نجس کپڑوں میں جمعہ کی نماز پڑھانے کا شرعی حکم

ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال :

جس امام نے جمعہ کی نماز پڑھائی ، اسے بعد میں معلوم ہوا کہ اس نے نجس کپڑوں میں نماز پڑھادی ، تو کیا حکم ہے؟

جواب:

اسے اعادہ کی ضرورت نہیں ، اس کی نماز صحیح ہے۔
❀ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
إن رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى فى نعليه، فصلى الناس فى نعالهم، ثم ألقى نعليه ، فألقى الناس نعالهم وهم فى الصلاة، فلما قضى صلاته قال : ما حملكم على إلقاء نعالكم فى الصلاة؟ قالوا : يا رسول الله، رأيناك فعلت ففعلنا، قال : إن جبريل أخبرني أن فيها أذى، فإذا أتى أحدكم المسجد فلينظر فإن رأى فى نعليه أذى، وإلا فليصل فيهما .
”رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جوتے پہن کر نماز پڑھائی ، صحابہ کرام نے بھی جوتوں سمیت نماز ادا کی ، پھر دوران نماز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جوتے اتار دیئے ، یہ دیکھ کر صحابہ نے بھی جوتے اتار دیے، نماز کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آپ نے جوتے کیوں اتارے؟ صحابہ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ کو دیکھا، تو اتار دیے، فرمایا: مجھے جبریل علیہ السلام نے بتایا تھا کہ جوتا نجاست آلود ہے۔ لہذا آپ مسجد آنے سے قبل جوتا دیکھ لیا کریں، اس میں نجاست ہو، تو اتار دیا کریں، ورنہ اسی میں نماز ادا کر لیا کریں۔“
(مسند الطيالسي ، ص 286 ، مسند الإمام أحمد : 20/3 ، سنن أبي داود : 650 . مسند ابن حميد : 880 ، مسند أبي يعلى : 1194 ، السنن الكبرى : 406/2، وسنده صحيح)
اس حدیث کو امام ابن خزیمہ (1017) اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (2185) نے صحیح کہا ہے، حافظ حاکم رحمہ اللہ (260/1) نے اس کو امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر ”صحیح“ کہا ہے،
❀ حافظ نووی رحمہ اللہ نے اس کی سند کو ”صحیح“ کہا ہے۔
(خلاصة الأحكام : 319/1)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جتنی نماز نجس جوتے میں پڑھائی ،اسے نہیں لوٹا یا، بلکہ اسے صحیح قرار دیا، لہذا اس حدیث سے ثابت ہوا کہ جو شخص نجس کپڑوں میں نماز پڑھا دے، تو امام اور مقتدی دونوں کی نماز صحیح ہے۔
البتہ اگر وضو یا غسل کے بغیر نماز پڑھا دی ، تو امام دوبارہ نماز پڑھے، مگر مقتدیوں کی نماز درست اور صحیح ہے، انہیں اعادہ کی ضرورت نہیں ۔

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے