نبی ﷺ کے منبر سے پہلے کھجور کے تنے کا معجزہ حدیث کی روشنی میں
یہ اقتباس شیخ مبشر احمد ربانی کی کتاب احکام و مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

سوال:

کھجور کے درخت کے جس تنے کے ساتھ ٹیک لگا کر خطبہ دیتے تھے اور بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر بن جانے کے بعد اس پر ٹیک لگانا چھوڑ دیا تو اس سے جو رونے کی آواز آتی تھی وہ بچے کے رونے کی طرح کی آواز تھی یا حاملہ اونٹنی کی آواز کی طرح؟

جواب:

جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے مروی حدیث میں کھجور کے اس تنے سے بچے کے رونے کی طرح کی آواز کا ذکر ہے، جس کے ساتھ ٹیک لگا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ ارشاد فرمایا کرتے تھے۔(بخاری، کتاب المناقب، باب علامات النبوة في الإسلام 3584) اور جابر رضی اللہ عنہ کی دوسری حدیث میں اس حاملہ اونٹنی کی آواز کے مشابہ آواز کا ذکر ہے جسے دس ماہ ہو چکے ہوتے ہیں۔(بخاری 3585) اور سنن الدارمی (41)میں انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں بیل کی آواز سے مشابہ آواز کا ذکر ہے اور ان روایات صحیحہ میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ بچہ جب روتا ہے تو طرح طرح کی آوازیں نکالتا ہے، ایک واقعہ میں مختلف آواز میں سنائی دے سکتی ہیں۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جس کے مشابہ آواز کبھی اس کا ذکر کر دیا، لہٰذا یہ ساری صورتیں درست ہیں۔

یہ پوسٹ اپنے دوست احباب کیساتھ شئیر کریں

فیس بک
وٹس اپ
ٹویٹر ایکس
ای میل

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے