مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

نسیان یا جہالت سے قضا نمازوں کی ترتیب کا شرعی حکم

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاویٰ ارکان اسلام
مضمون کے اہم نکات

قضا شدہ نمازوں کی ترتیب: نسیان یا جہالت کی وجہ سے ترتیب ساقط ہونے کا حکم

سوال:

اگر کسی شخص سے نسیان (بھول) یا جہالت (علم نہ ہونے) کی وجہ سے نمازیں قضا ہو جائیں، تو کیا ان قضا شدہ نمازوں کی ترتیب ساقط ہو جائے گی؟ یعنی کیا بعد والی نماز پہلے پڑھ سکتا ہے یا ترتیب کا لحاظ ضروری ہے؟

جواب:

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اس مسئلہ میں فقہاء کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔ تاہم درست اور راجح بات یہ ہے کہ اگر نمازیں نسیان یا جہالت کی وجہ سے قضا ہوئی ہوں تو ان میں ترتیب کی پابندی ختم (ساقط) ہو جاتی ہے۔ اس رائے کی بنیاد درج ذیل دلائل پر ہے:

قرآن مجید سے دلیل:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿رَبَّنا لا تُؤاخِذنا إِن نَسينا أَو أَخطَأنا﴾
(سورۃ البقرۃ، آیت 286)

ترجمہ:
’’اے ہمارے پروردگار! اگر ہم سے بھول چوک ہو گئی ہو تو ہمارا مؤاخذہ نہ کیجئے۔‘‘

یہ آیت عام مفہوم رکھتی ہے اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر کسی سے نمازوں کی ترتیب نسیان یا خطا کے سبب رہ جائے تو اس پر مؤاخذہ نہیں ہوگا۔

حدیث رسول ﷺ سے دلیل:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

«اِنَّ اللّٰهَ تَجَاوَزَْ عَنْ اُمَّتِیْ الْخَطَأَ وَالنِّسْيَانَ وَمَا اسْتُکْرِهُوْا عَلَيْهِ»
(سنن ابن ماجہ، کتاب الطلاق، باب طلاق المکرہ والناسی، حدیث: ۲۰۴۳)

ترجمہ:
’’بے شک اللہ تعالیٰ نے میری امت کے لیے ان کی خطا، نسیان اور وہ امور جن پر انہیں مجبور کر دیا گیا ہو، سے درگزر کا وعدہ فرمایا ہے۔‘‘

یہ حدیث واضح طور پر بتاتی ہے کہ نسیان اور جہالت کی حالت میں جو کوتاہی ہو جائے، اللہ تعالیٰ اس سے درگزر فرماتا ہے۔ چنانچہ اگر نمازوں کی ترتیب اسی بنیاد پر فوت ہو جائے تو اس کا وبال نہیں۔

نتیجہ:

لہٰذا راجح قول یہی ہے کہ اگر نمازیں نسیان یا جہالت کی وجہ سے قضا ہو جائیں تو ان کی ترتیب واجب نہیں رہتی۔ ایسے شخص پر ترتیب کی پابندی نہیں ہوگی۔

ھذا ما عندي، والله أعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔