نانا کی بیوہ، جو حقیقی نانی نہ ہو، بلکہ نانا کی دوسری بیوی ہو، سے نکاح کا کیا حکم ہے؟

ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

نانا کی بیوہ، جو حقیقی نانی نہ ہو، بلکہ نانا کی دوسری بیوی ہو، سے نکاح کا کیا حکم ہے؟

جواب:

اس سے نکاح حرام ہے۔
وَلَا تَنْكِحُوا مَا نَكَحَ آبَاؤُكُمْ مِنَ النِّسَاءِ
(النساء: 22)
جو عورتیں تمہارے آباء کی منکوحہ رہ چکی ہوں، ان سے تم نکاح نہ کرو۔
آباء سے مراد باپ کے ساتھ ساتھ والد اور والدہ کے باپ داد بھی ہیں۔ لہذا نانا کی بیوہ سے نکاح ناجائز و حرام ہے۔

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سوشل میڈیا پر یہ مضمون فیچرڈ امیج کے ساتھ شئیر کرنے کے لیے یہ تصویر محفوظ کریں ⬇️