سوال:
نا فرمان بیوی کو نصیحت کرنا، اس کے لیے بددعا کرنا یا نان و نفقہ بند کرنا کیسا ہے؟
جواب:
نافرمان بیوی کو نصیحت کرنا ضروری ہے، شریعت کا یہی منشا ہے۔
❀سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
استوصوا بالنساء خيرا فإنهن خلقن من ضلع وإن أعوج شيء فى الضلع أعلاه فإن ذهبت تقيمه كسرته وإن تركته لم يزل أعوج فاستوصوا بالنساء خيرا
”عورتوں کے ساتھ انتہا درجے کی بھلائی کریں، کیونکہ عورت پسلی سے پیدا ہوئی ہے اور اوپر والی پسلی میں سب سے زیادہ ٹیڑھ پن ہوتا ہے، اسے سیدھا کرنے بیٹھو گے تو توڑ دو گے، اپنے حال پر چھوڑ دو گے تو ٹیڑھی ہی رہے گی، لہذا عورتوں سے کمال کی خیر خواہی کیجئے۔“
(صحيح البخاري : 3331، صحیح مسلم : 1468)
باقی نافرمان بیوی کے لیے بددعا کرنا یا اس کا نان و نفقہ بند کرنا کسی طرح جائز نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج سے ایلاء کیا، مگر ان کا نان و نفقہ جاری رکھا اور ان کے لیے بددعا بھی نہیں کی، تو ایک مسلمان کو بھی یہی رویہ اختیار کرنا چاہیے۔