سوال :
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز جنازہ کے متعلق کیا کہتے ہیں؟
جواب :
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز جنازہ پڑھی گئی، البتہ کسی نے امامت نہیں کرائی ، بلکہ صحابہ نے فرداً فردا نماز جنازہ ادا کی۔
❀ سید نا سالم بن عبید رضی اللہ عنہ ، جو اصحاب صفہ میں سے ہیں ، بیان کرتے ہیں :
قالوا : يا صاحب النبى صلى الله عليه وسلم : هل نصلي على النبى صلى الله عليه وسلم؟ قال : نعم، قالوا : وكيف يصلى عليه؟ قال : يدخل قوم فيكبرون ويدعون، ثم يخرجون، ويجيء آخرون،
”صحابہ کرام نے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ! کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز جنازہ بھی ادا کی جائے گی ؟ انہوں نے فرمایا: جی ہاں ! صحابہ کرام نے پوچھا: ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز جنازہ کیسے ادا کریں گے؟ انہوں نے فرمایا : کچھ لوگ اندر (حجرہ میں)داخل ہوں گے، تکبیریں پڑھیں گے اور دعا کریں گے۔ پھر وہ باہر آجائیں گے اور دوسرے لوگ جائیں گے۔
(سنن ابن ماجه : 1234 شمائل الترمذي : 396 ، مسند عبد بن حميد : 365 ، المعجم الكبير للطبراني : 65/7 ، دلائل النبوة للبيهقي : 299/7 ، وسنده حسن)
امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ ( 14 15 ، 1624 ) نے اسے ”صحیح“ کہا ہے۔
❀ سید نا ابو عسیم / ابو عسیب رضی اللہ عنہ کے بارے میں ہے:
إنه شهد الصلاة على رسول الله صلى الله عليه وسلم، قالوا : كيف نصلي عليه؟ قال : ادخلوا أرسالا أرسالا، قال : فكانوا يدخلون من هذا الباب، فيصلون عليه، ثم يخرجون من الباب الآخر .
”آپ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز جنازہ کے وقت مدینہ منورہ میں موجود تھے، لوگ کہنے لگے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز جنازہ کیسے ادا کریں؟ سید نا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ایک ایک گروہ کی شکل میں داخل ہوں۔ چنانچہ لوگ ایک دروازے سے داخل ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز جنازہ ادا کرتے اور دوسرے دروازے سے باہر نکل جاتے ۔“
(مسند الإمام أحمد : 81/5، ح : 21047 ، وسنده صحيح)
❀ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ (774ھ) فرماتے ہیں:
عليه فرادى لم يؤمهم أحد عليه ، أمر مجمع عليه لا خلاف فيه .
”صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز جنازہ فرداً فرداً پڑھی، کسی نے امامت نہیں کرائی، یہ اجتماع مسئلہ ہے، اس میں کسی کا اختلاف نہیں ۔“
(البداية والنهاية : 134/8)