مضمون کے اہم نکات
اس مضمون کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ مسند احمد کی ایک روایت میں “دو نمازوں” کی شرط کے ساتھ اسلام قبول کرنے کا واقعہ شریعت میں تبدیلی کی اجازت نہیں بنتا، نہ ہی اس سے یہ لازم آتا ہے کہ نبی کریم ﷺ اللہ کے احکام میں اپنی مرضی سے کمی بیشی کر سکتے ہیں (معاذ اللہ)۔ درست مفہوم یہ ہے کہ دعوت و ترغیب کے مرحلے میں بعض لوگوں کی “فاسد شرط” کو وقتی طور پر قبول کر لیا جاتا ہے، مگر جب وہ اسلام میں داخل ہو جاتے ہیں تو پھر انہیں پورے دین کے تمام احکام اور بالخصوص پانچوں نمازوں کا پابند کیا جاتا ہے۔ قرآن و حدیث اور اسی باب کی دیگر روایات اسی حقیقت کو کھول کر بیان کرتی ہیں۔
پس منظر: مسند احمد کی روایت سے ایک غلط نتیجہ
بعض اہلِ قلم نے یہ دعویٰ کیا کہ:
“نبی کریم ﷺ جس کے لیے چاہیں شریعت میں تبدیلی کر دیں۔”
انہوں نے مسند احمد کی درج ذیل روایت پیش کی:
حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن قتادة، عن نصر بن عاصم، عن رجل منهم، ” أنه أتى النبي صلى الله عليه وسلم فأسلم على أنه لا يصلي إلا صلاتين، فقبل ذلك منه
اردو ترجمہ:
محمد بن جعفر روایت کرتے ہیں… نصر بن عاصم، ایک آدمی (ان میں سے) سے روایت کرتے ہیں کہ “وہ نبی ﷺ کے پاس آیا اور اس شرط پر اسلام قبول کیا کہ وہ دو نمازوں کے علاوہ نماز نہیں پڑھے گا، تو نبی ﷺ نے اس (شرط) کو اس سے قبول فرما لیا۔”
مسند احمد، الناشر: مؤسسة الرسالة، برقم: ۲۰۲۸۷
مختصر وضاحت:
یہ روایت “اسلام میں داخلے” کے ابتدائی مرحلے کا واقعہ بیان کرتی ہے۔ اس سے شریعت میں تبدیلی کا اصول نکالنا درست نہیں، کیونکہ اسلام قبول کرنے کے بعد آدمی پورے دین کا پابند ہوتا ہے۔ اسی مفہوم کو قرآن و حدیث کی متعدد نصوص اور اسی واقعے کی مکمل روایت صاف بیان کرتی ہے۔
دلائل و جوابات: ایک ایک نکتے کی وضاحت
① دین کے بعض حصے ماننا اور بعض چھوڑ دینا قابلِ مذمت ہے
أَفَتُؤْمِنُونَ بِبَعْضِ الْكِتَابِ وَتَكْفُرُونَ بِبَعْضٍ فَمَا جَزَاءُ مَنْ يَفْعَلُ ذَلِكَ مِنْكُمْ إِلَّا خِزْيٌ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يُرَدُّونَ إِلَى أَشَدِّ الْعَذَابِ وَمَا اللَّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ
اردو ترجمہ:
“کیا تم کتاب کے بعض حصے پر ایمان رکھتے ہو اور بعض کا انکار کرتے ہو؟ پھر تم میں سے جو ایسا کرے، اس کی سزا دنیا کی زندگی میں رسوائی کے سوا اور کیا ہے؟ اور قیامت کے دن انہیں سخت ترین عذاب کی طرف لوٹا دیا جائے گا۔ اور اللہ تمہارے اعمال سے بے خبر نہیں۔”
سورۃ البقرۃ: 85
مختصر وضاحت:
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ دین کے احکام میں “چُناؤ” کرنا مذموم ہے۔ لہٰذا کسی شخص کے لیے یہ اصول بنانا کہ وہ اسلام قبول کر کے بعض بنیادی ارکان (مثلاً نماز) چھوڑ دے اور یہ حالت “دین” رہے—قرآنی مزاج کے خلاف ہے۔
② نبی ﷺ پر وہ بات منسوب کرنا جو آپ نے نہ فرمائی ہو، سخت وعید ہے
109 – حَدَّثَنَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ سَلَمَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ يَقُلْ عَلَيَّ مَا لَمْ أَقُلْ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ»
اردو ترجمہ:
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “جو شخص میری طرف ایسی بات منسوب کرے جو میں نے نہ کہی ہو، وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔”
(صحيح البخاري) رقم: 109
مختصر وضاحت:
شریعت میں “تبدیلی کا اختیار” نبی ﷺ کی طرف منسوب کرنا بہت بڑا دعویٰ ہے۔ اس باب میں ہر بات صرف صحیح، صریح اور مکمل دلائل کے ساتھ ہی کہی جا سکتی ہے۔
③ نبی ﷺ خود اپنے نفع و ضرر کے مالک نہیں، اختیار اللہ کے ہاتھ میں ہے
قُلْ لَا أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعًا وَلَا ضَرًّا إِلَّا مَا شَاءَ اللَّهُ وَلَوْ كُنْتُ أَعْلَمُ الْغَيْبَ لَاسْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَيْرِ وَمَا مَسَّنِيَ السُّوءُ إِنْ أَنَا إِلَّا نَذِيرٌ وَبَشِيرٌ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ
اردو ترجمہ:
“آپ کہہ دیجئے: میں خود اپنے لیے بھی نفع اور نقصان کا مالک نہیں مگر وہی جو اللہ چاہے۔ اور اگر میں غیب جانتا ہوتا تو بہت سی بھلائیاں جمع کر لیتا اور مجھے کوئی تکلیف نہ پہنچتی۔ میں تو صرف ایمان والوں کے لیے ڈرانے والا اور خوشخبری دینے والا ہوں۔”
سورۃ الاعراف: 188
مختصر وضاحت:
یہ آیت بتاتی ہے کہ نبی ﷺ “مستقل بالذات” اختیار کے مالک نہیں۔ شریعت کے احکام اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتے ہیں، نبی ﷺ ان کے مبلغ اور شارعِ بالوحی ہیں، اپنی مرضی سے دین میں کمی بیشی کرنے والے نہیں۔
④ اللہ کا فیصلہ تبدیل نہیں ہوتا: نمازوں کے معاملے میں صریح نص
349 – حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كَانَ أَبُو ذَرٍّ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ——-فَرَاجَعْتُهُ، فَقَالَ: هِيَ خَمْسٌ، وَهِيَ خَمْسُونَ، لاَ يُبَدَّلُ القَوْلُ لَدَيَّ،
اردو ترجمہ (مرکزی حصہ):
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: “یہ (عمل میں) پانچ ہیں اور (ثواب میں) پچاس ہیں، میرے پاس بات بدلی نہیں جاتی۔”
(صحيح البخاري) رقم: 349
مختصر وضاحت:
جب فرضیتِ صلوٰۃ کے باب میں اللہ تعالیٰ نے صاف فرمایا کہ “میرے پاس بات بدلی نہیں جاتی” تو یہ کیسے درست ہو سکتا ہے کہ “دو نمازیں کافی” کو شریعت کا مستقل حکم سمجھ لیا جائے؟ اصل یہ ہے کہ اسلام کے بعد پانچ نمازیں لازم ہیں۔
⑤ مسند احمد ہی کی دوسری روایت: وفدِ ثقیف کی شرطیں اور نتیجہ
17913 – حَدَّثَنَا عَفَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ، أَنَّ وَفْدَ ثَقِيفٍ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْزَلَهُمُ الْمَسْجِدَ لِيَكُونَ أَرَقَّ لِقُلُوبِهِمْ، فَاشْتَرَطُوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا يُحْشَرُوا، وَلَا يُعْشَرُوا، وَلَا يُجَبُّوا، وَلَا يُسْتَعْمَلَ عَلَيْهِمْ غَيْرُهُمْ، قَالَ: فَقَالَ: «إِنَّ لَكُمْ أَنْ لَا تُحْشَرُوا، وَلَا تُعْشَرُوا، وَلَا يُسْتَعْمَلَ عَلَيْكُمْ غَيْرُكُمْ»
اردو ترجمہ:
عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وفدِ ثقیف نبی ﷺ کے پاس آیا، تو آپ نے انہیں مسجد میں ٹھہرایا تاکہ ان کے دل نرم ہوں۔ انہوں نے نبی ﷺ کے ساتھ شرطیں رکھیں کہ انہیں (جہاد/حشر کے لیے) جمع نہ کیا جائے، ان پر عشر نہ لگایا جائے، ان پر جبا/محصول نہ لگایا جائے، اور ان پر ان کے علاوہ کوئی حاکم مقرر نہ کیا جائے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: “تمہارے لیے یہ ہے کہ تمہیں (حشر کے لیے) جمع نہ کیا جائے، تم پر عشر نہ لگایا جائے، اور تم پر تمہارے علاوہ کوئی حاکم مقرر نہ کیا جائے۔”
(مسند أحمد) رقم: 17913
مختصر وضاحت:
یہاں بھی “شرطیں” آئیں، مگر یہ شریعت میں تبدیلی نہیں، بلکہ دعوت کے مرحلے میں حکمتِ عملی کی صورتیں ہیں۔ اسلام کے بنیادی ارکان اور فرائض اس سے ساقط نہیں ہوتے، جیسا کہ آگے کی صحیح روایات میں صراحت آتی ہے۔
🔹 سند کے بارے میں منقول کلام: شعيب الأرنؤوط: (رجاله ثقات رجال الصحيح)
⑥ وفدِ ثقیف کی شرطوں کی تفسیر: اسلام کے بعد وہ صدقہ بھی دیں گے اور جہاد بھی کریں گے
3025 – حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْكَرِيمِ، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمَ يَعْنِي ابْنَ عَقِيلِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَهْبٍ، قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرًا عَنْ شَأْنِ ثَقِيفٍ إِذْ بَايَعَتْ؟ قَالَ: اشْتَرَطَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنْ لَا صَدَقَةَ عَلَيْهَا، وَلَا جِهَادَ، وَأَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلَكَ يَقُولُ: «سَيَتَصَدَّقُونَ، وَيُجَاهِدُونَ إِذَا أَسْلَمُوا»
اردو ترجمہ:
وہب کہتے ہیں: میں نے جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ثقیف کا معاملہ کیا تھا جب انہوں نے بیعت کی؟ جابر نے کہا: انہوں نے نبی ﷺ سے شرط رکھی تھی کہ ان پر صدقہ نہیں اور نہ جہاد۔ پھر جابر نے کہا کہ انہوں نے بعد میں نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: “یہ لوگ صدقہ دیں گے اور جہاد کریں گے جب وہ اسلام قبول کر لیں گے۔”
(سنن أبي داود) رقم: 3025 — حكم الألباني: صحيح
مختصر وضاحت:
یہ حدیث بالکل کھول دیتی ہے کہ شرطیں “اسلام میں داخلے سے پہلے” کی حکمت کے طور پر آتی ہیں، مگر اسلام کے بعد وہی لوگ پورے دین پر عمل کرتے ہیں۔ یہی اصول “دو نمازوں” والی روایت پر بھی لاگو ہوگا۔
🔹 سند کے راوی (جیسا کہ متن میں درج ہے):
① الحسن بن الصباح الواسطي — صدوق حسن الحديث
② إسماعيل بن عبد الكريم اليماني — ثقة
③ إبراهيم بن عقيل اليماني — ثقة
④ عقيل بن معقل اليماني — ثقة
⑤ وهب بن منبه الأبناوي — ثقة
⑦ اسلام کی دعوت میں اصل مطلوب: اسلام قبول کرنا
12061 – حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ: ” أَسْلِمْ ” قَالَ: أَجِدُنِي كَارِهًا. قَالَ: ” أَسْلِمْ، وَإِنْ كُنْتَ كَارِهًا "
اردو ترجمہ:
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص سے فرمایا: “اسلام قبول کرو۔” اس نے کہا: “میں اپنے آپ کو ناپسند پاتا ہوں (دل نہیں چاہتا)۔” آپ ﷺ نے فرمایا: “اسلام قبول کرو اگرچہ تم ناپسند ہی کرتے ہو۔”
(مسند الإمام أحمد بن حنبل) رقم: 12061 — شعيب الأرنؤوط: إسناده صحيح على شرط الشيخين
مختصر وضاحت:
یہ روایت بتاتی ہے کہ دعوت کے آغاز میں بنیادی ہدف “اسلام میں داخلہ” ہے۔ اس کے بعد تربیت، شرحِ صدر اور احکام کی پابندی کا مرحلہ آتا ہے۔
⑧ بعض شرطیں ترغیب کے طور پر آتی ہیں، مگر اسلام کے بعد مکمل التزام لازم ہوتا ہے
1084 – أَخْبَرَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ يُوسُفَ وَهُوَ ابْنُ مَاهَكَ يُحَدِّثُ، عَنْ حَكِيمٍ قَالَ: «بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا أَخِرَّ إِلَّا قَائِمًا»
اردو ترجمہ:
حکیم کہتے ہیں: “میں نے رسول اللہ ﷺ سے اس بات پر بیعت کی کہ میں (زمین پر) نہ گروں مگر کھڑے کھڑے۔”
(السنن للنسائي) رقم: 1084
مختصر وضاحت:
اس نوع کی شرطوں کا تعلق ابتدائی قبولیت اور نفسیاتی آمادگی سے ہوتا ہے۔ اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ارکانِ اسلام یا فرائض ساقط ہو جائیں، بلکہ اسلام میں داخل ہونے کے بعد پورے دین کا حکم نافذ ہوتا ہے۔
⑨ “دو نمازیں” والی روایت کی مکمل صورت: اسلام کے بعد پانچ کا حکم
مسند احمد کی مختصر روایت کے مفہوم کو ابو نعیم اصفہانی نے “معرفة الصحابة” میں مکمل انداز میں یوں بیان کیا:
7303 – حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَسَنِ(ثقة مأمون)، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ نَصْرِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْهُمْ، أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَسْلَمَ أَلَّا يُصَلِّي إِلَّا صَلَاتَيْنِ، فَقَبِلَ ذَلِكَ، فَقَالَ: «إِنْ يُقْبَلْ مِنْهُ فَإِذَا دَخَلَ فِي الْإِسْلَامِ أُمِرَ بِالْخَمْسِ»
اردو ترجمہ:
ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس آیا اور اس شرط پر اسلام قبول کیا کہ وہ دو نمازوں کے علاوہ نماز نہیں پڑھے گا، تو آپ ﷺ نے اسے قبول فرما لیا۔ پھر فرمایا: “اگر یہ (ابتدائی طور پر) اس سے قبول کر لیا جائے، تو جب وہ اسلام میں داخل ہو جائے گا تو اسے پانچ نمازوں کا حکم دیا جائے گا۔”
(معرفة الصحابة) لأبي نعيم الأصبهاني — رقم: 7303
مختصر وضاحت:
یہی وہ فیصلہ کن اضافہ ہے جو مسئلے کو قطعی طور پر واضح کر دیتا ہے: قبولیتِ اسلام کے بعد “پانچ نمازیں” لازم ہیں۔ لہٰذا “دو نمازیں کافی” کو شریعت کا مستقل حکم سمجھنا باطل ہے۔
⑩ علامہ ابن الاثیر کی نقل: اسلام کے بعد پانچ لازم
علامہ ابن الاثیر نے بھی اسی مفہوم کو یوں بیان کیا:
6671- نصر بن عاصم، عن رجل من الصحابة
(ع) نصر بن عاصم الليثي، عن رجل من الصحابة أنه أتى النبي صلى الله عليه وسلم فأسلم على أن لا يصلي إلا صلاتين فقبل ذلك [1] وقال: إذا دخل في الإسلام أمر بالخمس.
اردو ترجمہ:
نصر بن عاصم لیثی، ایک صحابی سے روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس آیا اور اس شرط پر اسلام قبول کیا کہ دو نمازوں کے علاوہ نماز نہیں پڑھے گا، تو نبی ﷺ نے اسے قبول کر لیا اور فرمایا: “جب وہ اسلام میں داخل ہو جائے گا تو اسے پانچ (نمازوں) کا حکم دیا جائے گا۔”
(أسد الغابة) لابن الأثير — رقم: 6671
مختصر وضاحت:
یہ نقل بھی اسی اصول کی تائید کرتی ہے کہ شرط “ابتدا” میں برداشت کی گئی، مگر اسلام کے بعد “پانچ” لازم ہیں۔
⑪ امام احمد کا اصولی اخذ: شرطِ فاسد پر اسلام درست، پھر پوری شریعت لازم
حافظ ابن رجب حنبلی نے اس باب میں امام احمد کا اصولی نتیجہ یوں نقل کیا:
وَأَخَذَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ بِهَذِهِ الْأَحَادِيثِ، وَقَالَ: يَصِحُّ الْإِسْلَامُ عَلَى الشَّرْطِ الْفَاسِدِ، ثُمَّ يُلْزَمُ بِشَرَائِعِ الْإِسْلَامِ كُلِّهَا،
اردو ترجمہ:
امام احمد نے ان احادیث سے یہ اخذ کیا اور فرمایا: “شرطِ فاسد کے ساتھ بھی اسلام صحیح ہو جاتا ہے، پھر اس (شخص) کو اسلام کی تمام شریعتوں کا پابند کیا جائے گا۔”
(جامع العلوم والحكم) لابن رجب
مختصر وضاحت:
یہی علمی قاعدہ پوری بحث کا خلاصہ ہے۔ شرطیں ترغیب کے مرحلے میں آتی ہیں، مگر اسلام قبول ہونے کے بعد مکمل دین لازم ہوتا ہے۔ اس سے شریعت میں تبدیلی ثابت نہیں ہوتی۔
نتیجہ
مسند احمد کی “دو نمازیں” والی روایت سے یہ نتیجہ نکالنا کہ نبی کریم ﷺ شریعت میں اپنی مرضی سے تبدیلی کر سکتے ہیں، درست نہیں۔ قرآن واضح کرتا ہے کہ دین میں انتخابی عمل مذموم ہے، نبی ﷺ پر بے دلیل بات منسوب کرنے پر سخت وعید ہے، اور نمازوں کے باب میں اللہ تعالیٰ نے صراحت فرمائی کہ “میرے پاس بات بدلی نہیں جاتی”۔ پھر اسی واقعے کی مکمل روایت (ابو نعیم اور ابن الاثیر کی نقل) صاف بتاتی ہے کہ ابتدائی قبولیت کے بعد “پانچ نمازیں” لازم ہیں۔ امام احمد کے اخذ کو ابن رجب نے اصولی صورت میں بیان کر دیا کہ “شرطِ فاسد” کے باوجود اسلام صحیح ہو جاتا ہے، مگر بعد میں پورے اسلام کی پابندی لازم ہوتی ہے۔ لہٰذا “مختارِ کل” یا “شریعت میں تبدیلی” والا استدلال خود ساختہ ہے اور نصوصِ شرعیہ کے خلاف ہے۔










