مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

نانی کے دودھ پینے کے بعد نواسی سے نکاح کا حکم؟

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

نانی اقرار کرتی ہے کہ میں نے نواسے کو دودھ پلایا ہے، کیا اس کی شادی نانی کی نواسی سے ہو سکتی ہے یا نہیں؟

جواب:

نانی نے اقرار کیا ہے، تو رضاعت ثابت ہو جائے گی۔ اب نانی کی نواسی سے رضیع (دودھ پینے والے) کی شادی نہیں ہو سکتی، کیونکہ دونوں رضاعی ماموں بھانجی ہیں۔
وَبَنَاتُ الْأُخْتِ
(النساء: 23)
اور بہنوں کی بیٹیوں کو (بھی تم پر حرام کر دیا گیا ہے)۔
یہاں اُخت کا لفظ مطلق ہے، جو رضاعی بہنوں کو بھی شامل ہے، لہذا رضاعی بھانجی سے نکاح جائز نہیں، کیونکہ جو رشتہ نسب سے حرام ہوتا ہے، وہ رضاعت سے بھی حرام ہوتا ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔