نزول باری تعالیٰ
اہل سنت والجماعت کا اجماعی و اتفاقی عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر رات آسمانِ دنیا پر اترتا ہے۔ یہ اترنا حقیقی ہے اور اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے ایک صفت برحق ہے، یہ عقیدہ احادیث صحیحہ اور اجماع امت سے ثابت ہے۔ ائمہ محدثین رحمتہ اللہ کی تصریحات اس پر شاہد ہیں۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی الله عنه بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ينزل ربنا تبارك وتعالى كل ليلة إلى السماء الدنيا حين يبقى ثلث الليل الآخر، فيقول: من يدعوني، فأستجيب له؟ من يسألني، فأعطيه؟ من يستغفرني، فأغفر له؟
’’ہر رات جب آخری ایک تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے، تو ہمارا رب تبارک و تعالیٰ آسمانِ دنیا پر نزول فرماتا ہے اور کہتا ہے: کون ہے، جو مجھے پکارے، میں اس کی پکار کو قبول کروں؟ کون ہے، جو مجھ سے مانگے ، میں اس کی دست گیری کروں؟ کون ہے، جو مجھ سے معافی مانگے ، میں اسے معاف کر دوں؟‘‘
(صحيح البخاري: 1145 ، صحیح مسلم: 758)
حافظ ابن عبدالبرل رحمتہ اللہ (463ھ) فرماتے ہیں:
هذا الحديث لم يختلف أهل الحديث في صحته.
’’اس حدیث کی صحت میں محدثین کرام کا کوئی اختلاف نہیں۔‘‘
(التمهيد لما في الموطا من المعاني والأسانيد: 134/7)
نزول باری تعالیٰ کے متعلق احادیث مندرجہ ذیل صحابہ سے بھی مروی ہیں:
سیدنا ابو سعید اور سیدنا ابو ہریرہ رضی الله عنه (صحیح مسلم: 172/758)
سیدنا علی رضی الله عنه (مسند الامام احمد: 210/1 ، وسنده حسن)
حافظ منذری رحمتہ اللہ (الترغيب والترهيب: 165/1) اور حافظ ہیثمی رحمتہ اللہ (مجمع الزوائد:2211) نے اس کی سند کو حسن کہا ہے۔
سيدنا جبیر بن مطعم رضی الله عنه (مسند الامام احمد: 81/4، مسند الدارمي: 1488، السنه لعبد الله بن احمد بن حنبل: 1199 ، وسنده صحيح)
رفاعہ بن عرا به جہنی رضی الله عنه (مسند الامام احمد 16/4، مسند الطيالسي: ص 182، النزول للدارقطنی 68 ، وسنده صحیح)
حافظ ابن حجر رحمتہ اللہ نے اس کی سند کو ’’صحیح‘‘ کہا ہے۔
(الإصابة في تمييز الصحابة: 284/3)
سیدنا عقبہ بن عامر رضی الله عنه (النزول للدارقطني: 100، وسنده صحيح)
احادیث نزول باری تعالیٰ کو درج ذیل ائمہ دین اور علمائے کرام رحمتہ اللہ نے متواتر قرار دیا ہے:
◈ حافظ ذہبی رحمتہ اللہ (العلو،ص 110 ، 116 )
◈ حافظ ابن عبدالہادی رحمتہ اللہ (الصارم المنکی ، ص 220)
◈ علامہ ابن تیمیہ رحمتہ اللہ (شرح حديث النزول، ص 107)
◈ حافظ ابن قیم رحمتہ اللہ (مختصر الصواعق 248/2)
◈ حافظ سخاوی رحمتہ اللہ (فتح المغيث: 43/3)
◈ علامه کتانی (نظم المتناثر ، ص 114-115 عن السيوطي موافقا له)
علامه ابن تیمیہ رحمتہ اللہ (728ھ) لکھتے ہیں:
النزول المذكور في الحديث النبوي على قائله أفضل الصلاة والسلام الذي اتفق عليه الشيخان البخاري ومسلم، واتفق علماء الحديث على صحته، هو (إذا بقي ثلث الليل الآخر) وقد روي عن النبي صلى الله عليه وسلم من رواية جماعة كثيرة من الصحابة كما ذكرنا قبل هذا، فهو حديث متواتر عند أهل العلم بالحديث، والذي لا شك فيه إذا بقي ثلث الليل الآخر، فإن كان النبي صلى الله عليه وسلم قد ذكر النزول أيضا إذا مضى ثلث الليل الأول، وإذا انتصف الليل، فقوله حق، وهو الصادق المصدوق، ويكون النزول أنواعا ثلاثة ، ألأول: إذا مضى ثلث الليل الأول، ثم إذا انتصف وهو أبلغ، ثم إذا بقي ثلت الليل، وهو أبلغ الأنواع الثلاثة.
’’بخاری ومسلم کی صحیح حدیث میں جس نزول کا ذکر ہے، وہ تب ہوتا ہے، جب رات کا آخری تہائی حصہ رہ جائے اور یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت سے صحابہ رضی الله عنه نے روایت کیا ہے، جیسا کہ ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں، لہذا یہ حدیث محدثین کرام صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک متواتر ہے۔ نزول کے بارے میں رات کے آخری تہائی حصے والی بات شک و شبہ سے بالا تر ہے، اگر چہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے پہلے تہائی حصے کے گزرنے اور آدھی رات کے گزرنے کے بعد بھی نزول باری تعالیٰ کا ذکر کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صادق و مصدوق ہیں، آپ کی بات حق ہے، چنانچہ نزول تین طرح کا ہے۔ ایک وہ جو رات کے پہلے تہائی حصے کے گزرنے پر ہوتا ہے، دوسرا وہ جو آدھی رات کے گزرنے پر ہوتا ہے، یہ پہلے کی نسبت زیادہ بلیغ ہوتا ہے اور تیسرا، جو رات کے آخری تہائی حصہ کے باقی رہ جانے کے وقت ہوتا ہے، یہ سب سے زیادہ بلیغ ہے۔‘‘
(مجموع الفتاویٰ: 470/5)
شیخ الاسلام امام اسحاق بن راہو یہ رحمتہ اللہ (238ھ) فرماتے ہیں:
جمعني وهذا المبتدع، يعني إبراهيم بن أبي صالح، مجلس الأمير عبد الله بن طاهر، فسألني الأمير عن أخبار النزول، فسردتها، فقال إبراهيم كفرت برب ينزل من سماء إلى سماء، فقلت: آمنت برب يفعل ما يشاء.
’’میں اور یہ بدعتی یعنی ابراہیم بن ابی صالح، امیر عبداللہ بن طاہر کی مجلس میں جمع ہوئے۔ انھوں نے مجھ سے نزول باری تعالیٰ کی احادیث پوچھیں۔ میں نے بیان کر دیں۔ ابراہیم کہنے لگا: میں ایسے رب کا کفر کرتا ہوں، جو ایک آسمان سے دوسرے آسمان کی طرف نزول کرتا ہے۔ میں نے کہا: میں اس رب پر ایمان لاتا ہوں، جو جو چاہتا ہے، کرتا ہے‘‘
(الأسماء والصفات للبيهقي: 197/2 ، وفي نسخة: 375/2-376، ح: 951 ، وسنده صحيح)
امام ترمزی رحمتہ اللہ (279ھ) فرماتے ہیں:
قد قال غير واحد من أهل العلم في هذا الحديث وما يشبه هذا من الروايات من الصفات ونزول الرب تبارك وتعالى كل ليلة إلى السماء الدنيا، قالوا: قد تثبت الروايات في هذا، ويؤمن بها، ولا يتوهم، ولا يقال: كيف هكذا روي عن مالك بن أنس وسفيان بن عيينة وعبد الله بن المبارك أنهم قالوا في هذه بن الأحاديث أمروها بلا كيف هكذا قول أهل العلم من أهل السنة والجماعة، وأما الجهمية فأنكرت هذه الروايات، وقالوا: هذا تشبيه.
’’بہت سے اہل علم نے اس حدیث اور صفات باری تعالٰی اور ہر رات اللہ تعالیٰ کے نزول وغیرہ پر مشتمل دوسری احادیث کی بابت فرمایا ہے کہ اس بارے میں وارد ہونے والی روایات کو ثابت سمجھا جائے، ان پر ایمان لایا جائے، وہم نہ کیا جائے اور ان کی کیفیت کے بارے میں سوال نہ کیا جائے۔ امام مالک بن انس، امام سفیان بن عیینہ اور امام عبداللہ بن مبارک رحمتہ اللہ سے یہی منقول ہے کہ انھوں نے ان صفات والی احادیث کے بارے میں فرمایا: ان کو بلا کیفیت تسلیم کریں۔ علمائے اہل سنت والجماعت کا بھی یہی قول ہے۔ رہے جہمیہ حضرات، تو انھوں نے ان روایات کا انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ (صفات الہی کا اثبات) تو (خالق کی مخلوق کے ساتھ) تشبیہ دینا ہے۔‘‘
(جامع الترمذي، تحت الحديث: 662)
امام الائمه ابن خزیمہ رحمتہ اللہ (311ھ) لکھتے ہیں:
باب ذكر أخبار ثابتة السند صحيحة القوام، رواها علماء الحجاز والعراق عن النبي صلى الله عليه وسلم في نزول الرب جل وعلا إلى السماء الدنيا كل ليلة، نشهد شهادة مقر بلسانه، مصدق بقلبه، مستيقن بما في هذه الأخبار من ذكر نزول الرب من غير أن نصف الكيفية، لأن نبينا المصطفى لم يصف له كيفية نزول خالقنا إلى سماء الدنيا، وأعلمنا أنه ينزل، والله جل وعلا لم يترك ولا نبية عليه السلام بيان ما بالمسلمين الحاجة إليه من أمر دينهم، فنحن قائلون مصدقون بما في هذه الأخبار من ذكر النزول غير متكلفين القول بصفته أو بصفة الكيفية، إذ النبي صلى الله عليه وسلم لم يصف لنا كيفية النزول.
’’ہر رات آسمانِ دنیا کی طرف نزول باری تعالٰی کے بارے میں ان احادیث کا بیان، جن کی سند ثابت ہے اور ان کی اصل صحیح ہے۔ ہم زبان کے اقرار، دل کی تصدیق اور یقین کے ساتھ ان احادیث میں موجود نزول باری تعالٰی کے عقیدے کی بغیر کیفیت بیان کیسے گواہی دیتے ہیں، کیوں کہ ہمارے نبی مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے خالق کے نزول کی کوئی کیفیت بیان نہیں کی، پھر یہ بات بھی ہے کہ اللہ تعالٰی اور اس کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی ایسی بات کی وضاحت نہیں چھوڑی، جس کی مسلمانوں کو دینی معاملات میں ضرورت تھی، چنانچہ ہم ان احادیث میں موجود نزول باری تعالیٰ کے قائل ہیں اور ان کی تصدیق کرتے ہیں، نزول کی کیفیت بیان کرنے کا تکلف نہیں کرتے ، کیوں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نزول کی کیفیت بیان نہیں کی ۔‘‘
(کتاب التوحيد ؟ /288 290)
امام ابوالحسن الاشعری رحمتہ اللہ ( 324 ھ) لکھتے ہیں:
يصدقون بالأحاديث التي جاءت عن رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن الله ينزل إلى السماء الدنيا، فيقول: هل من مستغفر، كما جاء في الحديث.
’’اہل سنت اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ان تمام احادیث کی تصدیق کرتے ہیں، جن میں آیا ہے کہ اللہ آسمانِ دنیا کی طرف نزول فرماتا ہے اور کہتا ہے: ہے کوئی معافی مانگنے والا؟ جیسا کہ حدیث میں ہے۔‘‘
(مقالات الإسلاميين: 295/1)
امام ابو بکر محمد بن الحسین آجری رحمتہ اللہ (360 ھ ) کہتے ہیں:
باب الإيمان والتصديق بأن الله عز وجل ينزل إلى السماء الدنيا كل ليلة، الإيمان بهذا واجب، ولا يسع المسلم العاقل أن يقول: كيف ينزل؟ ولا يرد هذا إلا المعتزلة.
’’اس پر ایمان و تصدیق کا بیان کہ اللہ ہر رات آسمان دنیا کی طرف نزول فرماتا ہے۔ اس پر ایمان لانا واجب ہے۔ کسی عاقل مسلمان کے لیے یہ کہنا روا نہیں کہ اللہ کس طرح نزول فرماتا ہے؟ اس کا انکار معتزلہ کرتے ہیں۔‘‘
(كتاب الشريعة: 1126/3)
امام ابوسعید عثمان بن سعید دارمی رحمتہ اللہ (280 ھ) لکھتے ہیں:
مما يعتبر به من كتاب الله عز وجل في النزول، ويحتج به على من أنكره، قوله تعالى: (هل ينظرون إلا أن يأتيهم الله في ظلل من الغمام والملئكة) (البقرة: 210) ، فالذي يقدر على النزول يوم القيامة من السماوات كلها، ليفصل بين عباده ، قادر أن ينزل كل ليلة من سماء إلى سماء، فإن ردوا قول رسول الله صلى الله عليه وسلم في النزول، فما يصنعون بقول الله عز وجل تبارك وتعالى.
جن آیات سے نزول باری تعالیٰ کا اثبات اور مخالفین کا رد ہوتا ہے، ان میں سے ایک یہ فرمان ہے:
هل ينظرون إلا أن يأتيهم الله في ظلل من الغمام والملئكة.
(البقرة: 210)
’’کیا وہ اس بات کا انتظار کرتے ہیں کہ ان کے پاس اللہ اور اس کے فرشتے بادلوں کے سایوں میں ان کا فیصلہ کرنے کے لیے آجائیں؟ اللہ جو قیامت کے دن اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے آسمانوں سے نزول فرما سکتا ہے، وہ ہر رات ایک آسمان سے دوسرے آسمان کی طرف نزول فرمانے پر بھی قادر ہے۔ اگر وہ (منکرین نزول باری تعالیٰ) اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کو ٹھکرا دیں گے، تو اس فرمانِ الہی کا کیا جواب دیں گے؟‘‘
(الرد على الجهمية، ص 74)
امام عبد الرحمن بن اسمعیل صابونی رحمتہ اللہ (449ھ) فرماتے ہیں:
ينبت أصحاب الحديث نزول الرب سبحانه وتعالى كل ليلة إلى السماء الدنيا من غير تشبيه له بنزول المخلوقين، ولا تمثيل، ولا تكييف، بل يثبتون ما أثبته رسول الله صلى الله عليه وسلم وينتهون فيه إليه، ويمرون الخبر الصحيح الوارد بذكره على ظاهره، ويكلون علمه إلى الله.
’’محدثین ہر رات آسمانِ دنیا کی طرف اللہ تعالیٰ کے نزول کو ثابت کرتے ہیں، بغیر مخلوق کے ساتھ تشبیہ دیے، بغیر مثال وکیفیت بیان کیے، بلکہ وہ ہر اس چیز کو ثابت کرتے ہیں، جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ثابت کیا ہے اور اس بارے میں انھی پر اکتفا کرتے ہیں، نیز نزول الہی کے بارے میں وارد ہونے والی صحیح حدیث کو ظاہری معنی پر محمول کرتے ہیں (کوئی تاویل نہیں کرتے) اور اس (کی کیفیت وغیرہ) کا علم اللہ تعالیٰ کے سپرد کرتے ہیں۔‘‘
(عقيدة السلف وأصحاب الحديث، ص 40)
نیز لکھتے ہیں:
لما صح خبر التزول عن الرسول صلى الله عليه وسلم أقر به أهل السنة، وقبلوا الخبر ، وأثبتوا النزول على ما قاله رسول الله صلى الله عليه وسلم، ولم يعتقدوا تشبيها له بنزول خلقه، ولم يبحثوا عن كيفيته، إذ لا سبيل إليها بحال، وعلموا، وتحققوا، واعتقدوا أن صفات الله سبحانه وتعالى لا تشبه صفات الخلق، كما أن ذاته لا تشبه ذوات الخلق، تعالى الله عما يقول المشبهة، والمعطله علوا كبيرا ، ولعنهم لعنا كبيرا.
’’جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نزول باری سے متعلق حدیث صحیح ثابت ہوگئی ہے، تو اہل سنت نے اس کا اقرار کر لیا اور فرمانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق نزول کا اثبات کیا، اس میں مخلوق کے ساتھ تشبیہ کا اعتقاد رکھا، نہ کیفیت کے بارے میں بحث کی ہے، کیونکہ اس کی معرفت کی طرف کوئی راستہ نہیں ہے۔ انھوں نے اس بات کا علم و یقین حاصل کیا اور عقیدہ بنالیا کہ اللہ کی صفات مخلوق کی صفات سے مشابہت نہیں رکھتیں، جیسا کہ اس کی ذات مخلوق کی ذات سے مشابہت نہیں رکھتی۔ اللہ تعالٰی محمد (صفات الہی کو مخلوق کے ساتھ تشبیہ دینے والوں) اور معطلہ (صفات الہی کا انکار کرنے والوں) کی باتوں سے بہت بلند ہے۔‘‘
(عقيدة السلف وأصحاب الحديث، ص 58)
امام ابن عبد البر رحمتہ اللہ (463 ھ) لکھتے ہیں:
الذي عليه جمهور أئمة أهل السنة أنهم يقولون: ينزل كما قال رسول الله صلى الله عليه وسلم، ويصدقون بهذا الحديث، ولا يكيفون، والقول فى كيفية النزول كالقول في كيفية الاستواء والمجيء، والحجة في ذالك واحدة.
’’جمہور ائمہ اہل سنت کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نزول فرماتا ہے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما دیا ہے۔ اہل سنت اس حدیث کی تصدیق کرتے ہیں، لیکن کیفیت بیان نہیں کرتے۔ کیفیت نزول کی بابت وہی بات کی جائے گی، جو استوا علی العرش اور مجي (روز قیامت بندوں کے فیصلے کے لیے اللہ تعالیٰ کے آنے) والی صفات میں کی جاتی ہے (کہ ان کی کیفیت نہ ہمیں بتائی گئی ہے اور نہ ہی اس کا سوال کیا جائے گا)، اس بارے میں دلیل ایک ہی ہے۔‘‘
(التَّمهيد لما في الموطا من المعاني والأسانيد: 143/7)
امام ابو القاسم اصبہانی رحمتہ اللہ (535ھ) لکھتے ہیں:
من مذهب أهل السنة: الإيمان بجميع ما ثبت عن النبي صلى الله عليه وسلم في صفات الله تعالى كحديث ينزل الله تعالى كل ليلة إلى سماء الدنيا.
’’اہل سنت کا عقیدہ ہے کہ صفات باری تعالیٰ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو کچھ ثابت ہے، سب پر ایمان لایا جائے ، مثلاً ہر رات آسمان دنیا کی طرف نزول باری تعالیٰ کی حدیث۔‘‘
(الحجة في بيان المحجة:290/2)
نیز لکھتے ہیں:
ذكر علي بن عمر الحربي في كتاب السنة أن الله تعالى ينزل كل ليلة إلى سماء الدنيا، قاله النبي صلى الله عليه وسلم من غير أن يقال: كيف؟ فإن قيل: ينزل أو ينزل، قيل: ينزل، بفتح الياء وكسر الزاي، ومن قال: ينزل، بضم الياء ، فقد ابتدع ، ومن قال: ينزل نورا وضياء، فهذا أيضا بدعة، ورد على النبي صلى الله عليه وسلم.
’’علی بن عمر حربی رحمتہ اللہ نے كتاب السنة میں لکھا ہے کہ اللہ ہر رات آسمان دنیا کی طرف نزول فرماتا ہے۔ اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بغیر کسی کیفیت کے بیان فرمایا ہے، اگر کہا جائے کہ وہ نازل ہوتا ہے یا نازل کرتا ہے؟ تو جواب یہ ہے کہ اللہ نازل ہوتا ہے، جو کہے کہ وہ نازل کرتا ہے، بدعتی ہے اور جو کہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ وہ نور اور روشنی نازل کرتا ہے، تو وہ بھی بدعتی ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مخالف ہے۔‘‘
(الحجة في بيان المحجة وشرح عقيدة أهل السنة 248/1-249)
امام عثمان بن سعید دارمی رحمتہ اللہ (280 ھ ) لکھتے ہیں:
هذه الأحاديث قد جاءت كلها وأكثر منها في نزول الرب تبارك وتعالى في هذه المواطن، وعلى تصديقها والإيمان بها أدركنا أهل الفقه والبصر من مشايخنا، لا ينكرها منهم أحد، ولا يمتنع من روايتها، حتى ظهرت هذه العصابة، فعارضت آثار رسول الله صلى الله عليه وسلم برد وتشمروا لدفعها بجد، فقالوا: كيف نزوله هذا؟ قلنا: لم نكلف معرفة كيفية نزوله في ديننا، ولا تعقله قلوبنا، وليس كمثله شيء من خلقه، فنشبه منه فعلا أو صفة بفعالهم وصفتهم، ولكن ينزل بقدرته ولطف ربوبيته كيف يشاء، والكيف منه غير معقول، والإيمان بقول رسول الله صلى الله عليه وسلم في نزوله واجب، ولا يسأل الرب عما يفعل، كيف يفعل، وهم يسألون، لأنه القادر على ما يشاء أن يفعله كيف يشاء، وإنما يقال لفعل المخلوق الضعيف الذي لا قدرة له إلا ما أقدره الله تعالى عليه كيف يصنع به؟ وكيف قدر؟ ولو كنتم آمنتم باستواء الرب على عرشه وارتفاعه فوق السماء السابعة بدءا إذا خلقها كإيمان المصلين به نقلنا لكم: ليس نزوله من سماء إلى سماء بأشد عليه ولا بأعجب من استوائه عليها إذ خلقها بدءا، فكما قدر على الأولى منهما كيف يشاء، فكذلك يقدر على الأخرى كيف يشاء، وليس قول رسول الله صلى الله عليه وسلم في نزوله بأعجب من قول الله تبارك وتعالى: (هل ينظرون إلا أن يأتيهم الله في ظلل من الغماء والمليكة) (البقرة: 210) ، ومن قوله : (وجاء ربك والملك صفا صفا) (الفجر: 22) فكما يقدر على هذا يقدر على ذاك، فهذا الناطق من قول الله عز وجل، وذاك المحفوظ من قول رسول الله صلى الله عليه وسلم بأخبار ليس عليها غبار، فإن كنتم من عباد الله المؤمنين لزمكم الإيمان بها كما آمن بها المؤمنون، وإلا فصرحوا كما تضمرون، ودعوا هذه الأغلوطات التي تلوون بها ألسنتكم، فلين كان أهل الجهل في شك من أمركم، أن أهل لعلم من أمركم لعلى يقين.
ان مقامات پر یہ تمام احادیث اللہ کے نزول سے متعلق ہیں، ہم نے اپنے اہل فقه و بصیرت اساتذہ کو ان کی تصدیق کرتے اور ان پر ایمان لاتے ہی دیکھا ہے۔ ان میں سے کوئی ان کا انکار کرتا تھا، نہ انھیں بیان کرنے سے گریز کرتا تھا۔ تا وقتیکہ یہ گروہ ظاہر ہو گیا۔ انھوں نے احادیث نبویہ کو رد کیا اور بنانگ دہل مخالفت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس نزول کی کیفیت کیا ہے؟ ہم کہتے ہیں کہ ہمیں دین میں اس کی کیفیت جاننے کا مکلف نہیں بنایا گیا، نہ ہی ہماری عقلیں اس کو سمجھ سکتی ہیں، نہ ہی مخلوق میں سے کوئی اس سے مشابہ ہے کہ ہم اللہ کے فعل وصفت میں ان کے افعال وصفات میں تشبیہ ہی دے سکیں، البتہ (ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ) وہ اپنی قدرت اور کمال ربوبیت سے جیسے چاہتا ہے، نزول فرماتا ہے۔ اس کی کیفیت انسانی عقل سے ماورا ہے، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان پر ایمان لانا واجب ہے۔ رب تعالیٰ سے یہ سوال نہیں کیا جائے گا کہ وہ کیا کرتا ہے اور کیسے کرتا ہے؟ ہاں بندوں سے پوچھا جائے گا، کیوں کہ وہ جسے چاہے، جیسے چاہے کرنے پر قادر ہے۔ کیسے کرنے اور کس طرح قدرت پانے کا سوال تو اس کمز ور مخلوق کے بارے میں کیا جائے گا، جس کے پاس کوئی قدرت و طاقت نہیں، سوائے اس قدرت کے، جو اللہ تعالیٰ اسے دے۔ (اے جہمی گروه !) اگر تم مسلمانوں کی طرح اللہ تعالیٰ کے آسمانوں کو پیدا کرتے وقت عرش پر مستوی ہونے اور شروع سے ہی ساتویں آسمان پر بلند ہونے پر ایمان لاتے ہو، تو ہم تم سے کہتے ہیں کہ ایک آسمان سے دوسرے آسمان کی طرف نزول آسمانوں کو پیدا کرتے وقت عرش پر مستوی ہونے سے زیادہ مشکل اور زیادہ تعجب خیز نہیں ہے۔ جس طرح اللہ پہلے معاملہ (استوا) پر اپنی چاہت کے مطابق قادر ہو گیا، اسی طرح دوسرے معاملہ (نزول) پر اپنی چاہت کے مطابق قادر ہو گیا، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نزول باری تعالیٰ والا فرمان اللہ تبارک و تعالٰی کے ان دو فرامین سے زیادہ قابل تعجب نہیں:
هل ينظرون إلا أن يأتيهم الله في ظلل من الغمام والمليكة.
(البقرة: 210)
’’وہ صرف اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ ان کے پاس اللہ اور اس کے فرشتے بادلوں کے سایوں میں آجائیں ۔‘‘
وجاء ربك والملك صاصفا.
(الفجر: 22)
’’اور تیرا رب آئے گا اور فرشتے صف در صف آئیں گے۔‘‘
جس طرح اللہ ان افعال پر قادر ہے، بعینہ اس نزول پر بھی قادر ہے۔ اُدھر آپ اللہ کے حکم کے ساتھ بولتے ہیں اور ادھر یہ حدیث آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی سندوں کے ساتھ منقول ہے کہ جن پر کوئی اعتراض نہیں۔ جہمیو! اگر تم اللہ کے مومن بندوں میں سے ہو، تو تمھارے لیے ان احادیث پر اسی طرح ایمان لانا واجب ہے، جیسے ان پر مومن ایمان لائے ہیں، ورنہ جو (کفر) دلوں میں چھپائے پھرتے ہو، اسے ظاہر کر دو اور اپنی زبانوں کے ساتھ کی جانے والی ان باطل اور جھوٹی تاویلوں کو چھوڑ دو۔ اگر جاہل لوگ تمھارے بارے میں شک میں مبتلا ہیں، تو اہل علم تو تمھارے معاملہ (گمراہی) میں یقین پر ہیں۔
(الرّد على الجهمية ، ص 93-94)
نیز فرماتے ہیں:
ادعى المعارض أن الله لا ينزل بنفسه، إنما ينزل أمره ورحمته، وهو على العرش، وبكل مكان من غير زوال، لأنه الحي القيوم، والقيوم بزعمه من لا يزول، فيقال لهذا المعارض: وهذا أيضا من حجج النساء والصبيان ومن ليس عنده بيان، ولا مذهبه برهان، لأن أمر الله ورحمته ينزل في كل ساعة ووقت وأوان، فما بال النبي صلى الله عليه وسلم يحد لنزوله الليل دون النهار؟ وبوقت من الليل شطره أو الأسحار، أفأمره ورحمته يدعوان العباد إلى الإستغفار، أو يقدر الأمر والرحمة أن يتكلما دونه، فيقولا : هل من داع، فأجيب؟ هل من مستغفر، فأغفر له؟ هل من سائل، فأعطيه؟ فإن قررت مذهبك لزمك أن تدعي أن الرحمة والأمر هما اللذان يدعوان إلى الإجابة والإستغفار بكلاهما دون الله؟ وهذا محال عند السفهاء، فكيف عند الفقهاء؟ قد علمتم ذلك، ولكن تكابرون، وما بال رحمته وأمر؟ ينزلان من عنده شطر الليل، ثم لا يمكتان إلا إلى طلوع الفجر، ثم يرفعان، لأن رفاعة يرويه، يقول في حديثه: حتى ينفجر الفجر، قد علمتم إن شاء الله أن هذا التأويل أبطل باطل، لا يقبله إلا كل جاهل.
’’مخالف نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ اللہ تعالی خود نزول نہیں فرماتا ، بل کہ وہ خود عرش پر اور ہر جگہ رہتے ہوئے، بغیر اپنی جگہ چھوڑے اپنا حکم اور رحمت نازل فرماتا ہے، کیوں کہ وہ زندہ اور قیوم ہے۔ اس کے خیال میں قیوم وہ ہوتا ہے، جو اپنی جگہ نہ چھوڑے۔ اس مخالف کو کہا جائے گا کہ یہ بھی زنانہ و بچگانہ دلیل ہے، نیز یہ اس کی دلیل ہے، جسے بات کرنی نہ آتی ہو اور نہ ہی اس کا مذہب میں دلیل کی کوئی حیثیت ہو۔ وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا حکم اور اس کی رحمت تو ہر وقت نازل ہوتی رہتی ہے، پھر کیا بات ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے نزول کو دن کی بجائے رات کے ساتھ خاص فرما رہے ہیں، نیز رات کا بھی نصف یا سحری کا وقت اس کے لیے مخصوص کر رہے ہیں؟ کیا اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا امرلوگوں کو استغفار کا حکم دیتے ہیں اور کیا وہ دونوں چیزیں ذات الہی کے بغیر بولنے کی طاقت رکھتی ہیں کہ وہ کہیں : کیا کوئی پکارے والا ہے، میں اس کی پکار قبول کروں؟ کیا کوئی معافی کا طلب گار ہے کہ میں اسے معاف کر دوں؟ کیا کوئی سوالی ہے کہ میں اسے عطا کروں؟ اپنے مذہب پر ثابت رہنے کے لیے یہ تسلیم کرنا ضروری ہے کہ امر اور رحمت دونوں بول کر اجابت اور استغفار کی طرف لوگوں کو بلاتے ہیں۔ یہ بات کرنا تو بیوقوفوں کے حق میں بھی ناممکن ہے، چہ جائیکہ عقل مند ایسی بات کریں؟ تم اس بات سے بخوبی آشنا ہو، لیکن تکبر کا شکار ہو چکے ہو۔ یہ کیا ہے کہ اس کا امر اور اس کی رحمت رات کے ایک حصے میں اترتے ہیں، پھر صرف فجر طلوع ہونے تک ٹھہر کر اٹھا لیے جاتے ہیں؟ اس حدیث کے راوی سید نا رفاعہ رضی الله عنه بیان کرتے ہیں کہ نزول کا یہ معاملہ طلوع فجر تک جاری رہتا ہے۔ اللہ کی توفیق سے آپ نے جان ہی لیا ہوگا کہ یہ تاویل ابطل الاباطیل ہے، اسے جاہل ہی قبول کر سکتا ہے۔‘‘
(الرد على المريسي، ص51-52)
امام ابو عمرو، احمد بن محمد بن عبداللہ طلمنکی رحمتہ اللہ (129ھ) فرماتے ہیں:
أجمعوا على أن الله ينزل كل ليلة إلى سماء الدنيا، على ما أتت به الآثار، كيف شاء، لا يحدون في ذلك شيئا.
’’مسلمانوں کا اجماع ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر رات آسمانِ دنیا کی طرف نزول فرماتا ہے، جیسا کہ احادیث میں موجود ہے۔ یہ نزول اسی طرح ہے، جیسے اللہ تعالی چاہتا ہے، مسلمان اس بارے میں کسی (کیفیت کی) تعیین نہیں کرتے ۔‘‘
(مجموع الفتاوى لابن تيمية: 577/5)
جدید جہمیہ اللہ کے شایانِ شان نزول کا انکار کرتے ہیں، بلکہ کہتے ہیں کہ اس سے مراد ہے کہ اللہ خصوصی رحمت بھیجتا ہے یا حکم نازل فرماتا ہے یا فرشتہ بھیجتا ہے یا نزول اجلال کرتا ہے، وغیرہ وغیرہ۔
یہ تاویل قرآن، حدیث، اجماع امت اور ائمہ محدثین وسلف صالحین کی متفقہ تصریحات کے خلاف ہے، لہذا نا قابل التفات ہے۔
تنبیه :
اگر کوئی کہے کہ اللہ تعالیٰ جب نزول فرماتے ہیں، تو کیا اس وقت عرش خالی ہو جاتا ہے؟ تو ہم جواب میں کہیں گے کہ یہ سوال بدعت ہے۔ اس نزول کی کیفیت کا علم اللہ تعالی کے پاس ہے، جس کے متعلق شریعت خاموش ہے، ہم بھی خاموش رہیں گے، صحابہ اور محدثین اس پر سکوت کرتے ہیں، ہم بھی سکوت کرتے ہیں۔ واللہ الحمد!
فائده:
احادیث نزول باری تعالیٰ سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ عرش پر بلند ہے، ہر جگہ موجود نہیں، امام ابن عبد البر رحمتہ اللہ (463 ھ) لکھتے ہیں:
فيه دليل على أن الله عز وجل في السماء على العرش من فوق سبع سماوات، كما قال الجماعة، وهو من حجتهم على المعتزلة وجل في كل مكان، وليس على العرش.
’’نزول باری تعالٰی کے بارے میں حدیث ابی ہریرہ رضی الله عنه دلیل ہے کہ اللہ عزوجل ساتوں آسمانوں کے اوپر عرش پر بلند ہے، جیسا کہ اہل سنت والجماعت کا عقیدہ ہے۔ اس کے برعکس معتزلہ اور جہمیہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہر جگہ موجود ہے، عرش پر بلند نہیں ہے، یہ حدیث اہل سنت کی ان کے خلاف (زبر دست) دلیل ہے ۔
(التمهيد: 129/7)
ایک دوسرے مقام پر فرماتے ہیں:
عَلى هَذَا أَهْلُ الْحَقِّ.
’’اہل حق کا یہی عقیدہ ہے کہ اللہ تعالی عرش پر بلند ہے، ہر جگہ نہیں ۔‘‘
(التمهيد لما في الموطأ من المعاني والأسانيد: 80/22)
’’یعنی جو اللہ تعالیٰ کو عرش کی بجائے ہر جگہ مانتا ہے، وہ امام ابن عبد البر رحمتہ اللہ ، بلکہ تمام محدثین کرام رحمتہ اللہ کے نزدیک حق پر نہیں ہے۔ والحمد للہ علی ذلک!
الحاصل:
نزول باری تعالیٰ صفات باری تعالیٰ میں سے ایک صفت فعلیہ ہے اور یہ نزول حقیقی ہے، جیسے اللہ تعالیٰ کے شایانِ شان ہے۔