مضمون کے اہم نکات
محترم حضرات!
گزشتہ خطبۂ جمعہ میں ہم نے اس حقیقت کو قرآن و حدیث کی روشنی میں واضح کیا تھا کہ اسلام دینِ رحمت ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ اس دین کو نازل کرنے والا اللہ تعالیٰ خود ارحم الراحمین ہے، اور دوسری یہ کہ اس دین کو جس عظیم ہستی کے ذریعے انسانیت تک پہنچایا گیا وہ رحمۃٌ للعالمین ہیں۔ گزشتہ خطبہ میں ہم نے خاص طور پر ارحم الراحمین کے مفہوم اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کے چند پہلو بیان کیے تھے۔
آج کے اس مضمون میں ہم اسی موضوع کے دوسرے پہلو یعنی رحمۃ للعالمین ﷺ کے بارے میں تفصیلی گفتگو کریں گے اور یہ واضح کریں گے کہ رسولِ اکرم ﷺ کس طرح پوری کائنات کے لیے سراپا رحمت ہیں۔
رسولِ اکرم ﷺ رحمۃٌ للعالمین ہیں
جب اللہ تعالیٰ خود ارحم الراحمین ہے تو اس نے اپنی آخری کتاب اور آخری شریعت جس ہستی کے ذریعے دنیا تک پہنچائی، اسے بھی اس نے رحمۃٌ للعالمین بنایا۔ چنانچہ رسولِ اکرم ﷺ کی ذات سراپا رحمت ہے، آپ ﷺ دینِ رحمت کے ساتھ مبعوث کیے گئے، آپ ﷺ رَؤوفٌ رَّحیم ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے پوری دنیا کے لیے رحمت بنا کر بھیجے گئے ہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿ وَمَآ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِيْنَ ﴾
(الأنبیاء: 107)
ترجمہ:
’’اور ہم نے آپ کو تمام جہان والوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔‘‘
عزیز بھائیو!
اس آیتِ مبارکہ میں غور کرنے سے چند نہایت اہم نکات سامنے آتے ہیں:
➊ لفظ (رَحْمَةً) نکرہ ہے اور نفی (وَمَا أَرْسَلْنٰكَ) کے بعد آیا ہے، جو عموم و شمول پر دلالت کرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ رسولِ اکرم ﷺ کی رحمت صرف انسانوں تک محدود نہیں بلکہ پوری کائنات کے لیے ہے۔
آپ ﷺ انسانوں کے لیے بھی رحمت ہیں، جنّات کے لیے بھی، مومنوں کے لیے بھی اور کافروں کے لیے بھی، چھوٹوں کے لیے بھی اور بڑوں کے لیے بھی، نیکوں کے لیے بھی اور بروں کے لیے بھی، حتیٰ کہ جانوروں اور بے جان چیزوں تک کے لیے آپ ﷺ کی ذات رحمت ہے۔
➋ اس آیت میں (وَمَا … إِلَّا) کا اسلوب حصر کے لیے ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ کی بعثت ابتدا سے انتہا تک سراسر رحمت ہی رحمت ہے۔ آپ ﷺ کی رسالت کا کوئی پہلو ایسا نہیں جو رحمت سے خالی ہو۔
➌ رسولِ اکرم ﷺ کا رحمۃٌ للعالمین ہونا کسی انسانی کوشش یا تربیت کا نتیجہ نہیں بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ مقام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے خود اپنی رحمت کے ذریعے آپ ﷺ کو نرم دل، شفیق اور مہربان بنایا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿ فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ لِنْتَ لَهُمْ ﴾
(آل عمران: 159)
ترجمہ:
’’یہ اللہ ہی کی رحمت ہے کہ آپ ان کے لیے نرم مزاج بنائے گئے ہیں۔‘‘
اسی حقیقت کو رسولِ اکرم ﷺ نے خود ان الفاظ میں بیان فرمایا:
( يَا أَيُّهَا النَّاسُ! إِنَّمَا أَنَا رَحْمَةٌ مُّهْدَاةٌ )
(رواہ الحاکم، وصححہ وأقرہ الذہبی)
ترجمہ:
’’اے لوگو! میں تو رحمت ہی ہوں جو بطور ہدیہ بھیجی گئی ہے۔‘‘
نبی کریم ﷺ مومنوں کے لیے خاص طور پر نہایت مہربان
اگرچہ رسولِ اکرم ﷺ پوری کائنات کے لیے رحمت ہیں، لیکن اہلِ ایمان کے ساتھ آپ ﷺ کی شفقت اور مہربانی کا انداز اور بھی زیادہ نمایاں ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿ لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَؤُوفٌ رَّحِيمٌ ﴾
(التوبۃ: 128)
ترجمہ:
’’تمہارے پاس تم ہی میں سے ایک رسول آئے ہیں، جن پر تمہاری مشقت بہت گراں گزرتی ہے، جو تمہاری بھلائی کے بڑے خواہشمند ہیں، اور مومنوں کے لیے نہایت شفیق اور مہربان ہیں۔‘‘
یہی وجہ ہے کہ نبی کریم ﷺ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ نہایت نرمی اور شفقت سے پیش آتے تھے۔ حضرت مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ چند نوجوان صحابہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور تقریباً بیس راتیں آپ ﷺ کے پاس قیام کیا۔ جب آپ ﷺ نے محسوس کیا کہ وہ اپنے اہلِ خانہ سے ملنے کے خواہشمند ہیں تو آپ ﷺ نے نہایت شفقت کے ساتھ فرمایا:
( اِرْجِعُوا إِلَى أَهْلِيكُمْ فَعَلِّمُوهُمْ وَمُرُوهُمْ، وَصَلُّوا كَمَا رَأَيْتُمُونِي أُصَلِّي … )
(البخاری: 6008، مسلم: 674)
ترجمہ:
’’اپنے گھر والوں کے پاس واپس جاؤ، انہیں تعلیم دو، انہیں دین کے احکام بتاؤ، اور نماز اسی طرح پڑھنا جیسے تم نے مجھے نماز پڑھتے دیکھا ہے۔‘‘
یہ واقعہ اس بات کی روشن دلیل ہے کہ رسولِ اکرم ﷺ نہایت نرم دل، شفیق اور امت کی ضروریات کو سمجھنے والے تھے۔
نبی کریم ﷺ نبیُّ الرحمۃ ہیں
رسولِ اکرم ﷺ سراپا رحمت تھے، حتیٰ کہ آپ ﷺ کے اسمائے مبارکہ میں بھی یہ حقیقت نمایاں ہے۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے متعدد نام ذکر فرمائے، جن میں سے کچھ ہمیں یاد ہیں اور کچھ بھول گئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
( أَنَا مُحَمَّدٌ، وَأَحْمَدُ، وَالْمُقَفِّي، وَالْحَاشِرُ، وَنَبِيُّ التَّوْبَةِ، وَنَبِيُّ الرَّحْمَةِ )
[ مسلم: 1829، 2355 ]
ترجمہ:
’’میں محمد ہوں، احمد ہوں، المقفّی ہوں (یعنی سب انبیاء کے بعد آنے والا)، الحاشر ہوں (لوگوں کو اکٹھا کرنے والا)، نبیُّ التوبۃ ہوں اور نبیُّ الرحمۃ ہوں۔‘‘
یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ رحمت نبی کریم ﷺ کی رسالت کا بنیادی وصف ہے۔
نبی کریم ﷺ کی رحمت کے چند نمایاں پہلو
➊ نبی کریم ﷺ اپنی امت کے لیے نہایت رحم دل تھے
پہلے انبیاء علیہم السلام جب اپنی قوموں سے مایوس ہو جاتے تو بعض اوقات ان کے خلاف بددعا کرتے یا ان سے براءت کا اظہار کرتے تھے۔
مثلاً حضرت نوح علیہ السلام نے فرمایا:
﴿ رَبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيَّارًا ﴾
[ نوح: 26-27 ]
ترجمہ:
’’اے میرے رب! زمین پر کسی کافر کو باقی نہ چھوڑ۔‘‘
اسی طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کی نافرمانی پر فرمایا:
﴿ رَبِّ إِنِّي لَا أَمْلِكُ إِلَّا نَفْسِي وَأَخِي فَافْرُقْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْقَوْمِ الْفَاسِقِينَ ﴾
“اے میرے رب! میں تو اپنے اور اپنے بھائی کے سوا کسی کا اختیار نہیں رکھتا، پس ہمارے اور اس نافرمان قوم کے درمیان فیصلہ فرما دے۔”
[ المائدۃ: 25 ]
لیکن رحمۃ للعالمین ﷺ کا معاملہ بالکل مختلف تھا۔
جب اہلِ طائف نے آپ ﷺ کو لہولہان کر دیا اور حضرت جبرائیل علیہ السلام نے پہاڑوں کے فرشتے کے ذریعے انہیں تباہ کرنے کی پیش کش کی تو آپ ﷺ نے فرمایا:
( بَلْ أَرْجُو أَنْ يُخْرِجَ اللّٰهُ مِنْ أَصْلَابِهِمْ مَنْ يَعْبُدُ اللّٰهَ وَحْدَهُ )
[ البخاری: 3231، مسلم: 1795 ]
ترجمہ:
’’نہیں، بلکہ میں امید رکھتا ہوں کہ اللہ ان کی نسلوں سے ایسے لوگ پیدا کرے گا جو صرف اسی ایک اللہ کی عبادت کریں گے۔‘‘
یہی نہیں بلکہ آپ ﷺ اپنی قوم کے لیے مسلسل دعا کرتے رہے:
( اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِقَوْمِي فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ )
“اے اللہ! میری قوم کو بخش دے، کیونکہ یہ لوگ نہیں جانتے۔”
[ متفق علیہ ]
➋ نبی کریم ﷺ امت کے لیے رو رو کر دعا کرتے تھے
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دعاؤں والی آیات تلاوت فرمائیں، پھر اپنی امت کو یاد کر کے رونے لگے اور فرمایا:
( اَللّٰهُمَّ أُمَّتِي، أُمَّتِي )
“اے اللہ! میری امت، میری امت!”
اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرائیل علیہ السلام کے ذریعے فرمایا:
( إِنَّا سَنُرْضِيكَ فِي أُمَّتِكَ وَلَا نَسُوْءُكَ )
[ مسلم: 346 ]
ترجمہ:
’’ہم آپ کو آپ کی امت کے بارے میں راضی کر دیں گے اور آپ کو غمگین نہیں کریں گے۔‘‘
➌ نبی کریم ﷺ نے اپنی دعا امت کے لیے محفوظ رکھی
آپ ﷺ نے فرمایا:
( لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةٌ مُسْتَجَابَةٌ … وَإِنِّي اخْتَبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ )
[ مسلم: 199 ]
ترجمہ:
’’ہر نبی کی ایک قبول شدہ دعا ہوتی ہے، لیکن میں نے اپنی دعا قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کے لیے محفوظ رکھی ہے۔‘‘
➍ نبی کریم ﷺ نے امت کے لیے دین مکمل اور واضح کر دیا
آپ ﷺ نے فرمایا:
( مَا بَقِيَ شَيْءٌ يُقَرِّبُ مِنَ الْجَنَّةِ وَيُبَاعِدُ مِنَ النَّارِ إِلَّا وَقَدْ بُيِّنَ لَكُمْ )
“کوئی ایسی چیز باقی نہیں رہی جو جنت کے قریب کرتی ہو اور جہنم سے دور کرتی ہو، مگر یہ کہ وہ تمہارے لیے واضح کر دی گئی ہے۔”
[ الصحیحۃ للألبانی: 1803 ]
اور حجۃ الوداع کے موقع پر صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے گواہی دی:
( نَشْهَدُ أَنَّكَ قَدْ بَلَّغْتَ وَأَدَّيْتَ وَنَصَحْتَ )
“ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ نے (اللہ کا پیغام) پہنچا دیا، امانت ادا کر دی، اور پوری خیرخواہی فرما دی۔”
[ مسلم: 1218 ]
➌ رحمۃ للعالمین ﷺ امت پر مشقت کو ناپسند کرتے تھے
رسولِ اکرم ﷺ اپنی امت کے لیے وہ عمل پسند نہیں فرماتے تھے جو ان کے لیے مشقت اور دشواری کا باعث بنے۔ آپ ﷺ امت کی آسانی، سہولت اور اعتدال کو پسند کرتے تھے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿ لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ ﴾
(التوبۃ: 128)
ترجمہ:
’’تمہارے پاس تم ہی میں سے ایک رسول آئے ہیں، جن پر تمہاری مشقت بہت گراں گزرتی ہے۔‘‘
اسی رحمت اور شفقت کا مظہر یہ ہے کہ جب نبی کریم ﷺ نے رمضان المبارک میں چند راتیں صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو باجماعت تراویح پڑھائی، اور پھر چوتھی رات تشریف نہ لائے، تو نمازِ فجر کے بعد فرمایا:
( أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّهُ لَمْ يَخْفَ عَلَيَّ مَكَانُكُمْ، وَلَكِنِّي خَشِيتُ أَنْ تُفْرَضَ عَلَيْكُمْ فَتَعْجِزُوا عَنْهَا )
[ البخاری: 2012، مسلم: 761 ]
ترجمہ:
’’مجھے تمہاری موجودگی کا علم تھا، لیکن مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں یہ نماز تم پر فرض نہ ہو جائے اور پھر تم اس سے عاجز آ جاؤ۔‘‘
اسی طرح آپ ﷺ نے فرمایا:
( لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ )
[ مسلم: 252 ]
ترجمہ:
’’اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کا حکم دیتا۔‘‘
➍ نبی کریم ﷺ آسانی کو پسند اور سختی کو ناپسند کرتے تھے
رسولِ اکرم ﷺ نے دین کو آسان بنا کر پیش فرمایا اور امت کو شدت، غلو اور تکلف سے بچنے کی تلقین کی۔
جب آپ ﷺ نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا تو فرمایا:
( يَسِّرَا وَلَا تُعَسِّرَا، وَبَشِّرَا وَلَا تُنَفِّرَا، وَتَطَاوَعَا وَلَا تَخْتَلِفَا )
[ البخاری: 3038 ]
ترجمہ:
’’لوگوں کے لیے آسانی پیدا کرنا، سختی نہ کرنا، خوشخبری دینا، نفرت نہ دلانا اور آپس میں اختلاف نہ کرنا۔‘‘
اسی طرح آپ ﷺ نے فرمایا:
( إِنَّ الدِّينَ يُسْرٌ، وَلَنْ يُشَادَّ الدِّينَ أَحَدٌ إِلَّا غَلَبَهُ )
[ البخاری، کتاب الإيمان: 39 ]
ترجمہ:
’’بے شک دین آسان ہے، اور جو شخص دین میں سختی کرے گا دین اس پر غالب آ جائے گا۔‘‘
اور فرمایا:
( إِنَّ اللّٰهَ لَمْ يَبْعَثْنِي مُعَنِّتًا وَلَا مُتَعَنِّتًا، وَلَكِنْ بَعَثَنِي مُعَلِّمًا مُيَسِّرًا )
[ مسلم: 1478 ]
ترجمہ:
’’اللہ نے مجھے مشقت میں ڈالنے والا نہیں بلکہ تعلیم دینے والا اور آسانی پیدا کرنے والا بنا کر بھیجا ہے۔‘‘
➎ نبی کریم ﷺ امت کی ہدایت کے لیے بے حد فکر مند تھے
رسولِ اکرم ﷺ اپنی امت کی نجات اور بھلائی کے لیے نہایت حریص تھے، اور جو لوگ ایمان قبول نہ کرتے ان کے بارے میں بھی شدید رنج و غم محسوس فرماتے تھے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَؤُوفٌ رَّحِيمٌ ﴾
“وہ تم پر نہایت شفیق ہیں، اور ایمان والوں پر بہت مہربان، نہایت رحم کرنے والے ہیں۔”
(التوبۃ: 128)
اور فرمایا:
﴿ فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ عَلَىٰ آثَارِهِمْ إِن لَّمْ يُؤْمِنُوا بِهَٰذَا الْحَدِيثِ أَسَفًا ﴾
(الکہف: 6)
ترجمہ:
’’شاید آپ ان کے پیچھے اس غم میں اپنی جان کھو دیں گے کہ یہ قرآن پر ایمان کیوں نہیں لاتے۔‘‘
یہ آیات اس بات کی کھلی دلیل ہیں کہ نبی کریم ﷺ امت کی ہدایت کے لیے کس قدر فکر مند اور غمگین رہا کرتے تھے۔
➏ رحمۃ للعالمین ﷺ امت کے لیے امان تھے
اللہ تعالیٰ نے رسولِ اکرم ﷺ کو امت کے لیے امان بنایا۔ سابقہ امتوں پر ہلاکت خیز عذاب آئے، مگر امتِ محمدیہ کو ایسے اجتماعی عذاب سے محفوظ رکھا گیا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿ وَمَا كَانَ اللّٰهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنْتَ فِيهِمْ وَمَا كَانَ اللّٰهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ ﴾
(الأنفال: 33)
ترجمہ:
’’اللہ انہیں عذاب نہیں دے گا جب تک آپ ان میں موجود ہیں، اور نہ ہی اللہ انہیں عذاب دے گا جب تک وہ استغفار کرتے رہیں گے۔‘‘
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ:
➊ رسولِ اکرم ﷺ کی ذاتِ مبارکہ امت کے لیے امان تھی۔
➋ آپ ﷺ کے بعد استغفار امت کے لیے امان ہے۔
رحمۃ للعالمین ﷺ صحابۂ کرامؓ کیلئے رحمت تھے
رسولِ اکرم ﷺ اپنے ساتھیوں یعنی صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کیلئے سراپا رحمت تھے۔ آپ ﷺ ان کے ساتھ گھل مل کر رہتے تھے، آپ ﷺ کا طرزِ زندگی عام لوگوں جیسا تھا۔ اٹھنا بیٹھنا، کھانا پینا، آنا جانا سب سادگی پر مبنی تھا۔ نہ کوئی دربان، نہ کوئی پہرہ۔ صحابۂ کرامؓ میں سے جو چاہتا، جس وقت چاہتا، بلا روک ٹوک آپ ﷺ سے ملاقات کر لیتا۔
آپ ﷺ کبھی یہ احساس نہیں ہونے دیتے تھے کہ آپ ان سے افضل ہیں، حالانکہ حقیقت میں آپ تمام انسانوں میں سب سے افضل تھے۔ اسی لیے آپ ﷺ صحابہؓ کو اپنے لیے کھڑا ہونے سے منع کرتے اور اپنی تعریف میں حد سے تجاوز کرنے سے روکتے تھے۔
آپ ﷺ ان سے مزاح بھی فرماتے، ان کے ساتھ کھاتے پیتے اور ہمیشہ خود کو ان کے قریب رکھتے تھے۔
صحابہؓ کے ساتھ شفقت و ہمدردی
➊ آپ ﷺ صحابہؓ کیلئے دعا کرتے تھے، ان کے بیماروں کی عیادت فرماتے، فوت شدگان کی نمازِ جنازہ پڑھاتے اور تدفین میں شریک ہوتے تھے۔
➋ آپ ﷺ کے پاس جو کچھ آتا، سب صحابہؓ میں تقسیم کر دیتے تھے اور خود فاقہ برداشت کر لیتے تھے۔
➌ خیر کے کاموں میں صحابہؓ کے ساتھ تعاون فرماتے اور ان کی دل جوئی کرتے تھے۔
➍ دین میں تکلف سے منع فرماتے اور ارشاد فرمایا:
( عَلَيْكُمْ مِنَ الْأَعْمَالِ مَا تُطِيقُونَ )
[ متفق علیہ ]
’’تم وہی اعمال کرو جن کی تم طاقت رکھتے ہو۔‘‘
➎ جنگوں میں خود صحابہؓ کے ساتھ شریک ہوتے، انہیں اکیلا نہ چھوڑتے اور فتح و نصرت کیلئے اللہ تعالیٰ سے گڑگڑا کر دعائیں کرتے تھے۔
➏ اگر کسی صحابیؓ سے کوئی غلطی ہو جاتی تو نہ سختی کرتے، نہ گالی دیتے، نہ لعنت بھیجتے، بلکہ نرمی اور محبت کے ساتھ اصلاح فرماتے اور اس کیلئے عذر تلاش کرتے تھے۔
رحمۃ للعالمین ﷺ خواتینِ اسلام کیلئے رحمت تھے
نبی کریم ﷺ خواتین کے حقوق کے سب سے بڑے محافظ اور خیر خواہ تھے۔
➊ آپ ﷺ عورتوں کے ساتھ حسنِ سلوک کی وصیت فرماتے اور مردوں کو ان کے بارے میں اللہ سے ڈرنے کا حکم دیتے تھے۔
ماں، بیٹی، بیوی اور بہن — ہر رشتے کے حقوق بیان فرمائے، خاص طور پر ماں کو سب سے زیادہ حسنِ سلوک کا مستحق قرار دیا۔
➋ آپ ﷺ اپنی بیٹیوں پر بے حد شفقت فرماتے، اپنی ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن سے محبت و حسنِ سلوک کرتے، گھریلو کاموں میں ہاتھ بٹاتے اور سفر میں انہیں ساتھ رکھتے تھے۔
➌ عورتوں کو مارنے پیٹنے سے منع فرمایا، بیویوں کے درمیان عدل کا حکم دیا اور فرمایا:
( خِيَارُكُمْ خِيَارُكُمْ لِنِسَائِهِمْ )
[ ابن ماجہ: 1978، وصححہ الألبانی ]
’’تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنی بیویوں کے حق میں سب سے بہتر ہو۔‘‘
➍ عورتوں کی فطری کمزوریوں اور مجبوریوں کا خیال رکھتے اور مخصوص ایام میں بھی ان سے حسنِ معاشرت اختیار فرماتے تھے۔
رحمۃ للعالمین ﷺ بچوں کیلئے رحمت تھے
نبی کریم ﷺ بچوں کے ساتھ غیر معمولی محبت اور شفقت فرمایا کرتے تھے۔
➊ بچوں کو بوسہ دیتے، گود میں بٹھاتے، کندھوں پر اٹھاتے، حتیٰ کہ نماز میں بھی انہیں اٹھا لیتے تھے۔
➋ اگر بچہ گود میں پیشاب کر دیتا تو ڈانٹتے نہیں تھے بلکہ پانی منگوا کر کپڑا پاک کر لیتے تھے۔
➌ بچوں کی غلطیوں پر سختی نہیں کرتے بلکہ پیار سے اصلاح فرماتے۔
➍ بچوں کیلئے دعا کرتے، گھٹی دیتے، بیمار ہوتے تو شفا کی دعا فرماتے۔
➎ راستے میں بچوں سے ملتے تو سلام کرتے تھے۔
➏ نماز میں بچوں کے رونے کی آواز سنتے تو نماز ہلکی کر دیتے تھے۔
➐ بچوں کو عقائدِ صحیحہ، آدابِ اسلامیہ اور احکامِ شرعیہ سکھاتے تھے۔
یتیموں، مساکین اور کمزوروں کیلئے رحمت
رسولِ اکرم ﷺ یتیموں، بیواؤں، غلاموں، لونڈیوں، فقراء و مساکین کیلئے بھی رحمت تھے۔
آپ ﷺ ان کے حقوق ادا کرنے، ان پر خرچ کرنے اور ان سے حسنِ سلوک کرنے کی بار بار تاکید فرماتے اور اس کے عظیم اجر و ثواب بیان کرتے تھے۔
رحمۃ للعالمین ﷺ جانوروں کیلئے بھی رحمت تھے
نبی کریم ﷺ کی رحمت صرف انسانوں تک محدود نہ تھی بلکہ جانور بھی اس سے مستفید تھے۔
➊ جانوروں پر نرمی کا حکم دیتے اور ان پر ظلم سے منع فرماتے۔
➋ ان کے مالکان کو جانوروں کے بارے میں اللہ سے ڈرنے کی تلقین کرتے۔
➌ طاقت سے زیادہ بوجھ ڈالنے سے منع فرمایا اور کھلانے پلانے کا حکم دیا۔
➍ ایک عورت کے بارے میں بتایا کہ وہ بلی کو قید کر کے بھوکا رکھنے کی وجہ سے جہنم میں گئی۔
[ متفق علیہ ]
➎ جانور کو ذبح کرتے وقت تیز چھری استعمال کرنے اور آرام دینے کا حکم دیا۔
➏ جانور کے سامنے چھری تیز کرنے سے منع فرمایا۔
➐ پرندوں کو ان کے گھونسلوں سے اڑانے، جانوروں کا مثلہ کرنے، ان پر لعنت بھیجنے اور انہیں نشانہ بنانے سے منع فرمایا۔
رحمۃ للعالمین ﷺ کفار کیلئے بھی رحمت تھے
یہ بات قرآن، حدیث اور سیرتِ نبوی ﷺ سے بالکل واضح ہے کہ رسولِ اکرم ﷺ صرف مسلمانوں ہی کیلئے نہیں بلکہ کافروں کیلئے بھی رحمت تھے۔
➊ اہلِ مکہ کو تباہ کرنے سے انکار
جب اہلِ طائف نے نبی کریم ﷺ کو شدید اذیت دی، لہولہان کر دیا، تو حضرت جبرائیل علیہ السلام نے پہاڑوں کے فرشتے کے ذریعے یہ پیش کش کی کہ اگر آپ ﷺ چاہیں تو ان لوگوں کو دو پہاڑوں کے درمیان پیس دیا جائے۔
لیکن رحمۃ للعالمین ﷺ نے فرمایا:
( بَلْ أَرْجُو أَنْ يُخْرِجَ اللّٰهُ مِنْ أَصْلَابِهِمْ مَنْ يَعْبُدُ اللّٰهَ وَحْدَهُ )
[ البخاری: 3231، مسلم: 1795 ]
’’نہیں، بلکہ میں امید رکھتا ہوں کہ اللہ ان کی نسلوں میں سے ایسے لوگ پیدا کرے گا جو صرف ایک اللہ کی عبادت کریں گے۔‘‘
➋ کفار کیلئے بددعا کے بجائے ہدایت کی دعا
جب آپ ﷺ سے کہا گیا کہ قبیلہ دوس کے لوگ اسلام قبول نہیں کر رہے، ان پر بددعا فرمائیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا:
( اَللّٰهُمَّ اهْدِ دَوْسًا وَائْتِ بِهِمْ )
[ متفق علیہ ]
’’اے اللہ! قبیلہ دوس کو ہدایت دے اور انہیں میرے پاس لے آ۔‘‘
➌ اُحد میں زخمی ہونے کے باوجود معافی
غزوۂ اُحد میں کفار نے نبی کریم ﷺ کو زخمی کر دیا، چہرۂ انور لہولہان ہو گیا، مگر اس حالت میں بھی آپ ﷺ فرما رہے تھے:
( اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِقَوْمِي فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ )
’’اے اللہ! میری قوم کو معاف فرما دے، کیونکہ وہ جانتے نہیں۔‘‘
➍ فتحِ مکہ کے موقع پر عام معافی
فتحِ مکہ کے دن، جب آپ ﷺ کے تمام دشمن آپ کے سامنے بے بس تھے، تو آپ ﷺ نے قتلِ عام کا حکم نہیں دیا بلکہ فرمایا:
( اِذْهَبُوا فَأَنْتُمُ الطُّلَقَاءُ )
’’جاؤ! تم سب آزاد ہو۔‘‘
یہ اعلان اس بات کی واضح دلیل ہے کہ نبی کریم ﷺ دشمنوں کے خون کے پیاسے نہیں تھے بلکہ ان کی ہدایت چاہتے تھے۔
➎ قاتلانہ منصوبوں کے باوجود درگزر
جن لوگوں نے نبی کریم ﷺ کو قتل کرنے کی سازشیں کیں، آپ ﷺ نے ان سے بھی انتقام نہیں لیا۔
زہر دینے والی عورت، لبید بن اعصم (جادو کرنے والا) — سب کو معاف فرمایا۔
➏ جنگوں میں بھی اخلاقیات کی پابندی
آپ ﷺ نے جنگوں میں عورتوں، بچوں اور غیر محارب لوگوں کے قتل سے منع فرمایا۔
اہلِ ذمہ کے حقوق کی حفاظت کی تاکید فرمائی اور معاہد کو قتل کرنے سے سختی سے منع فرمایا۔
کیا نبی ﷺ رحمۃ للعالمین تھے تو جنگیں کیوں ہوئیں؟
یہ سوال بعض لوگ اعتراض کے طور پر کرتے ہیں، حالانکہ اس کے واضح اور عقلی جوابات موجود ہیں۔
➊ قتال صرف دفاع کیلئے تھا
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿ وَقَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللّٰهِ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا ﴾
[ البقرۃ: 190 ]
’’تم ان لوگوں سے لڑو جو تم سے لڑتے ہیں، مگر زیادتی نہ کرو۔‘‘
قتال کا مقصد ظلم کا خاتمہ اور فتنہ کو روکنا تھا، نہ کہ لوگوں کو زبردستی مسلمان بنانا۔
➋ اسلام میں قتال اصل مقصد نہیں
اصل مقصد دعوتِ اسلام ہے۔
رسولِ اکرم ﷺ مجاہدین کو حکم دیتے تھے کہ پہلے اسلام کی دعوت دو، پھر جزیہ، اور آخری صورت میں قتال۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خیبر بھیجتے وقت فرمایا:
( فَوَاللّٰهِ لَأَنْ يَهْدِيَ اللّٰهُ بِكَ رَجُلًا وَاحِدًا خَيْرٌ لَكَ مِنْ حُمُرِ النَّعَمِ )
[ متفق علیہ ]
’’اللہ کی قسم! اگر اللہ تمہارے ذریعے ایک آدمی کو ہدایت دے دے تو یہ سرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔‘‘
➌ اسلام تلوار کے زور پر نہیں پھیلا
مکہ کے تیرہ سالہ دور میں نہ تلوار اٹھی، نہ قتال ہوا، بلکہ مسلمانوں پر خود ظلم ہوتا رہا۔
مدینہ کی اسلامی ریاست بھی بغیر اسلحہ کے قائم ہوئی — یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اسلام دعوت اور اخلاق سے پھیلا۔
➍ جنگوں میں ہلاکتیں انتہائی کم تھیں
نبی کریم ﷺ کی 27 جنگوں میں کفار کے مقتولین کی تعداد بہت کم ہے، جبکہ جدید دنیا کی جنگوں میں لاکھوں افراد مارے گئے۔
ہیروشیما، ناگاساکی، عراق، افغانستان اور فلسطین — ان مظالم کے ذمہ دار مسلمان نہیں۔
حقیقی دہشت گردی وہ ہے جو آج بھی بے گناہ عورتوں، بچوں اور شہریوں پر ڈھائی جا رہی ہے۔
نتیجہ
اللہ ارحم الراحمین نے رحمۃ للعالمین ﷺ کے ذریعے انسانیت کو جو دین عطا کیا، وہ مکمل طور پر دینِ رحمت ہے۔
اسلام میں ظلم، انتہا پسندی اور دہشت گردی کی کوئی گنجائش نہیں۔
جو لوگ اسلام کو تشدد سے جوڑتے ہیں وہ یا تو ناواقف ہیں یا بدنیتی کا شکار ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اس دینِ رحمت کو سمجھنے، اپنانے اور دنیا تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔