مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

نانی کی وراثت میں حصہ داری کا شرعی حکم

فونٹ سائز:

سوال

ایک سائلہ نے سوال کیا کہ ان کی والدہ 31 اگست 1989 کو وفات پا چکی ہیں، جب کہ ان کی نانی 31 دسمبر 1989 کو وفات پا چکی ہیں، یعنی والدہ کا انتقال نانی سے پہلے ہو چکا ہے۔ نانی کی اولاد میں دو بیٹے اور بیٹیاں شامل تھیں۔ والدہ کی وفات نانی کی وفات سے پہلے ہوئی، جب کہ باقی دو بھائی اور ایک بہن کا انتقال نانی کے انتقال کے بعد ہوا۔ نانی کے کوئی بھائی بہن بھی نہیں تھے۔

سائلہ نے یہ سوال کیا کہ کیا نانی کے ورثے میں سے انہیں کچھ مل سکتا ہے، کیونکہ وہ ضرورت مند ہیں، لیکن ان کے ماموں اور خالہ کے بیٹے کہتے ہیں کہ انہیں کچھ نہیں ملے گا، کیونکہ ان کی والدہ نانی کے انتقال سے پہلے فوت ہو چکی تھیں۔ اس مسئلے میں رہنمائی فراہم کریں۔

جواب از فضیلۃ الباحث داؤد اسماعیل حفظہ اللہ

اس مسئلے میں سائلہ کے ماموں اور خالہ کے بیٹے درست کہہ رہے ہیں۔ شریعت کے اصول کے مطابق، میت سے پہلے وفات پانے والے کا وراثت میں کوئی حصہ نہیں ہوتا۔ چونکہ سائلہ کی والدہ نانی کے انتقال سے پہلے وفات پا چکی تھیں، اس لیے نانی کی وراثت میں ان کا یا ان کے بچوں کا کوئی حصہ نہیں ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔