مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

نبی ﷺ کے وسیلے سے دعا مانگنے کا شرعی حکم – ایک اہم فتویٰ

فونٹ سائز:
ماخوذ : فتاویٰ علمیہ، جلد 1، کتاب الصلاة، صفحہ 469
مضمون کے اہم نکات

نبی ﷺ کے وسیلے سے دعا مانگنے کا حکم

سوال 

نبی ﷺ کے وسیلے سے دعا مانگنا
سائلہ: ایک بہن، ٹنڈو آدم، سندھ

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

نبی کریم ﷺ کے وسیلے سے دعا مانگنے کا شرعی حکم

  • ◈ نبی کریم ﷺ کے وسیلے سے دعا مانگنے کی نہ قرآن مجید سے کوئی دلیل موجود ہے اور نہ ہی صحیح احادیث سے کوئی ثبوت ملتا ہے۔
  • ◈ لہٰذا نبی کریم ﷺ کے وسیلے سے دعا کرنا بدعت ہے۔

سیدنا عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ کی روایت کی وضاحت

  • ◈ جو روایت سیدنا عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ سے منقول ہے، اس کا تعلق ایک زندہ شخص کے لیے دعا کرنے سے ہے، نہ کہ وسیلہ سے۔
  • ◈ نبی کریم ﷺ نے اس شخص کے بارے میں خود دعا کرنے کا وعدہ فرمایا تھا۔
  • ◈ کسی بھی صحیح حدیث میں یہ بات ثابت نہیں ہے کہ نبی کریم ﷺ کی وفات کے بعد آپ کے وسیلے سے دعا مانگی گئی ہو۔

سلف صالحین کا طریقہ

  • ◈ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، تابعین، اور تبع تابعین کسی نے بھی نبی ﷺ کے وسیلے سے دعا نہیں مانگی۔
  • ◈ وہ تمام بزرگ حضرات براہ راست اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے رہے بغیر کسی واسطے کے۔
  • ◈ لہٰذا ہر مسلمان کو بھی اللہ تعالیٰ ہی سے بغیر کسی وسیلے کے دعا مانگنی چاہیے۔

ضعیف روایت کی وضاحت

  • ◈ بعض لوگ طبرانی کی ایک روایت کا حوالہ دیتے ہیں جس میں سیدنا عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ سے نبی کریم ﷺ کی وفات کے بعد دعا کرنے کا ذکر ملتا ہے۔
  • اس روایت کی سند ضعیف ہے۔
  • ◈ اس کی تردید کے لیے دیکھیے:
    شیخ البانی کی کتاب: التوسل وأحكامه (شہادت، اگست 2001)

ھذا ما عندي واللہ أعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔