مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حبیب اللہ کہنا کیسا ہے؟

فونٹ سائز:
ماخوذ : فتاویٰ ارکان اسلام
مضمون کے اہم نکات

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو "حبیب اللہ” کہنا کیسا ہے؟

سوال:

کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حبیب اللہ کہا جا سکتا ہے؟ اور اس بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟

جواب:

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو "حبیب اللہ” کہنا بلاشبہ درست ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے محب بھی ہیں اور محبوب بھی۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے اس سے بھی اعلیٰ و ارفع مقام عطا فرمایا ہے، اور وہ مقام "خلیل اللہ” کا ہے۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا خلیل اللہ ہونا:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنے خلیل ہونے کا اعلان فرمایا:

«اِنَّ اللّٰهَ اتَّخَذَنِی خَلِيْلًا کَمَا اتَّخَذَ اِبْرَاهِيْمَ خَلِيْلًا»
(سنن ابن ماجه، المقدمة، باب فضل العباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنه، ح: ۱۴۱)

ترجمہ:
"بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھے بھی اپنا خلیل منتخب فرمایا ہے، ٹھیک اس طرح جس طرح اس نے ابراہیم علیہ السلام کو اپنا خلیل بنایا ہے۔”

مقام خلت کا درجہ محبت سے بلند ہے:

  • ◈ اگر کوئی شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو صرف "حبیب اللہ” کہہ کر ان کی شان بیان کرتا ہے تو وہ درحقیقت آپ کے مقام و مرتبہ کو گھٹا رہا ہوتا ہے۔
  • "خُلت” کا درجہ "محبت” کے درجے سے بلند تر اور اعلیٰ ہے۔
  • ◈ ہر مومن اللہ کا محبوب ہو سکتا ہے، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جو خصوصیت ملی ہے، وہ "خلیل اللہ” ہونے کا درجہ ہے۔
  • ◈ یہ وہی درجہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بھی عطا فرمایا تھا۔
  • ◈ لہٰذا ہم کہتے ہیں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم خلیل اللہ ہیں۔

خلت اور محبت میں فرق:

  • ◈ "خلت” کا مطلب صرف محبت نہیں بلکہ اس سے آگے کا درجہ ہے۔
  • ◈ خلت میں انتہائی اور کامل محبت کی جھلک ملتی ہے۔
  • ◈ یہ وہ وصف ہے جو "حبیب اللہ” کے درجے سے کہیں بلند ہے، کیونکہ اس میں نہ صرف محبت شامل ہے بلکہ اس کی انتہا بھی ہے۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔