مضمون کے اہم نکات
اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری رسول، حضرت محمد ﷺ کو بے شمار معجزات عطا فرمائے جو آپ ﷺ کے صدقِ نبوت کی روشن دلیل ہیں۔ ان معجزات میں ایک نمایاں پہلو وہ پیشین گوئیاں ہیں جو آپ ﷺ نے مختلف مواقع پر ارشاد فرمائیں۔ ان میں سے بہت سی پیشین گوئیاں ایسی ہیں جو بعینہٖ پوری ہو چکی ہیں، جبکہ کچھ ایسی ہیں جو مستقبل سے تعلق رکھتی ہیں اور ابھی پوری ہونا باقی ہیں، لیکن ہمارا ایمان ہے کہ وہ بھی اپنے وقت پر ضرور پوری ہوں گی۔
اس مضمون میں ہم اُن پیشین گوئیوں کا تذکرہ کر رہے ہیں جو پوری ہو چکی ہیں، تاکہ ان سے عبرت حاصل کی جائے، اپنے عقائد و اعمال کی اصلاح کی جائے اور رسول اکرم ﷺ کی صداقت پر ہمارا یقین مزید مضبوط ہو۔ یہ پیشین گوئیاں دو قسموں میں تقسیم کی جا سکتی ہیں:
◈ وہ پیشین گوئیاں جن کا تعلق مختلف واقعات سے ہے
◈ وہ پیشین گوئیاں جن کا تعلق لوگوں کے اعمال سے ہے
اس حصے میں ہم سب سے پہلے اُن پیشین گوئیوں کا ذکر کریں گے جو مختلف تاریخی واقعات سے متعلق ہیں۔
پہلی پیشین گوئی
راستوں کا پُرامن ہو جانا اور کسریٰ کے خزانوں کی فتح
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ وہ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر تھے۔ اسی دوران ایک شخص آیا جس نے فقر و فاقہ کی شکایت کی، پھر دوسرا شخص آیا جس نے راستوں کے غیر محفوظ ہونے اور لوٹ مار کی شکایت کی۔ اس موقع پر نبی کریم ﷺ نے حضرت عدی رضی اللہ عنہ سے فرمایا:
(( فَإِنْ طَالَتْ بِکَ حَیَاۃٌ لَتَرَیَنَّ الظَّعِیْنَۃَ تَرْتَحِلُ مِنَ الْحِیْرَۃِ حَتّٰی تَطُوْفَ بِالْکَعْبَۃِ، لَا تَخَافُ أَحَدًا إِلَّا اللّٰہَ ))
ترجمہ:
اگر تمہاری زندگی دراز ہوئی تو تم ضرور دیکھو گے کہ ایک عورت حِیرہ سے اکیلی سفر کرے گی اور خانہ کعبہ کا طواف کرے گی، اور اسے اللہ کے سوا کسی کا خوف نہ ہوگا۔
یہ پیشین گوئی اس بات کی خبر تھی کہ اسلامی نظام کے قیام کے بعد راستے مکمل طور پر پُرامن ہو جائیں گے۔
پھر آپ ﷺ نے دوسری پیشین گوئی فرمائی:
(( وَلَئِنْ طَالَتْ بِکَ حَیَاۃٌ لَتُفْتَحَنَّ کُنُوْزُ کِسْرٰی ))
“اور اگر تمہاری زندگی طویل ہوئی تو (اے عمر!) کسریٰ کے خزانے ضرور فتح کیے جائیں گے۔”
حضرت عدی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: کیا کسریٰ بن ہرمز کے خزانے؟
آپ ﷺ نے فرمایا:
(( کِسْرٰی بْنُ ہُرْمُزَ ))
ترجمہ:
اگر تمہاری زندگی لمبی ہوئی تو تم ضرور دیکھو گے کہ کسریٰ بن ہرمز کے خزانے فتح کر لیے جائیں گے۔
اس کے بعد نبی کریم ﷺ نے تیسری پیشین گوئی فرمائی:
(( وَلَئِنْ طَالَتْ بِکَ حَیَاۃٌ لَتَرَیَنَّ الرَّجُلَ یُخْرِجُ مِلْئَ کَفِّہٖ مِنْ ذَہَبٍ أَوْ فِضَّۃٍ یَطْلُبُ مَنْ یَّقْبَلُہُ مِنْہُ، فَلَا یَجِدُ أَحَدًا یَقْبَلُہُ مِنْہُ… ))
ترجمہ:
اگر تمہاری زندگی دراز ہوئی تو تم دیکھو گے کہ ایک شخص مٹھی بھر سونا یا چاندی لے کر ایسے آدمی کو تلاش کرے گا جو اسے قبول کر لے، لیکن کوئی اسے لینے والا نہ ہوگا۔
پھر قیامت کے دن بندے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان ہونے والی گفتگو کا ذکر فرمایا، جس میں اعمال کا محاسبہ بیان کیا گیا اور جہنم کے انجام سے ڈرایا گیا۔
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کی پہلی دو پیشین گوئیاں اپنی زندگی میں حرف بحرف پوری ہوتے دیکھی۔ عورت کا حِیرہ سے اکیلے مکہ آنا اور کسریٰ کے خزانوں کی فتح—ان دونوں واقعات کے وہ خود گواہ تھے۔ وہ فرماتے ہیں کہ تیسری پیشین گوئی بھی یقیناً پوری ہو کر رہے گی، جیسا کہ بعد میں حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے دور میں ایسا ہی ہوا، جب خوشحالی اس قدر عام ہو گئی کہ صدقہ لینے والا کوئی نہ ملتا تھا۔
صحیح البخاری: 3595
دوسری پیشین گوئی
خوارج کا ظہور
رسول اکرم ﷺ نے ایک ایسے گمراہ فرقے کے ظہور کے بارے میں پیشین گوئی فرمائی جو بظاہر عبادت گزار ہوگا لیکن عقیدے اور طرزِ فکر کے اعتبار سے دین سے خارج ہوگا۔ یہ پیشین گوئی بھی حرف بحرف پوری ہوئی۔
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر تھے اور آپ ﷺ مال تقسیم فرما رہے تھے۔ اسی دوران بنی تمیم کا ایک شخص، جس کا نام ذو الخویصرہ تھا، آیا اور اس نے کہا:
’’اے اللہ کے رسول! عدل و انصاف کریں‘‘
یہ بات سن کر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
(( وَیْلَکَ! وَمَنْ یَّعْدِلُ إِذَا لَمْ أَعْدِلْ؟ قَدْ خِبْتُ وَخَسِرْتُ إِنْ لَّمْ أَکُنْ أَعْدِلُ ))
ترجمہ:
تیرا ناس ہو! اگر میں عدل نہ کروں تو پھر کون عدل کرے گا؟ اگر میں انصاف نہ کروں تو میں تباہ و برباد ہو جاؤں۔
یہ سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا:
اے اللہ کے رسول! مجھے اجازت دیجئے کہ میں اس کی گردن اڑا دوں۔
تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
(( دَعْہُ، فَإِنَّ لَہُ أَصْحَابًا یَحْقِرُ أَحَدُکُمْ صَلَاتَہُ مَعَ صَلَاتِہِمْ، وَصِیَامَہُ مَعَ صِیَامِہِمْ، یَقْرَؤُنَ الْقُرْآنَ لَا یُجَاوِزُ تَرَاقِیَہُمْ، یَمْرُقُونَ مِنَ الدِّیْنِ کَمَا یَمْرُقُ السَّہْمُ مِنَ الرَّمِیَّۃِ… ))
ترجمہ:
اسے چھوڑ دو، کیونکہ اس کے کچھ ایسے ساتھی ہوں گے کہ تم اپنی نمازوں کو ان کی نمازوں کے مقابلے میں اور اپنے روزوں کو ان کے روزوں کے مقابلے میں حقیر سمجھو گے۔ وہ قرآن پڑھیں گے مگر وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، اور وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار کے جسم سے نکل جاتا ہے۔
پھر آپ ﷺ نے مثال بیان فرمائی کہ تیر کے ہر حصے کو دیکھا جائے گا مگر اس پر شکار کے خون یا گوشت کا کوئی اثر نہ ہوگا، حالانکہ وہ شکار کو چیرتا ہوا نکل چکا ہوگا۔ یعنی ان لوگوں کے اعمال میں دین کی حقیقت باقی نہیں رہے گی۔
پھر نبی کریم ﷺ نے خوارج کی ایک خاص نشانی بھی بیان فرمائی:
(( آیَتُہُمْ رَجُلٌ أَسْوَدُ إِحْدَی عَضُدَیْہِ مِثْلُ ثَدْیِ الْمَرْأَۃِ، أَوْ مِثْلُ الْبَضْعَۃِ تَدَرْدَرُ، وَیَخْرُجُونَ عَلٰی حِیْنِ فُرْقَۃٍ مِنَ النَّاسِ ))
ترجمہ:
ان کی نشانی یہ ہوگی کہ ان میں ایک سیاہ رنگ کا آدمی ہوگا جس کا ایک بازو عورت کے پستان کی طرح یا لٹکتے ہوئے گوشت کے لوتھڑے کی طرح ہوگا، اور یہ لوگ اس وقت نکلیں گے جب مسلمانوں میں اختلاف اور انتشار پیدا ہو چکا ہوگا۔
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ میں نے یہ حدیث خود رسول اللہ ﷺ سے سنی تھی، اور میں اس بات کی بھی گواہی دیتا ہوں کہ یہ پیشین گوئی حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں پوری ہوئی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے خوارج سے قتال کیا اور میں خود بھی اس جنگ میں ان کے ساتھ شریک تھا۔ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حکم سے اس مخصوص شخص کو تلاش کیا گیا جس کی نشانی رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمائی تھی، اور جب اسے لایا گیا تو اس کی ہیئت بالکل ویسی ہی تھی جیسی نبی کریم ﷺ نے بیان کی تھی۔
صحیح البخاری: 3610
صحیح مسلم: 1064
تیسری پیشین گوئی
بدر میں سردارانِ قریش کے قتل کی خبر
رسول اکرم ﷺ نے جنگِ بدر سے ایک دن پہلے کفارِ قریش کے متعدد سرداروں کے نام لے کر ان کی قتل گاہوں کی نشاندہی فرمائی۔ یہ پیشین گوئی بھی بعینہٖ پوری ہوئی اور اس میں ذرا برابر فرق نہ آیا۔
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ سفر کر رہے تھے۔ دورانِ سفر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اہلِ بدر کے متعلق ایک حدیث بیان کی اور فرمایا کہ جنگِ بدر سے ایک دن پہلے رسول اللہ ﷺ نے ہمیں اطلاع دی تھی:
(( ہٰذَا مَصْرَعُ فُلَانٍ غَدًا إِنْ شَاءَ اللّٰہُ ))
ترجمہ:
فلاں شخص کل یہاں قتل کیا جائے گا، اگر اللہ نے چاہا۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
اس ذات کی قسم جس نے محمد ﷺ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا! جس جگہ رسول اللہ ﷺ نے کسی شخص کے قتل کی نشاندہی فرمائی تھی، وہ اس سے ایک بال برابر بھی اِدھر اُدھر نہ ہوا، بلکہ وہ بعینہٖ اسی جگہ پر قتل ہوا۔
صحیح مسلم: 2873
یہ واقعہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے غیب کی وہ خبریں دی جاتی تھیں جو عام انسانی علم سے بالاتر تھیں، اور یہ سب وحی الٰہی کے ذریعے تھا۔
چوتھی پیشین گوئی
خودکشی کرنے والے شخص کا انجام
حضرت سہل بن سعد الساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک جنگ کے موقع پر رسول اللہ ﷺ اور مشرکین کے درمیان شدید لڑائی ہوئی۔ جنگ کے بعد رسول اللہ ﷺ اپنی قیام گاہ کی طرف لوٹ آئے اور لوگ بھی اپنے اپنے ٹھکانوں پر چلے گئے۔
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم میں سے ایک شخص ایسا تھا کہ میدانِ جنگ میں مشرکین میں سے جو بھی اس کے سامنے آتا وہ اس پر ٹوٹ پڑتا اور اپنی تلوار سے اسے قتل کر دیتا۔ اس کی جرأت و بہادری دیکھ کر صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کہنے لگے:
’’آج جس طرح اس شخص نے بہادری دکھائی ہے، ہم میں سے کسی نے نہیں دکھائی۔‘‘
یہ سن کر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
(( أَمَا إِنَّہُ مِنْ أَہْلِ النَّارِ ))
ترجمہ:
خبردار! وہ جہنمی ہے۔
یہ بات سن کر صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم پر یہ بات بہت گراں گزری۔ چنانچہ ان میں سے ایک صحابی نے کہا کہ میں آج اس کے ساتھ رہوں گا تاکہ دیکھ سکوں کہ آخر وہ جہنمی کیوں ہے۔
وہ صحابی اس شخص کے ساتھ ساتھ رہا۔ جہاں وہ رکتا، یہ بھی رک جاتا اور جہاں وہ تیز چلتا، یہ بھی تیز چلنے لگتا۔ آخرکار وہ شخص شدید زخمی ہو گیا۔ زخموں کی تکلیف برداشت نہ کر سکا اور اس نے موت میں جلد بازی کرتے ہوئے خودکشی کر لی۔
اس نے تلوار کا قبضہ زمین پر ٹکایا، اس کی نوک اپنے دونوں سینوں کے درمیان رکھی اور پورا جسم اس پر ڈال دیا، یہاں تک کہ وہ ہلاک ہو گیا۔
یہ منظر دیکھ کر تعاقب کرنے والا صحابی فوراً رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا:
’’أَشْہَدُ أَنَّکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ‘‘
میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ یقیناً اللہ کے رسول ہیں۔
آپ ﷺ نے فرمایا:
’’کیا بات ہے؟‘‘
اس صحابی نے پورا واقعہ بیان کیا کہ کس طرح وہ شخص خودکشی کر کے ہلاک ہوا۔ یہ سن کر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
(( إِنَّ الرَّجُلَ لَیَعْمَلُ عَمَلَ أَہْلِ الْجَنَّۃِ فِیْمَا یَبْدُوْ لِلنَّاسِ وَہُوَ مِنْ أَہْلِ النَّارِ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَیَعْمَلُ عَمَلَ أَہْلِ النَّارِ فِیْمَا یَبْدُوْ لِلنَّاسِ وَہُوَ مِنْ أَہْلِ الْجَنَّۃِ ))
ترجمہ:
بے شک ایک آدمی بظاہر اہلِ جنت کے اعمال کرتا ہے، حالانکہ وہ اہلِ جہنم میں سے ہوتا ہے، اور ایک آدمی بظاہر اہلِ جہنم کے اعمال کرتا ہے، حالانکہ وہ اہلِ جنت میں سے ہوتا ہے۔
صحیح البخاری: 2898
صحیح مسلم: 112
پانچویں پیشین گوئی
حضرت حسن رضی اللہ عنہ اور دو جماعتوں کے درمیان صلح
رسول اکرم ﷺ نے اپنے نواسے حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں ایک عظیم پیشین گوئی فرمائی جو بعینہٖ پوری ہوئی۔
حضرت ابو بکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ اپنے نواسے حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو گھر سے باہر لائے، پھر انہیں منبر پر بٹھایا اور ارشاد فرمایا:
(( اِبْنِی ہٰذَا سَیِّدٌ، وَلَعَلَّ اللّٰہَ أَنْ یُّصْلِحَ بِہٖ بَیْنَ فِئَتَیْنِ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ ))
ترجمہ:
میرا یہ بیٹا سردار ہے، اور شاید اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے مسلمانوں کی دو جماعتوں کے درمیان صلح کروا دے۔
صحیح البخاری: 3629
یہ پیشین گوئی اس وقت پوری ہوئی جب حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد حضرت حسن رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے۔ دوسری طرف حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ ایک بڑی فوج کے ساتھ مقابلے کیلئے تیار تھے، لیکن حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں کے خون سے بچنے اور امت میں اتحاد قائم رکھنے کیلئے خلافت سے دستبردار ہو کر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں صلح کر لی۔ یوں مسلمانوں کی دو بڑی جماعتوں کے درمیان صلح ہو گئی۔
یہ پورا واقعہ صحیح بخاری میں تفصیل کے ساتھ مذکور ہے۔
صحیح البخاری: 2704
چھٹی پیشین گوئی
قیصر و کسریٰ کی ہلاکت
رسول اللہ ﷺ نے دنیا کی دو عظیم سلطنتوں—روم اور فارس—کے انجام کے بارے میں بھی پیشین گوئی فرمائی، جو بعد میں حرف بحرف پوری ہوئی۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
(( إِذَا ہَلَکَ کِسْرٰی فَلَا کِسْرٰی بَعْدَہُ، وَإِذَا ہَلَکَ قَیْصَرُ فَلَا قَیْصَرَ بَعْدَہُ، وَالَّذِیْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہٖ لَتُنْفَقَنَّ کُنُوْزُہُمَا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ))
ترجمہ:
جب کسریٰ (بادشاہِ فارس) ہلاک ہو جائے گا تو اس کے بعد کوئی اور کسریٰ نہیں آئے گا، اور جب قیصر (بادشاہِ روم) ہلاک ہو جائے گا تو اس کے بعد کوئی اور قیصر نہیں آئے گا، اور اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ﷺ کی جان ہے! ان دونوں کے خزانے ضرور اللہ کے راستے میں خرچ کیے جائیں گے۔
صحیح البخاری: 3618
صحیح مسلم: 2918
یہ پیشین گوئی خلفائے راشدین خصوصاً حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہما کے دور میں پوری ہوئی، جب فارس اور روم کی سلطنتیں فتح ہوئیں اور دوبارہ قائم نہ ہو سکیں، اور ان کے خزانے اللہ کے راستے میں خرچ کیے گئے۔
ساتویں پیشین گوئی
جھوٹے مدعیانِ نبوت
رسول اکرم ﷺ نے اپنی امت میں جھوٹے مدعیانِ نبوت کے ظاہر ہونے کی بھی خبر دی۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
(( وَلَا تَقُوْمُ السَّاعَۃُ حَتّٰی یُبْعَثَ دَجَّالُوْنَ کَذَّابُوْنَ قَرِیْبًا مِّنْ ثَلَاثِیْنَ، کُلُّہُمْ یَزْعُمُ أَنَّہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ))
ترجمہ:
قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ قریب قریب تیس جھوٹے دجال ظاہر ہوں گے، اور ان میں سے ہر ایک یہ دعویٰ کرے گا کہ وہ اللہ کا رسول ہے۔
صحیح البخاری: 3609
اسی مفہوم کی ایک اور حدیث حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:
(( وَإِنَّہُ سَیَکُوْنُ فِیْ أُمَّتِیْ ثَلَاثُوْنَ کَذَّابُوْنَ، کُلُّہُمْ یَزْعُمُ أَنَّہُ نَبِیٌّ، وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ، لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ ))
ترجمہ:
میری امت میں تیس جھوٹے مدعی آئیں گے، ان میں سے ہر ایک نبوت کا دعویٰ کرے گا، حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
سنن ابی داود: 4252
سنن الترمذی: 2219
(وصححہ الالبانی)
یہ پیشین گوئی نبی کریم ﷺ کی زندگی ہی میں پوری ہو گئی جب مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا۔ بعد کے ادوار میں بھی مختلف جھوٹے مدعی ظاہر ہوتے رہے، جن میں قادیان کے مرزا غلام احمد کا فتنہ بھی شامل ہے۔
صحیح البخاری: 3620، 3621
آٹھویں پیشین گوئی
منکرینِ حدیث کا ظہور
رسول اکرم ﷺ نے اپنی امت میں ایک ایسے طبقے کے ظاہر ہونے کی پیشین گوئی فرمائی جو صرف قرآن مجید کو حجت مانے گا اور احادیثِ نبویہ کا انکار کرے گا۔ یہ پیشین گوئی بھی بعینہٖ پوری ہو چکی ہے۔
حضرت مقدام بن معدی کرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
(( أَلَا إِنِّی أُوْتِیْتُ الْکِتَابَ وَمِثْلَہُ مَعَہُ، أَلَا یُوْشِکُ رَجُلٌ شَبْعَانُ عَلٰی أَرِیْکَتِہٖ یَقُوْلُ: عَلَیْکُمْ بِہٰذَا الْقُرْآنِ، فَمَا وَجَدْتُّمْ فِیْہِ مِنْ حَلَالٍ فَأَحِلُّوْہُ، وَمَا وَجَدْتُّمْ فِیْہِ مِنْ حَرَامٍ فَحِرِّمُوْہُ… ))
ترجمہ:
خبردار! مجھے قرآن دیا گیا ہے اور اس کے ساتھ اس جیسی ایک اور چیز (یعنی سنت) بھی دی گئی ہے۔ خبردار! عنقریب ایک آدمی پیٹ بھر کر اپنے تخت پر ٹیک لگا کر کہے گا: بس تم اس قرآن کو لازم پکڑو، اس میں جو چیز حلال پاؤ اسے حلال سمجھو اور جو حرام پاؤ اسے حرام سمجھو۔
پھر آپ ﷺ نے واضح فرمایا کہ گھریلو گدھے کا گوشت اور کچلیوں والے درندے بھی حرام ہیں، حالانکہ ان کی حرمت قرآن میں صراحتاً مذکور نہیں بلکہ سنت سے ثابت ہے۔
سنن ابی داود: 4604
(وصححہ الالبانی)
اسی مفہوم کی ایک اور روایت سنن ابن ماجہ میں موجود ہے:
(( أَلَا وَإِنَّ مَا حَرَّمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِثْلُ مَا حَرَّمَ اللّٰہُ ))
ترجمہ:
خبردار! جس چیز کو رسول اللہ ﷺ نے حرام قرار دیا ہے، وہ بھی اسی طرح حرام ہے جیسے اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہو۔
سنن ابن ماجہ: 12
(وصححہ الالبانی)
ان احادیث سے واضح ہوتا ہے کہ سنت بھی شریعت میں مستقل حجت ہے، اور اس کا انکار درحقیقت دین کے ایک بڑے حصے کا انکار ہے۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا شوقِ حدیث
یہ ایک ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو نبی کریم ﷺ کی احادیث سے بے حد محبت تھی۔ وہ نہ صرف انہیں یاد کرتے بلکہ آگے پہنچانے کو بھی عظیم سعادت سمجھتے تھے۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ وہ بہت زیادہ احادیث روایت کرتے ہیں، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ ایک مسکین آدمی تھے اور زیادہ وقت رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر رہتے تھے، جبکہ مہاجرین تجارت میں اور انصار اپنے کھیتوں میں مصروف رہتے تھے۔
ایک دن رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
(( مَنْ یَّبْسُطُ ثَوْبَہُ فَلَنْ یَّنْسٰی شَیْئًا سَمِعَہُ مِنِّیْ ))
ترجمہ:
جو شخص اپنی چادر پھیلائے گا، وہ مجھ سے سنی ہوئی کوئی بات نہیں بھولے گا۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے اپنی چادر پھیلا دی، پھر اسے اپنے سینے سے لگا لیا، اور اس دن کے بعد وہ کوئی حدیث نہیں بھولے۔
صحیح البخاری: 118، 2047، 2350
صحیح مسلم: 2492
طلبِ حدیث کیلئے صحابہ کے اسفار
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم صرف ایک حدیث کے حصول کیلئے مہینوں کے سفر کیا کرتے تھے۔
پہلا واقعہ: حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہیں ایک حدیث کا علم ہوا جو انہوں نے خود رسول اللہ ﷺ سے نہیں سنی تھی بلکہ ایک دوسرے صحابی سے مروی تھی۔ چنانچہ انہوں نے ایک اونٹ خریدا اور ایک ماہ کا سفر طے کر کے شام پہنچے، جہاں حضرت عبد اللہ بن انیس رضی اللہ عنہ مقیم تھے، اور ان سے وہ حدیث سنی۔
اس حدیث میں قیامت کے دن مظالم کے بدلے، نیکیوں اور برائیوں کے ذریعے قصاص کا ذکر ہے۔
البخاری فی الأدب المفرد
مسند احمد
الطبرانی
البيهقی
طلبِ حدیث کیلئے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا سفر
دوسرا واقعہ: حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو رسول اللہ ﷺ کی احادیثِ مبارکہ سے اس قدر محبت تھی کہ وہ ایک ایک حدیث کے حصول کیلئے طویل اور مشقت بھرے سفر اختیار کرتے تھے۔
حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے محض ایک حدیث کی تصدیق کیلئے مدینہ منورہ سے مصر کا سفر کیا۔ وہ حضرت عقبہ بن عامر الجہنی رضی اللہ عنہ سے اس حدیث کے بارے میں سوال کرنا چاہتے تھے جسے رسول اللہ ﷺ سے سننے والوں میں صرف وہی صحابی موجود تھے۔
حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ سیدھے مصر کے امیر حضرت مسلمہ بن مخلد الانصاری رضی اللہ عنہ کے گھر پہنچے۔ جب معلوم ہوا کہ وہ سو رہے ہیں تو فرمایا کہ مجھے انتظار نہیں کرنا، فوراً بیدار کیا جائے۔ جب حضرت مسلمہ رضی اللہ عنہ بیدار ہوئے تو انہوں نے مہمان کو آرام کی دعوت دی، لیکن حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ پہلے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کو بلایا جائے۔
جب حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا:
کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ سے یہ حدیث خود سنی ہے کہ:
(( مَنْ سَتَرَ مُؤْمِنًا فِی الدُّنْیَا سَتَرَهُ اللَّهُ یَوْمَ الْقِیَامَةِ ))
ترجمہ:
جس شخص نے دنیا میں کسی مومن کے عیب پر پردہ ڈال دیا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے عیبوں پر پردہ ڈال دے گا۔
پھر ایک اور روایت کے بارے میں سوال کیا:
(( مَنْ وَّجَدَ مُسْلِمًا عَلٰی عَوْرَةٍ فَسَتَرَهُ فَكَأَنَّمَا أَحْیَا مَوْؤُودَةً ))
ترجمہ:
جس شخص نے کسی مسلمان کے عیب کو چھپا لیا تو گویا اس نے زندہ درگور کی گئی بچی کو قبر سے نکال کر زندہ کر دیا۔
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے تصدیق کی کہ انہوں نے یہ احادیث خود رسول اللہ ﷺ سے سنی تھیں۔ اس تصدیق کے بعد حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ فوراً اپنی سواری پر سوار ہو کر مدینہ منورہ واپس روانہ ہو گئے۔
الحمیدی: 389/1
مسند احمد: 28/613، 656
السنۃ ومکانتہا فی التشریع الإسلامی: 73
تدریب الراوی: 2/586
کتابتِ حدیث کا اہتمام
بعض لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ احادیث بعد کے زمانے میں گھڑی گئیں، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے ہی میں احادیث کو لکھنے کا اہتمام موجود تھا۔
حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
میں رسول اللہ ﷺ سے جو کچھ سنتا، اسے یاد رکھنے کیلئے لکھ لیا کرتا تھا۔ قریش کے لوگوں نے مجھے اس سے منع کیا اور کہا کہ رسول اللہ ﷺ بھی بشر ہیں، کبھی خوشی اور کبھی غصے میں بات فرماتے ہیں۔ اس پر میں نے لکھنا چھوڑ دیا اور یہ بات رسول اللہ ﷺ کے سامنے عرض کی۔
تو آپ ﷺ نے اپنی انگلی اپنے منہ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا:
(( اُكْتُبْ! فَوَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِهِ مَا یَخْرُجُ مِنْهُ إِلَّا حَقٌّ ))
ترجمہ:
لکھا کرو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اس منہ سے حق کے سوا کچھ نہیں نکلتا۔
سنن ابی داود: 3646
(وصححہ الالبانی)
یہ روایت اس بات کی قطعی دلیل ہے کہ نبی کریم ﷺ نے خود احادیث لکھنے کی اجازت بلکہ ترغیب دی۔
احادیث کو یاد کرنے اور آگے پہنچانے کی فضیلت
رسول اللہ ﷺ نے اپنی احادیث کو یاد کرنے، محفوظ کرنے اور آگے پہنچانے والوں کیلئے خصوصی دعا اور خوشخبری سنائی۔
(( نَضَّرَ اللَّهُ امْرَأً سَمِعَ مَقَالَتِی فَوَعَاهَا وَحَفِظَهَا وَبَلَّغَهَا ))
ترجمہ:
اللہ تعالیٰ اس شخص کے چہرے کو تروتازہ اور روشن کر دے جس نے میری بات سنی، اسے یاد رکھا اور اسے آگے پہنچایا۔
سنن الترمذی: 2658
سنن ابن ماجہ: 230
(وصححہ الالبانی)
دوسری روایت میں فرمایا:
(( نَضَّرَ اللَّهُ امْرَأً سَمِعَ مِنَّا شَیْئًا فَبَلَّغَهُ كَمَا سَمِعَهُ ))
ترجمہ:
اللہ تعالیٰ اس شخص کے چہرے کو تروتازہ کر دے جس نے ہم سے کوئی بات سنی اور اسے اسی طرح آگے پہنچایا جیسے اس نے سنی تھی۔
سنن الترمذی: 2657
(وصححہ الالبانی)
اعمال سے متعلق پیشین گوئیاں
رسول اکرم ﷺ کی پیشین گوئیوں کا دوسرا بڑا حصہ اُن اعمال سے متعلق ہے جو مستقبل میں امتِ مسلمہ میں عام ہو جائیں گے۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ جن اعمال کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے خبردار فرمایا تھا، وہ آج ہمارے معاشرے میں بعینہٖ موجود ہیں۔ ان پیشین گوئیوں کا مقصد محض خبر دینا نہیں تھا بلکہ امت کو متنبہ کرنا اور اصلاح کی طرف بلانا تھا۔
پہلی پیشین گوئی
امت کا یہود و نصاریٰ کے طور طریقوں کی پیروی کرنا
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
(( لَتَتَّبِعُنَّ سَنَنَ مَنْ قَبْلَكُمْ شِبْرًا بِشِبْرٍ، وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ، حَتَّىٰ لَوْ سَلَكُوا جُحْرَ ضَبٍّ لَسَلَكْتُمُوهُ ))
قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! الْيَهُودُ وَالنَّصَارَىٰ؟
قَالَ: (( فَمَنْ؟ ))
ترجمہ:
تم ضرور اپنے سے پہلے لوگوں کی بالشت بہ بالشت اور بازو بہ بازو پیروی کرو گے، یہاں تک کہ اگر وہ سانڈے کے بل میں داخل ہوں گے تو تم بھی انہی کے پیچھے داخل ہو جاؤ گے۔
ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا یہود و نصاریٰ؟
آپ ﷺ نے فرمایا: پھر اور کون؟
صحیح البخاری: 3456، 7320
صحیح مسلم: 2669
یہ پیشین گوئی پوری ہو چکی ہے۔ آج مسلمانوں کی اکثریت عقائد، تہذیب، تمدن، رہن سہن، لباس، معاشرت اور حتیٰ کہ فکری انداز میں بھی یہود و نصاریٰ کی نقالی کر رہی ہے۔
دوسری پیشین گوئی
قبروں کو سجدہ گاہ بنانا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مرضِ وفات میں بار بار یہ فرما رہے تھے:
(( لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الْيَهُودِ وَالنَّصَارَىٰ اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ ))
ترجمہ:
اللہ کی لعنت ہو یہود و نصاریٰ پر جنہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا۔
صحیح البخاری: 3453، 3454
اس فرمان کا مقصد امت کو خبردار کرنا تھا کہ وہ قبروں کو عبادت گاہ نہ بنائیں، مگر آج افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ امت میں یہ عمل عام ہو چکا ہے۔
تیسری پیشین گوئی
علماء و مشائخ کو رب بنا لینا
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿ اِتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ ﴾
(التوبۃ: 31)
ترجمہ:
انہوں نے اللہ کے سوا اپنے علماء اور درویشوں کو رب بنا لیا۔
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اس آیت کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا:
(( أَمَا إِنَّهُمْ لَمْ يَكُونُوا يَعْبُدُونَهُمْ، وَلَكِنَّهُمْ كَانُوا إِذَا أَحَلُّوا لَهُمْ شَيْئًا اسْتَحَلُّوهُ، وَإِذَا حَرَّمُوا عَلَيْهِمْ شَيْئًا حَرَّمُوهُ ))
ترجمہ:
وہ ان کی عبادت نہیں کرتے تھے، بلکہ جب وہ کسی چیز کو حلال قرار دیتے تو یہ اسے حلال مان لیتے، اور جب وہ کسی چیز کو حرام کہتے تو یہ اسے حرام مان لیتے۔
سنن الترمذی: 3095
(حسنہ الالبانی)
یہی کیفیت آج تقلیدِ جامد کی صورت میں مسلمانوں میں پائی جاتی ہے۔
چوتھی پیشین گوئی
امت کا فرقوں میں بٹ جانا
حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
(( وَتَفْتَرِقُ أُمَّتِي عَلَىٰ ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ مِلَّةً، كُلُّهَا فِي النَّارِ إِلَّا وَاحِدَةً ))
قِيلَ: مَنْ هِيَ؟
قَالَ: (( مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي ))
ترجمہ:
میری امت تہتر فرقوں میں بٹ جائے گی، سب جہنم میں ہوں گے سوائے ایک کے۔
پوچھا گیا: وہ کون سا فرقہ ہوگا؟
فرمایا: جس راستے پر میں اور میرے صحابہ ہیں۔
سنن الترمذی: 2641
(وصححہ الالبانی)
پانچویں پیشین گوئی
امت میں فخر و تکبر، بغض و حسد کا پھیل جانا
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
(( سَیُصِیْبُ أُمَّتِی دَاءُ الْأُمَمِ ))
قَالُوا: یَا رَسُولَ اللَّهِ! وَمَا دَاءُ الْأُمَمِ؟
قَالَ:
(( الْأَشَرُ وَالْبَطَرُ، وَالتَّكَاثُرُ وَالتَّنَافُسُ فِی الدُّنْیَا، وَالتَّبَاغُضُ وَالتَّحَاسُدُ حَتَّىٰ یَكُونَ الْبَغْیُ ))
ترجمہ:
میری امت کو عنقریب وہ بیماری لگ جائے گی جو پچھلی امتوں کو لگی تھی۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! داءُ الاُمم کیا ہے؟
آپ ﷺ نے فرمایا: فخر و تکبر، مال و دولت کی فراوانی پر اترانا، دنیا کے حصول میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی دوڑ، آپس میں بغض رکھنا اور ایک دوسرے سے حسد کرنا، یہاں تک کہ بات ظلم تک جا پہنچے۔
الحاکم(وصححہ الألبانی فی الصحیحۃ: 680، صحیح الجامع: 3658)
یہ تمام بیماریاں آج امتِ مسلمہ میں بوضوح موجود ہیں، جنہوں نے باہمی محبت اور اخوت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
چھٹی پیشین گوئی
امتِ مسلمہ کی زبوں حالی اور دشمنوں کا غلبہ
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
(( یُوشِكُ الْأُمَمُ أَنْ تَدَاعَىٰ عَلَیْكُمْ كَمَا تَدَاعَى الْأَكَلَةُ إِلَىٰ قَصْعَتِهَا ))
قَالَ قَائِلٌ: وَمِنْ قِلَّةٍ نَحْنُ یَوْمَئِذٍ؟
قَالَ:
(( بَلْ أَنْتُمْ یَوْمَئِذٍ كَثِیرٌ، وَلَكِنَّكُمْ غُثَاءٌ كَغُثَاءِ السَّیْلِ، وَلَیَنْزِعَنَّ اللَّهُ مِنْ صُدُورِ عَدُوِّكُمُ الْمَهَابَةَ مِنْكُمْ، وَلَیَقْذِفَنَّ اللَّهُ فِی قُلُوبِكُمُ الْوَهْنَ ))
قِیلَ: وَمَا الْوَهْنُ یَا رَسُولَ اللَّهِ؟
قَالَ:
(( حُبُّ الدُّنْیَا وَكَرَاهِیَةُ الْمَوْتِ ))
ترجمہ:
قریب ہے کہ دوسری قومیں تم پر اس طرح ٹوٹ پڑیں گی جیسے کھانے والے ایک برتن پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔
کسی نے عرض کیا: کیا ہم اس وقت تعداد میں کم ہوں گے؟
فرمایا: نہیں، بلکہ تم اس وقت تعداد میں بہت ہوگے، مگر سیلاب کے تنکوں کی طرح کمزور ہوگے۔ اللہ تمہارے دشمنوں کے دلوں سے تمہارا رعب نکال دے گا اور تمہارے دلوں میں وہن ڈال دے گا۔
عرض کیا گیا: وہن کیا ہے؟
فرمایا: دنیا کی محبت اور موت سے نفرت۔
سنن ابی داود: 4297
(وصححہ الألبانی فی الصحیحۃ: 956)
ساتویں پیشین گوئی
مساجد کو آباد کرنے کے بجائے انہیں مزین کرنے پر فخر
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
(( لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّىٰ یَتَبَاهَى النَّاسُ فِی الْمَسَاجِدِ ))
ترجمہ:
قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ لوگ مساجد کی آرائش و زیبائش میں ایک دوسرے پر فخر کریں گے۔
سنن ابی داود: 449
(وصححہ الألبانی)
اور حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
(( مَا أُمِرْتُ بِتَشْیِیدِ الْمَسَاجِدِ ))
قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:
(( لَتُزَخْرِفُنَّهَا كَمَا زَخْرَفَتِ الْیَهُودُ وَالنَّصَارَىٰ ))
ترجمہ:
مجھے مساجد کو مزین کرنے کا حکم نہیں دیا گیا۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم ضرور مساجد کو اسی طرح مزین کرو گے جیسے یہود و نصاریٰ نے کیا۔
سنن ابی داود: 448
(وصححہ الألبانی)
آٹھویں پیشین گوئی
حلال و حرام کی تمیز کا ختم ہو جانا
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
(( لَیَأْتِیَنَّ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ لَا یُبَالِی الْمَرْءُ بِمَا أَخَذَ الْمَالَ، أَمِنَ الْحَلَالِ أَمْ مِنَ الْحَرَامِ ))
ترجمہ:
لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ انسان کو اس بات کی پروا نہیں ہوگی کہ اس نے مال کہاں سے حاصل کیا، حلال سے یا حرام سے۔
صحیح البخاری: 2059، 2083
یہ پیشین گوئی آج سود، رشوت، دھوکہ، فراڈ اور ناجائز ذرائع آمدن کی کثرت کی صورت میں پوری ہو چکی ہے۔
نویں پیشین گوئی
بدکاری، ریشم، منشیات اور آلاتِ موسیقی کا عام ہو جانا
حضرت ابو عامر یا ابو مالک الاشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
(( لَیَكُونَنَّ مِنْ أُمَّتِی أَقْوَامٌ یَسْتَحِلُّونَ الْحِرَ وَالْحَرِیرَ وَالْخَمْرَ وَالْمَعَازِفَ ))
ترجمہ:
میری امت میں کچھ لوگ ضرور ایسے ہوں گے جو زنا، ریشم، شراب اور آلاتِ موسیقی کو حلال سمجھ لیں گے۔
صحیح البخاری، کتاب الأشربۃ، باب ما جاء فیمن یستحل الخمر ویسمیہ بغیر اسمہ: 5590
یہ پیشین گوئی آج پوری طرح ظاہر ہو چکی ہے۔ بدکاری کو مختلف ناموں سے جائز قرار دیا جا رہا ہے، ریشم جو مردوں پر حرام ہے سرِعام پہنا جاتا ہے، شراب اور دیگر نشہ آور اشیاء مختلف ناموں سے رائج ہیں، اور موسیقی کو گناہ کے بجائے ’’فن‘‘ اور ’’تفریح‘‘ کہا جاتا ہے۔
نبی کریم ﷺ نے نشہ آور چیزوں کے بارے میں واضح فرمایا:
(( كُلُّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ، وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ ))
ترجمہ:
ہر نشہ آور چیز خمر ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔
صحیح مسلم: 2003
دسویں پیشین گوئی
آلاتِ موسیقی اور شراب کے عام ہونے پر عذاب
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
(( سَیَكُونُ فِی آخِرِ الزَّمَانِ خَسْفٌ وَقَذْفٌ وَمَسْخٌ ))
قِیلَ: وَمَتَىٰ ذَٰلِكَ یَا رَسُولَ اللَّهِ؟
قَالَ:
(( إِذَا ظَهَرَتِ الْمَعَازِفُ وَالْقَیْنَاتُ وَاسْتُحِلَّتِ الْخَمْرُ ))
ترجمہ:
آخری زمانے میں زمین میں دھنسائے جانے، پتھروں کی بارش اور شکلیں مسخ کیے جانے کے واقعات ہوں گے۔
پوچھا گیا: اے اللہ کے رسول! ایسا کب ہوگا؟
فرمایا: جب آلاتِ موسیقی عام ہو جائیں گے، گانے والیاں پھیل جائیں گی اور شراب کو حلال سمجھ لیا جائے گا۔
صحیح الجامع للألبانی: 3665
گیارہویں پیشین گوئی
خلوت میں محرمات کا ارتکاب اور نیکیوں کا ضائع ہو جانا
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
(( لَأَعْلَمَنَّ أَقْوَامًا مِنْ أُمَّتِی یَأْتُونَ یَوْمَ الْقِیَامَةِ بِحَسَنَاتٍ أَمْثَالِ جِبَالِ تِهَامَةَ بَیْضًا، فَیَجْعَلُهَا اللَّهُ هَبَاءً مَنْثُورًا ))
قَالَ ثَوْبَانُ: یَا رَسُولَ اللَّهِ! صِفْهُمْ لَنَا.
قَالَ:
(( أَمَا إِنَّهُمْ إِخْوَانُكُمْ، وَیَأْخُذُونَ مِنَ اللَّیْلِ كَمَا تَأْخُذُونَ، وَلَكِنَّهُمْ إِذَا خَلَوْا بِمَحَارِمِ اللَّهِ انْتَهَكُوهَا ))
ترجمہ:
میں اپنی امت کے ایسے لوگوں کو جانتا ہوں جو قیامت کے دن تہامہ کے پہاڑوں جیسی نیکیاں لے کر آئیں گے، مگر اللہ تعالیٰ انہیں اڑتی ہوئی گرد بنا دے گا۔
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ان کی وضاحت فرما دیجئے۔
فرمایا: وہ تمہارے ہی بھائی ہوں گے، رات کی عبادت بھی کریں گے، لیکن جب تنہائی میں اللہ کی حرام کردہ چیزوں سے سامنا ہوگا تو ان کا ارتکاب کر بیٹھیں گے۔
سنن ابن ماجہ: 4245
(وصححہ الألبانی فی الصحیحۃ: 505)
نتیجہ
ہم پر لازم ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کی پیشین گوئیوں کو محض تاریخی واقعات سمجھ کر نظر انداز نہ کریں، بلکہ ان سے سبق حاصل کریں۔
ہمیں اپنے عقائد کو قرآن و سنت کے مطابق درست کرنا ہوگا، ظاہری و باطنی گناہوں سے بچنا ہوگا، اور اپنی زندگی کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق ڈھالنا ہوگا۔
اللہ تعالیٰ ہمیں حق کو پہچاننے، اس پر عمل کرنے اور حسنِ خاتمہ نصیب فرمائے۔ آمین۔