۔ البتہ بندوں کے حقوق، یعنی جان اور مال کا نقصان، معاف نہیں ہوں گے، الا یہ کہ جنہیں معاف کرنے کا حق ہے وہ خود معاف کردیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿إِلَّا الَّذينَ تابوا مِن قَبلِ أَن تَقدِروا عَلَيهِم فَاعلَموا أَنَّ اللَّهَ غَفورٌ رَحيمٌ ﴿٣٤﴾… سورةالمائدة
"ہاں! جو لوگ اس سے پہلے توبہ کرلیں کہ تم ان پر قابو پالو تو یقین مانو کہ بے شک اللہ بہت بڑی بخشش اور رحم کرنے والا ہے۔” [المائدۃ:5/34۔]

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "اہل علم کا اتفاق ہے کہ ڈاکو، چور وغیرہ کا معاملہ جب قاضی کے پاس پہنچ جائے، پھر اس کے بعد وہ توبہ کرلیں، تو ان پر حد ضرور نافذ ہوگی، ساقط نہ ہوگی۔ اگر وہ توبہ میں سچے اور مخلص ہوں گے تو سزا ان کے لیے کفارہ بن جائے گی۔” [مجموع الفتاویٰ 28/300۔]

ان کی توبہ صرف اس وقت قبول ہوگی جب وہ گرفتار ہونے سے پہلے پہلے توبہ کریں، کیونکہ قرآنِ مجید میں یہی حکم ہے، تاکہ حدودِ الٰہی معطل نہ ہوجائیں۔ اگر توبہ سے سزا معاف ہوجائے تو ہر مجرم سزا سے بچنے کے لیے محض زبان سے توبہ کرلے گا۔

⑥ جان، مال اور عزت کے دفاع کا حق

جس شخص کی جان پر قاتلانہ حملہ کیا جائے، یا اس کی حرمت، مثلاً اس کی ماں، بیٹی، بہن یا بیوی پر ہتکِ عزت کے لیے حملہ ہو، یا کسی نے اس کے مال پر قبضہ کرنے یا اسے تلف کرنے کے لیے اقدام کیا ہو، تو مظلوم کو دفاع کرنے کا حق حاصل ہے۔ حملہ آور خواہ انسان ہو یا کوئی چوپایہ، ہر حال میں دفاع کیا جاسکتا ہے، البتہ دفاع کا طریقہ ایسا ہو جو غالب گمان کے مطابق کم سے کم نقصان کا باعث ہو۔ اگر مظلوم کو دفاع کا حق نہ دیا جائے تو اس کی جان، حرمت یا مال کے ضائع ہونے کا خطرہ ہے۔ اور اگر اسے یہ حق نہ ہو تو ظالم لوگ دوسروں پر مسلط ہوجائیں گے۔

اگر حملہ آور کو دفاع میں قتل کرنا ناگزیر ہوجائے تو اسے قتل کرنا بھی درست ہے، اور اس میں کوئی ضمان نہیں ہوگی، کیونکہ اس نے شر سے بچنے کے لیے مجبوراً یہ قدم اٹھایا ہے۔ اگر کوئی شخص اپنا دفاع کرتے ہوئے قتل ہوجائے تو وہ شہید ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"مَنْ أُرِيدَ مَالُهُ بِغَيْرِ حَقٍّ فَقَاتَلَ فَقُتِلَ فَهُوَ شَهِيدٌ”
"جس شخص کامال ناحق لینے کی کوشش کی گئی تو وہ دفاع کرتے ہوئے لڑا جس سے وہ مارا گیا تو وہ شہید ہے۔” [سنن ابی داود السنۃ باب فی قتال اللصوص حدیث 4771۔]

امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا ہے کہ:

"عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ إِنْ جَاءَ رَجُلٌ يُرِيدُ أَخْذَ مَالِي ؟ قَالَ : فَلَا تُعْطِهِ مَالَكَ . قَالَ : أَرَأَيْتَ إِنْ قَاتَلَنِي ؟ قَالَ : قَاتِلْهُ ؟ قَالَ : أَرَأَيْتَ إِنْ قَتَلَنِي ؟ قَالَ : فَأَنْتَ شَهِيدٌ . قَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ قَتَلْتُهُ ؟ قَالَ هُوَ فِي النَّارِ "
"آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا اور کہا:اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !بتائیے!اگر کوئی شخص میرا مال(ناحق) لینا چاہے تو؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اسے مت دو۔اس نے کہا:اگر وہ مجھ سے لڑے تو؟آپ نے فرمایا:تو بھی اس سے لڑائی کر۔اس نے کہا:اگر وہ مجھے قتل کردے تو؟آپ نےفرمایا:تو شہید ہوگا ۔اس نے کہا:اگر میں اسے قتل کردوتو؟آپ نے فرمایا:وہ جہنم میں جائے گا۔” [صحیح مسلم الایمان باب الدلیل علی من قصد اخذ مال غیرہ بغیر حق حدیث 140۔]

یاد رہے کہ اپنی ذات یا عزت کا دفاع اسی وقت لازم ہے جب اس دفاع سے کوئی بڑی خرابی پیدا نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿وَلا تُلقوا بِأَيديكُم إِلَى التَّهلُكَةِ …﴿١٩٥﴾… سورة البقرة
"اوراپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ پڑو۔” [البقرۃ:2/195۔]

اگر کسی مسلمان کی جان یا اس کی عزت پر حملہ ہو تو اس کی طرف سے دفاع کرنا، یا دفاع میں اس کی مدد کرنا لازم ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

"انْصُرْ أَخَاكَ ظَالِمًا أَوْ مَظْلُومًا”
"اپنے بھائی کی مدد کرو وہ ظالم ہو یا مظلوم۔” [صحیح البخاری المظالم باب اعن اخاک ظالما او مظلوما حدیث 2443۔]

واضح رہے کہ ظالم کی مدد کا مطلب یہ ہے کہ اسے ظلم سے روکا جائے۔

⑦ گھر میں داخل ہونے والا چور بھی حملہ آور کے حکم میں ہے

جب کوئی چور کسی کے گھر میں داخل ہوجائے تو وہ بھی حملہ آور کے حکم میں ہے، لہٰذا اس کا دفاع بھی مناسب اور کم نقصان دہ طریقے سے کیا جانا چاہیے۔

⑧ بلا اجازت جھانکنے والے کا حکم

جو شخص دروازے کے سوراخ سے، یا کھڑکی سے، یا اپنی چھت پر چڑھ کر کسی کے گھر کے اندر دیکھے، تو اسے روکا جائے۔ اگر گھر والے اس کی آنکھ میں کوئی چیز مار کر اسے پھوڑ دیں تو ان پر نہ ضمان ہوگی اور نہ تاوان، کیونکہ حدیث میں ہے:

"من اطَّلعَ في بيتِ قومٍ بغيرِ أذنِهم ففقأوا عينَه ، فلا ديةَ له ، ولا قصاصَ”
"جس نے کسی غیر کے گھر میں ان کی اجازت کے بغیر جھانک کردیکھا،اگر انھوں نے اس کی آنکھ پھوڑدی تواس کے لیے نہ دیت ہے اور نہ قصاص۔” [سنن النسائی القسامۃ باب من اقتص واخذ حقہ دون السلطان حدیث 4864۔]

یہ تمام مذکورہ شرعی احکام مسلمان کی ذات، اس کے مال کی حرمت، اور اللہ کے نزدیک اس کی عزت وکرامت کے پیشِ نظر مقرر کیے گئے ہیں۔ یہ اسلام کا عدل وانصاف ہے، جس میں معاشرے کی حفاظت اور اس کی مصلحتوں کی نگہبانی مقصود ہے، تاکہ شہر آباد رہیں، بندوں کے لیے امن وسکون قائم ہو، اور لوگ دن ہو یا رات اطمینان اور سلامتی کے ساتھ زمین پر چلتے پھریں۔

انسانیت کی اصلاح اسی حکیمانہ شریعت کے نفاذ سے ممکن ہے، کیونکہ انسان کے خود ساختہ تمام قوانین اور مادی قوتیں مطلوبہ امن کے حصول میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا:

﴿أَفَحُكمَ الجـٰهِلِيَّةِ يَبغونَ وَمَن أَحسَنُ مِنَ اللَّهِ حُكمًا لِقَومٍ يوقِنونَ ﴿٥٠﴾… سورة المائدة
"کیا یہ لوگ پھر سے جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں،یقین رکھنےوالے لوگوں کے لیے اللہ سے بہتر فیصلے اور حکم کرنے والا کون ہوسکتاہے؟” [المائدۃ 5/50۔]

ہماری موبائل ایپ ڈاؤنلوڈ کریں

قرآن مع تفاسیر
احادیث مع شرح و تخریج
تحقیقی مضامین
اوقات نماز
آف لائن دستیاب