نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین کب بنایا گیا؟

ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین کب بنایا گیا؟

جواب:

اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خاتم النبیین ہونا سیدنا آدم علیہ السلام کی تخلیق سے پہلے ہی تقدیر میں لکھ دیا تھا۔
سیدنا عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إني عند الله لخاتم النبيين، وإن آدم عليه السلام لمنجدل فى طينته، وسأنبئكم بأول ذلك دعوة أبى إبراهيم، وبشارة عيسى بي، ورؤيا أمي التى رأت، وكذلك أمهات النبيين ترين.
میں تقدیر الٰہی میں خاتم النبیین لکھ دیا گیا تھا، جب کہ آدم علیہ السلام ابھی مٹی میں گوندھے جا رہے تھے۔ میں آپ کو بتاؤں کہ میں اپنے باپ ابراہیم علیہ السلام کی دعا، عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت اور اپنی والدہ کے خواب کی تعبیر ہوں، نبیوں کی مائیں ایسے ہی خواب دیکھتی ہیں۔
(مسند الإمام أحمد: 127/4، التاريخ الكبير للبخاري: 68/6، وسنده حسن)
اس حدیث کو امام ابن حبان رحمہ اللہ (6404) نے صحیح، امام حاکم رحمہ اللہ (418/2) نے صحیح الإسناد اور حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے صحیح کہا ہے۔
❀ حافظ بیہقی رحمہ اللہ (458ھ) فرماتے ہیں:
إنما أراد والله أعلم أنه كذلك فى قضاء الله وتقديره قبل أن يكون آدم عليه السلام.
اس حدیث سے مراد یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی تقدیر میں آدم علیہ السلام سے پہلے نبی لکھ دیے گئے تھے۔
(شعب الإيمان: 510/2، تحت الحديث: 1322)
جس روایت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے لکھے جانے کا ذکر ہے، وہ ضعیف و مرسل ہے۔

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سوشل میڈیا پر یہ مضمون فیچرڈ امیج کے ساتھ شئیر کرنے کے لیے یہ تصویر محفوظ کریں ⬇️