سوال:
کیا نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی جدائی میں کھجور کے تنے کا رونا ثابت ہے؟
جواب:
نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی جدائی میں کھجور کے تنے کا رونا ثابت ہے، یہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم کا معجزہ ہے، اس میں نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی منقبت کا واضح ثبوت ہے، نیز یہ اعلام نبوت پر بین دلیل ہے۔
❀ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
كان جدع يقوم إليه النبى صلى الله عليه وسلم، فلما وضع له المنبر سمعنا للجذع مثل أصوات العشار حتى نزل النبى صلى الله عليه وسلم، فوضع يده عليه.
”(مسجد نبوی میں) کھجور کے درخت کا ایک تنا تھا، جس کے سہارے نبی کریم صلى الله عليه وسلم کھڑے ہو کر خطبہ دیتے تھے، جب آپ صلى الله عليه وسلم کے لیے منبر رکھا گیا، تو ہم نے اس تنے کو ایسے روتے سنا، جیسے دس ماہ کی حاملہ اونٹنی آواز نکالتی ہے، نبی کریم صلى الله عليه وسلم منبر سے نیچے تشریف لائے اور اس تنے پر اپنا ہاتھ مبارک رکھا (تو وہ خاموش ہو گیا)۔“
(صحيح البخاري: 918)
اس حدیث کو کئی صحابہ نے نقل کیا ہے، مثلاً؛
① سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ۔
(صحيح البخاري: 3583)
② سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ ۔
(سنن الترمذي: 3627 ، صحيح ابن خزيمة: 1777، وسنده صحيح)
③ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ۔
(سنن ابن ماجه: 1415 ، مسند عبد بن حمید: 1336 ، وسنده حسن)
❀ قاضی عیاض رحمہ اللہ (544ھ) فرماتے ہیں:
حديث أنين الجذع وهو فى نفسه مشهور منتشر والخبر به متواتر.
”تنے کے رونے والی حدیث مشہور و معروف ہے، اس بارے میں روایات متواتر ہیں۔“
(الشفا: 303/1)
❀ حافظ سہیلی رحمہ اللہ (581ھ) فرماتے ہیں:
حديث خوار الجذع وحنينه منقول نقل التواتر لكثرة من شاهد خواره من الخلق وكلهم نقل ذلك أو سمعه من غيره فلم ينكره.
”تنے کے رونے والی حدیث متواتر منقول ہے، کیونکہ اس کے رونے کے وقت کئی لوگ موجود تھے، سب سے اسے نقل کیا یا دوسروں سے سنا اور اس کا انکار نہیں کیا۔“
(الروض الأنف: 171/4)
❀ علامہ ابو البقاء رحمہ اللہ (668 ھ) فرماتے ہیں:
حديثه متواتر.
”تنے کے رونے والی حدیث متواتر ہے۔“
(تخجيل من حرف التوراة والإنجيل: 752/2)
❀ حافظ نووی رحمہ اللہ (676 ھ) نے اس حدیث کو متواتر معنوی قرار دیا ہے۔
(شرح مسلم: 13/215)
❀شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (728ھ) نے اس حدیث کو متواتر کہا ہے۔
(الجواب الصحيح: 360/6)
❀ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ (774ھ) فرماتے ہیں:
هو حديث متواتر مفيد للقطع قطعا.
”یہ متواتر حدیث ہے اور یقینی طور پر علم قطعی کا فائدہ دیتی ہے۔“
(تحفة الطالب، ص 154 ، تفسير ابن كثير: 79/8)
❀ علامہ دمیری رحمہ اللہ (808 ھ) اس حدیث کا متواتر ہونا نقل کیا ہے۔
(حياة الحيوان: 159/2)
❀ علامہ مقریزی رحمہ اللہ (845ھ) فرماتے ہیں:
أما حنين الجذع، فإنه من الآيات المشهورة، والأعلام الثابتة، التى نقلها خلف الأمة عن سلفها.
”تنے کا رونا (نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے) مشہور معجزات اور ثابت اعلام نبوت میں سے ہے، جسے امت نے پے در پے نقل کیا ہے۔“
(إمتاع الأسماع: 46/5)
❀ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (852ھ) فرماتے ہیں:
إن حنين الجذع وانشقاق القمر نقل كل منهما نقلا مستفيضا يفيد القطع عند من يطلع على طرق ذلك من أئمة الحديث دون غيرهم ممن لا ممارسة له فى ذلك.
”بلاشبہ تنے کا رونا اور چاند کا دوٹکڑے ہونا کے بارے میں منقول روایات اتنی مشہور ہیں کہ ائمہ حدیث جو ان کی اسناد سے واقف ہیں، کے نزدیک علم قطعی کا فائدہ دیتی ہیں، اس کے برعکس جو سند کے علم سے واقف نہیں، انہیں علم یقینی کا فائدہ نہیں دیتیں۔“
(فتح الباري: 592/6)
❀ علامہ احد قسطلانی رحمہ اللہ (923ھ) فرماتے ہیں:
قد قال ابن (؟) السبكي: والصحيح عندي أن حنين الجذع متواتر.
”علامہ تاج الدین سبکی رحمہ اللہ (771ھ) نے کہا ہے: میرے نزدیک صحیح بات یہ ہے کہ تنے کے رونے والی حدیث متواتر ہے۔“
(شرح القسطلاني: 46/6 ، المواهب اللدنية: 269/2)
❀ علامه کتانی رحمہ اللہ (1345ھ) نے اس حدیث کو متواتر کہا ہے۔
(نظم المتناثر: 210)
فاہدہ :
❀ عمر و بن سواد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا:
ما أعطى الله نبيا ما أعطى محمدا صلى الله عليه وسلم، فقلت: أعطى عيسى إحياء الموتى، فقال: أعطى محمدا حنين الجذع الذى كان يقف يخطب إلى جنبه، حتى هيء له المنبر، فلما هيء له المنبر، حن الجذع حتى سمع صوته، فهذا أكبر من ذلك.
”جو معجزات اللہ تعالیٰ نے محمد کریم صلى الله عليه وسلم کو عطا کیے، کسی اور نبی کو عطا نہیں کیے، میں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے عیسی علیہ السلام کو یہ معجزہ دیا تھا کہ وہ مردوں کو زندہ کر لیتے تھے۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے محمد کریم صلى الله عليه وسلم کو یہ معجزہ دیا تھا کہ (آپ صلى الله عليه وسلم کی جدائی میں) وہ تنا گڑ گڑانے لگ گیا تھا، جس کے پہلو میں آپ صلى الله عليه وسلم خطبہ ارشاد فرماتے تھے، جب آپ صلى الله عليه وسلم کو منبر ہدیہ کیا گیا، تو وہ تنا رونے لگا، اس کے رونے کی آواز (سب کو) سنائی دی، یہ مردوں کو زندہ کرنے سے بڑا معجزہ ہے۔“
(آداب الشافعي ومناقبه لابن أبي حاتم، ص 62 ، وسنده صحيح)
❀ مبارک بن فضالہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
كان الحسن إذا حدث بهذا الحديث بكى، ثم قال: يا عباد الله الخشبة تحن إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم شوقا إليه لمكانه من الله، فأنتم أحق أن تشتاقوا إلى لقائه.
”حسن بصری رحمہ اللہ نے جب یہ حدیث بیان کی تو رونے لگے، پھر فرمایا: اللہ کے بندو! اللہ کے ہاں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے مقام ومرتبہ کی وجہ سے لکڑی کا تنا آپ صلى الله عليه وسلم سے شوق ملاقات میں رونے لگا، تو آپ کا زیادہ حق بنتا ہے کہ آپ صلى الله عليه وسلم کی ملاقات کا شوق رکھیں۔“
(مسند أبي يعلى: 2756، صحيح ابن حبان: 6507، وسنده حسن)