مضمون کے اہم نکات
مقدمہ
اب ہم ان اعمال کا تذکرہ کریں گے جو کسی مسلمان پر اس وقت تک حرام ہوتے ہیں جب تک کہ وہ پاک صاف نہ ہو جائے کیونکہ وہ اعمال تقدس اور شرف کے حامل ہیں۔ ہم ان اعمال کی وضاحت دلائل کے ساتھ کریں گے تاکہ آپ انھیں ملحوظ رکھیں اور طہارت مطلوبہ حاصل ہونے پر ہی انھیں ادا کریں۔ سب سے پہلے ان اعمال کا تذکرہ کرنا مناسب ہے جنھیں حدث اصغر دونوں حالتوں میں کرنا حرام ہے۔”
قرآن مجید کو چھونا
قرآن مجید کو چھونا: کوئی ناپاک شخص قرآن مجید کو غلاف وغیرہ کے بغیر ہاتھ نہ لائے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
"لا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ”
ترجمہ: اسے (قرآن کو) صرف پاک لوگ ہی چھوتے ہیں۔
الوقعۃ :56۔79۔
اس آیت میں طہارت سے مراد ہر قسم کی نجاست کو دور کرنا ہے… بعض حضرات اسے انسانوں پر محمول کرتے ہیں، بعض فرشتوں پر۔
اگر یہاں (الْمُطَهَّرُونَ) سے مراد فرشتے ہوں، تب بھی اشارۃ النص کے مطابق انسان شامل ہو جاتے ہیں۔
نبی کریم ﷺ کا فرمان: قرآن کو صرف پاک شخص چھوئے
” لا يمس القرآن إلا طاهر "
ترجمہ: قرآن کو صرف پاک شخص ہی چھوئے۔
سنن الدارقطنی 1/120۔ سنن کبریٰ بیہقی 1/88۔ سنن دارمی 2/112۔
حافظ ابن عبدالبر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
"یہ حدیث متواتر کے مشابہ ہے کیونکہ علماء نے اسے قبول کیا ہے۔”
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ بھی اسی کے قائل ہیں کہ طہارت کے بغیر قرآن کو چھونا جائز نہیں۔
غلاف کے ساتھ قرآن اٹھانا جائز
اگر قرآن مجید غلاف میں لپٹا ہو یا ڈبیہ میں بند ہو تو اٹھانے میں حرج نہیں — بس براہ راست ہاتھ نہ لگایا جائے۔
نماز کا حکم ناپاک شخص کے لیے
ایسا ناپاک شخص جو طہارت حاصل کر سکتا ہو، اس کے لیے فرض یا نفل نماز پڑھنا ممنوع ہے۔ اس پر امت کا اجماع ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد:
﴿يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا إِذا قُمتُم إِلَى الصَّلوٰةِ فَاغسِلوا وُجوهَكُم…﴿٦﴾… سورة المائدة
ترجمہ: اے ایمان والو! جب نماز کے لیے کھڑے ہو تو اپنے چہروں اور ہاتھوں کو کہنیوں تک دھو لو… اور اگر جنبی ہو تو غسل کرو۔
المائدہ: 5/6۔
نبی ﷺ کا فرمان
"لايقبلُ الله صلاةً بغير طُهور”
ترجمہ: اللہ تعالیٰ طہارت کے بغیر نماز قبول نہیں کرتا۔
صحیح مسلم الطہارۃ باب وجوب الطہارۃ للصلاۃ حدیث 225 وسنن ابی داؤد الطہارۃ باب فرض الوضوء حدیث 60واللفظ لہ۔
اور فرمایا:
"لاَ تُقْبَلُ صَلاَةُ أَحَدِكُمْ، إِذَا أَحْدَثَ حَتَّى يَتَوَضَّأَ”
ترجمہ: تم میں سے کسی کی نماز قبول نہیں ہوتی جب تک وہ وضو نہ کر لے۔
صحیح مسلم الطہارۃ باب وجوب الطہارۃ للصلاۃ حدیث 225 وسنن ابی داؤد الطہارۃ باب فرض الوضوء حدیث 60واللفظ لہ۔
بغیر وضو نماز پڑھنے کا حکم
پانی موجود ہو اور انسان بغیر وضو نماز پڑھے تو نماز درست نہیں — چاہے بھول کر ہو یا جان بوجھ کر۔
بیت اللہ کا طواف ناپاک پر حرام ہے
"الطواف بالبيت صلاة إلا أن الله أباح فيه الكلام”
ترجمہ: بیت اللہ کا طواف نماز کی طرح ہے، فرق صرف اتنا ہے کہ اس میں گفتگو کی اجازت ہے۔
المستدرک للحاکم:1/459۔حدیث 1686۔ترمذی الحج باب ماجاء فی الکلام فی الطواف حدیث 960۔وصحیح ابن حبان بترتیب ابن بلبان 9/143۔144حدیث 36۔38۔ وصحیح ابن خزیمہ4/222۔حدیث 2739۔
لہٰذا طواف کے لیے وضو ضروری ہے۔
حائضہ کو طواف سے روک دیا گیا
نبی ﷺ نے حائضہ عورت کو طواف سے منع فرمایا — یہ دلیل ہے کہ جنبی یا ناپاک شخص کے لیے طواف حرام ہے۔
مسجد میں جنبی یا حائضہ کا ٹھہرنا منع ہے
﴿وَلا جُنُبًا إِلّا عابِرى سَبيلٍ حَتّىٰ تَغتَسِلوا…﴿٤٣﴾… سورة النساء
ترجمہ: اور جنبی ہونے کی حالت میں (مسجد کے قریب نہ جاؤ) مگر راستہ چلتے ہوئے۔
النساء:4/43۔
نبی ﷺ کا فرمان:
"لا أحل المسجد لحائض ولا لجنب”
ترجمہ: میں حائضہ اور جنبی کے لیے مسجد میں رہنا حلال نہیں کرتا۔
(ضعیف) سنن ابی داؤد الطہارۃ باب فی الجنب یدخل المسجد حدیث232وصحیح ابن خزیمہ2/284۔حدیث1327۔ورواء الغلیل 1/210۔حدیث 193۔وصححہ الشیخ زبیر علی زئی۔
مسجد سے گزرنے کی اجازت
﴿إِلَّا عَابِرِي سَبِيلٍ﴾
یعنی گزر جانا جائز ہے، بیٹھنا نہیں۔
حدث اکبر (جنابت) میں ممنوع اعمال
قرآن کی تلاوت
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
"وَلَمْ يَكُنْ يَحْجُبُهُ عَنْ الْقُرْآنِ شَيْءٌ لَيْسَ الْجَنَابَةَ”
ترجمہ: رسول اللہ ﷺ کو قرآن پڑھنے سے کوئی چیز نہ روکتی تھی سوائے جنابت کے۔
سنن النسائی الطہارۃ باب حجب الجنب من قراء القرآن حدیث 266۔وسنن ابی داؤد الطہارۃ باب فی الجنب بقراالقرآن حدیث 229۔وسنن ابن ماجہ الطہارۃ وسننھا باب ماجاء فی قراء القرآن علی غیرطہارۃ حدیث 594ومسند احمد 1/84۔
جامع ترمذی:
” يُقْرِئُنَا الْقُرْآنَ عَلَى كُلِّ حَالٍ مَا لَمْ يَكُنْ جُنُبًا…”
ترجمہ: آپ ہمیں ہر حالت میں قرآن پڑھاتے تھے مگر جنابت کی حالت میں نہیں۔
جامع الترمذی الطہارۃ باب ماجاء فی الرجل بقراء القرآن علی کل مالم یکن جنباء حدیث 146۔
ذکر کرنا جائز ہے
” كَانَ النَّبِيُّ… يَذْكُرُ اللَّهَ عَلَى كُلِّ أَحْيَانِهِ "
ترجمہ: نبی ﷺ ہر حال میں اللہ کا ذکر کرتے تھے۔
صحیح البخاری الاذان باب ھل یتبع الموذن فاہ ھاھنا وھاھنا؟ قبل الحدیث634۔معلقاًوصحیح مسلم الحیض باب ذکر اللہ تعالیٰ فی حال الجنابۃ وغیرہا حدیث 373۔
مسجد میں بیٹھنے کا حکم
حائضہ اور جنبی کے لیے مسجد میں ٹھہرنا جائز نہیں، مگر گزرنا جائز ہے۔
نبی ﷺ نے فرمایا:
” يعتزل الحيض المصلى "
ترجمہ: حیض والی عورتیں مصلیٰ (عیدگاہ) سے الگ رہیں۔
صحیح البخاری العیدین باب اذا لم یکن لہا جلباب فی العیدحدیث980۔وصحیح مسلم صلاۃ العیدین باب ذکر ایاحۃ خروج النساء فی العیدین الی المصلیٰ حدیث 890۔وسنن النسائی صلاۃ العیدین باب خروج العواتق و ذوات الخدورفی العیدین حدیث 1559۔واللفظ لہ۔
ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب