نحوست کے 6 باطل تصورات اور ان کا شرعی رد

ماخوذ : فتاویٰ شیخ الحدیث مبارکپوری، جلد نمبر 1، صفحہ نمبر 56
مضمون کے اہم نکات

بدشگونی اور نحوست سے متعلق شرعی رہنمائی

سوال:

کیا بدشگونی (شگونِ بد) کا تصور دینِ اسلام میں موجود ہے؟
کیا مخصوص دن، تاریخ یا مہینے کو منحوس سمجھنا، یا کسی پرندے مثلاً کوّا یا اُلو کا گھر یا درخت پر بولنا منحوس خیال کرنا درست ہے؟
اسی طرح بعض لوگوں کا یہ خیال کہ کسی خاص نشان والا گھوڑا گھر میں نحوست لاتا ہے جبکہ کچھ مخصوص رنگ کے جانور مثلاً گائے، بیل یا گھوڑا باعثِ برکت ہوتے ہیں — کیا یہ درست ہے؟
کیا گھر یا دکان کی دہلیز کا مخصوص رخ تنزلی یا ترقی کا سبب بنتا ہے؟
کیا مخصوص دن یا مہینے میں سفر کو نامبارک سمجھنے کا عقیدہ درست ہے؟
بعض احادیث میں آیا ہے کہ:
"مکان، گھوڑا، عورت میں نحوست ہے۔”
(بخاری: کتاب الطب، باب الطیرۃ، 7/26؛ مسلم: کتاب السلام، باب الفأل، حدیث 2225، 4/1747)

کیا یہ بات درست ہے؟ خاص طور پر "مکان، گھوڑا اور عورت” کے بارے میں وضاحت فرمائیں۔

جواب:

الحمد للہ، والصلاة والسلام علی رسول اللہ، أما بعد:

شریعت کی روشنی میں بدشگونی:

اسلامی تعلیمات کے مطابق "بدشگونی” کا کوئی وجود نہیں۔
◈ کسی تاریخ، دن یا مہینے کو منحوس سمجھنا، پرندوں کی مخصوص آوازوں کو نحوست کی علامت خیال کرنا، یا مخصوص جانوروں کی موجودگی کو برکت یا بدبختی سے جوڑنا شرعاً ناجائز ہے۔
◈ اسی طرح گھر یا دکان کی دہلیز کے کسی خاص سمت میں ہونے کو ترقی یا تنزلی کا سبب سمجھنا، یا مخصوص دن، تاریخ یا مہینے میں سفر کو نامبارک سمجھنا بھی اسلامی عقائد کے خلاف ہے۔

احادیث سے رہنمائی:

بہت سی صحیح احادیث اس بات کو واضح کرتی ہیں کہ کسی چیز میں ذاتی نحوست نہیں ہوتی۔
نہ مرد میں، نہ عورت میں، نہ گھوڑے میں، نہ کسی اور چیز میں۔

متضاد احادیث کی وضاحت:

◈ بعض احادیث میں آیا ہے کہ عورت، مکان اور گھوڑے میں نحوست ہوتی ہے۔
امام مالک رحمہ اللہ اور بعض دیگر اہلِ علم نے ان احادیث کا یہ مفہوم لیا ہے کہ:
➤ اللہ تعالیٰ کی مشیّت اور قضاء سے یہ چیزیں بعض اوقات نقصان یا ہلاکت کا ظاہری سبب بن سکتی ہیں۔
➤ یہ چیزیں بذاتِ خود مؤثر نہیں ہوتیں بلکہ اصل مؤثر اللہ تعالیٰ ہی ہے۔

اہم وضاحت:

◈ اگر یہ مان لیا جائے کہ کوئی عورت، مکان یا گھوڑا بذاتِ خود نفع یا نقصان پہنچاتا ہے، تو یہ تصور شرک کے زمرے میں آتا ہے۔
◈ مؤثر حقیقی اور نفع و ضرر دینے والا صرف اللہ رب العزت ہے۔

متضاد احادیث کی تاویلات:

جمہور علماء کا موقف:
◈ جمہور علماء کا مؤقف یہ ہے کہ کسی چیز میں نہ ذاتی نحوست ہوتی ہے، نہ عارضی یا سببی نحوست۔
◈ ان کے نزدیک ان احادیث کو ظاہری معنوں پر لینا درست نہیں۔
◈ وہ ان احادیث کی درج ذیل تاویلات کرتے ہیں:

عورت میں نحوست کی تاویل:

◈ اگر عورت بدخلق ہو، بدزبان ہو، شوہر کی نافرمان ہو، یا اس سے اولاد نہ ہو، یا شوہر کے مزاج سے نہ ملتی ہو — تو ان حالات کو نحوست سے تعبیر کیا گیا ہے۔

مکان میں نحوست کی تاویل:

◈ اگر گھر تنگ ہو، ہمسائے برے ہوں، آب و ہوا ناسازگار ہو، یا مسجد سے بہت دور ہو — تو ایسی مشکلات کو نحوست سے تعبیر کیا گیا ہے۔

گھوڑے میں نحوست کی تاویل:

◈ اگر گھوڑا سرکش ہو، قابو میں نہ آتا ہو، مہنگا ہو، یا مطلوبہ کام نہ دیتا ہو — تو اسے نحوست کا ذریعہ سمجھا گیا ہے۔

خلاصہ:

◈ کسی چیز کو بذاتِ خود نحوست کا باعث سمجھنا شرک ہے۔
◈ اسلام صرف اللہ تعالیٰ کو مؤثرِ حقیقی مانتا ہے۔
◈ امام مالک رحمہ اللہ اور دیگر بعض اہل علم نے جن معنوں میں عورت، مکان اور گھوڑے کو نقصان دہ قرار دیا، وہ ظاہری اسباب کی حیثیت سے ہے نہ کہ ذاتی تاثیر کے طور پر۔
◈ راجح اور معتبر قول جمہور علماء کا ہے، جو کسی چیز میں مطلقاً نحوست کو تسلیم نہیں کرتے۔

ھٰذا ما عندی واللہ أعلم بالصواب

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سوشل میڈیا پر یہ مضمون فیچرڈ امیج کے ساتھ شئیر کرنے کے لیے یہ تصویر محفوظ کریں ⬇️