مضمون کے اہم نکات
سوال:
"نَاکِحُ الْیَدِ مَلْعُوْنٌ” کی وضاحت فرمائیں؟
جواب:
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
"نَاکِحُ الْیَدِ مَلْعُوْنٌ” کے الفاظ پر مشتمل کوئی حدیث مجھے فی الوقت نہیں ملی، البتہ اس موضوع پر کچھ اقوال اور دلائل موجود ہیں جو ذیل میں تفصیل سے پیش کیے جا رہے ہیں:
حافظ ابن کثیر کی تفسیر:
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے سورۃ المومنون کی آیت نمبر 7 کی تفسیر میں اس موضوع پر گفتگو کی ہے:
﴿فَمَنِ ٱبۡتَغَىٰ وَرَآءَ ذَٰلِكَ فَأُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡعَادُونَ﴾
(المومنون: 7)
اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے انہوں نے لکھا ہے:
"وقد استدل الامام الشافعی رحمه اﷲ تعالی ومن وافقه علی تحريم الاستمناء باليد بهذه الآية الکريمة ﴿وَالَّذِيْنَ هُمْ لِفُرُوْجِهِمْ حَافِظُوْنَ اِلاَّ عَلٰٓی أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَکَتْ اَيْمَانُهُمْ﴾ قال فهذا الصنيع خارج عن هذين القسمين وقد قال اﷲ تعالی ﴿فَمَنِ ابْتَغٰی وَرَآءَ ذٰلِکَ فَأُوْلٰٓئِکَ هُمُ الْعَادُوْنَ﴾”
امام شافعی رحمہ اللہ اور ان کے متبعین نے مذکورہ آیتِ کریمہ سے ہاتھ سے شہوت پوری کرنے (استمناء بالید) کی حرمت پر استدلال کیا ہے، کیونکہ یہ عمل ان دو جائز طریقوں (بیوی یا باندی) سے باہر ہے، اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿فَمَنِ ٱبۡتَغَىٰ وَرَآءَ ذَٰلِكَ فَأُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡعَادُونَ﴾
یعنی "جو ان حدود کے سوا کچھ چاہے تو وہی لوگ حد سے بڑھنے والے ہیں۔”
ضعیف حدیث کا حوالہ:
اسی سلسلے میں ایک حدیث کا بھی ذکر ہے جو امام الحسن بن عرفة نے اپنے مشہور جز میں روایت کی ہے:
"حدثنی علی بن ثابت الجزری عن مسلمة بن جعفر عن حسان بن حميد عن انس بن مالک عن النبی ﷺ قال:سبعة لا ينظر اﷲ اليهم يوم القيامة ولا يزکيهم ولا يجمعهم مع العالمين ويدخلهم النار فی اول الداخلين الا ان يتوبوا ومن تاب تاب اﷲ عليه: الناکح يديه الخ۔”
اس حدیث میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"سات افراد ایسے ہیں جن کی طرف اللہ تعالیٰ قیامت کے دن نظر رحمت نہیں فرمائے گا، نہ ان کو پاکیزہ بنائے گا، نہ ان کو لوگوں کے ساتھ جمع کرے گا، بلکہ وہ دوزخ میں سب سے پہلے داخل کیے جائیں گے، سوائے اس کے کہ وہ توبہ کریں، اور جو توبہ کرے اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرتا ہے۔
ان میں سے ایک وہ شخص ہے جو اپنے ہاتھ سے نکاح کرتا ہے (یعنی مشت زنی کرتا ہے)۔”
ابن کثیر کا تبصرہ:
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ اس حدیث پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
"قال ابن کثير: هذا حديث غريب واسناده فيه من لا يعرف لجهالته”
(تفسیر ابن کثیر، جلد 3، صفحہ 239)
یعنی یہ حدیث غریب (شاذ) ہے اور اس کی سند میں بعض ایسے راوی ہیں جنہیں ان کی جہالت (نامعلوم ہونا) کی وجہ سے پہچانا نہیں جا سکتا۔
خلاصہ:
❖ "نَاکِحُ الْیَدِ مَلْعُوْنٌ” کے الفاظ پر مشتمل کوئی صحیح حدیث دستیاب نہیں۔
❖ امام شافعی رحمہ اللہ نے سورہ المومنون کی آیت
﴿فَمَنِ ٱبۡتَغَىٰ وَرَآءَ ذَٰلِكَ فَأُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡعَادُونَ﴾
سے مشت زنی کی حرمت پر استدلال کیا ہے۔
❖ حدیث جو "ناکح یدہ” کے بارے میں بیان کرتی ہے، ضعیف ہے کیونکہ اس کی سند میں مجہول راوی موجود ہیں۔
❖ البتہ جو فقہی استدلال امام شافعی اور دیگر اہل علم نے قرآن کی آیت سے کیا ہے وہ درست اور معتبر ہے۔
ھذا ما عندي، والله أعلم بالصواب