مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

نزول باری تعالیٰ کے متعلق اہل سنت کا کیا عقیدہ ہے؟

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال :

نزول باری تعالیٰ کے متعلق اہل سنت کا کیا عقیدہ ہے؟

جواب :

اہل سنت والجماعت اللہ تعالیٰ کو عرش پر مستوی مانتے ہیں، اس کی کیفیت بیان کیے بغیر اس پر ایمان رکھتے ہیں، نیز یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ باری تعالیٰ نزول فرماتا ہے، اس کا نزول برحق ہے، جیسا کہ اس کی شان کے لائق ہے، اس پر کئی قرآنی نصوص اور متواتر احادیث دلالت کرتی ہیں، رات کے آخری حصہ میں باری تعالیٰ کا پہلے آسمان پر نزول فرمانا احادیث صحیحہ سے ثابت ہے۔
❀ سید نا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
ينزل ربنا تبارك وتعالى كل ليلة إلى السماء الدنيا حين يبقى ثلث الليل الآخر، فيقول : من يدعوني، فأستجيب له؟ من يسألني، فأعطيه؟ من يستغفرني، فأغفر له؟
” ہر رات جب آخری ایک تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے، تو ہمارا رب آسمانِ دنیا پر نزول فرماتا ہے اور کہتا ہے : کون ہے، جو مجھے پکارے اور میں اس کی پکار کو قبول کروں؟ کون ہے، جو مجھ سے مانگے اور میں اس کی دست گیری کروں؟ کون ہے، جو مجھ سے معافی مانگے اور میں اسے معاف کر دوں؟“
(صحيح البخاري : 1145 ، صحیح مسلم : 758)
❀ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (728 ھ) فرماتے ہیں:
أجمعوا على أن الله ينزل كل ليلة إلى سماء الدنيا على ما أتت به الآثار كيف شاء لا يحدون فى ذلك شيئا .
”اہل سنت والجماعت کا اجماع ہے کہ اللہ تعالیٰ جیسے چاہتا ہے، ہر رات آسمان دنیا پر نازل ہوتا ہے، جیسا کہ احادیث میں مذکور ہے، اہل سنت اس نزول کی کوئی کیفیت بیان نہیں کرتے ۔“
(مجموع الفتاوى : 578/5)

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔