نامصہ سے کیا مراد ہے؟ حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ مبشر احمد ربانی کی کتاب احکام و مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

سوال :

کیا نامصہ سے مراد وہ عورت ہے جو اپنے پورے چہرے کے بال نوچتی ہے، یا وہ جو صرف پلکوں کے بال اتارتی ہیں؟

جواب :

اس سے مراد وہ عورت ہے جو پورے چہرے کے کسی بھی حصے سے بال نوچتی ہے، کیونکہ لغات الحدیث والوں نے اس کا یہی معنی کیا ہے۔ علامہ ابن اثیر جزری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:النامصة التى تنتف الشعر من وجهها
”نامصہ سے مراد وہ عورت ہے جو اپنے چہرے کے بال نوچتی ہے۔“
(النهاية في غريب الحديث والأثر 119/5)
اور یہی معنی علامہ محمد طاہر پٹنی نے مجمع بحار الأنوار (811/4) میں اور عبد الرحمن خلیل فراہیدی نے كتاب العين (ص 989) وغیرہ میں کیا ہے، لہذا جو خواتین اپنے چہرے کے کسی بھی حصے سے بال نوچتی ہیں وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کی رو سے موجب لعنت ہیں۔