مضمون کے اہم نکات
الحمد للہ وحدہ، والصلوٰۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ۔
نماز میں قیام کے وقت ہاتھ کہاں باندھنے چاہئیں؟ اس پر اہلِ سنت کے نزدیک حجت صرف صحیح و ثابت احادیث ہیں۔
اہلِ حدیث کے نزدیک یہ سنت ہے کہ رسول اللہ ﷺ دایاں ہاتھ بائیں پر رکھ کر انہیں سینہ پر باندھتے تھے (جیسا کہ صحیح مسلم میں حضرت وائل بن حجرؓ اور قبیصہ بن ہلبؓ سے ثابت ہے)۔
اس کے برعکس بعض حضرات ناف کے نیچے ہاتھ باندھنے کے قائل ہیں اور اس پر موضوع و منکر روایات سے استدلال کرتے ہیں۔ اس مضمون میں ڈاکٹر فیض احمد چشتی اور محمد ناظم عباسی کی پیش کردہ انہی روایات کا جائزہ لیا جائے گا اور محدثین کی روشنی میں یہ واضح کیا جائے گا کہ:
❖ یہ تمام اسانید سخت ضعیف یا موضوع ہیں۔
❖ ناف کے نیچے ہاتھ باندھنے کے بارے میں کوئی صحیح روایت موجود نہیں۔
✦ پہلی دلیل: حضرت علیؓ سے منسوب (سنن ابی داود)
عربی متن:
«حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَحْبُوبٍ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: مِنَ السُّنَّةِ وَضْعُ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى فِي الصَّلَاةِ تَحْتَ السُّرَّةِ.»
حوالہ: سنن أبي داود (751)
اردو ترجمہ:
حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: سنت یہ ہے کہ آدمی نماز میں اپنا دایاں ہاتھ بائیں پر ناف کے نیچے رکھے۔
✦ تحقیقِ سند
اس روایت کی بنیاد عبدالرحمن بن اسحاق الکوفی (أبو شیبہ الواسطی) پر ہے، جس پر ائمہ نے سخت جرح کی ہے:















