سوال
کیا نابالغ لڑکا امامت کے فرائض سرانجام دے سکتا ہے؟
جواب
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
اگر بالغ مردوں میں کوئی ایسا شخص نہ ہو جو جماعت کرانے کا اہل ہو، اور وہاں ایک نابالغ مگر صاحبِ تمیز لڑکا موجود ہو، تو ایسی حالت میں نابالغ لڑکے کے لیے امامت کے فرائض سرانجام دینا جائز ہے۔
یہ بات اس سے ثابت ہے کہ صحیح بخاری، ابوداؤد، نسائی اور مسند امام احمد بن حنبل میں حضرت عمر بن سلمہ رضی اللہ عنہ کا واقعہ موجود ہے۔ انہوں نے جماعت کی امامت کروائی حالانکہ وہ بخاری کی روایت کے مطابق چھ یا سات سال کے تھے اور ابو داؤد کی روایت کے مطابق سات یا آٹھ برس کے تھے۔
حضرت عمر بن سلمہ رضی اللہ عنہ کا واقعہ
حضرت عمر بن سلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
ہمارا قبیلہ ایسے راستے پر آباد تھا جہاں سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا گزر ہوتا تھا۔ میں ان سے قرآن سیکھتا رہتا تھا۔ پھر جب میرے والد مسلمان ہوئے تو انہوں نے کہا:
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ دن اور رات میں پانچ نمازیں ادا کرنا فرض ہیں۔ نماز کے وقت کوئی اذان دے، اور جماعت وہ شخص کرائے جو دوسروں کے مقابلے میں زیادہ علم والا ہو۔
چونکہ میں اپنے قبیلے میں سب سے زیادہ قرآن پڑھا ہوا تھا، لہٰذا میری قوم نے مجھے اپنا امام بنا دیا۔ چنانچہ میں اس وقت سے آج تک ان کا امام ہوں۔ اُس وقت میری عمر تقریباً سات سال تھی۔ میرے بدن پر صرف ایک قمیص ہوتی تھی، اور جب میں سجدے میں جاتا تو میرا جسم ننگا ہو جاتا تھا۔ تب میری قوم نے میرے لیے کپڑے تیار کیے۔
الفاظِ روایت
بخاری و نسائی کی روایت:
فَنَظَرُوا فَلَمْ يَكُنْ أَحَدٌ أَكْثَرَ قُرْآنًا مِنِّي، لِمَا كُنْتُ أَتَلَقَّى مِنَ الرُّكْبَانِ، فَقَدَّمُونِي بَيْنَ أَيْدِيهِمْ، وَأَنَا ابْنُ سِتٍّ أَوْ سَبْعِ سِنِينَ، (رواه البخاری والنسائی بنحوه)
ابو داؤد کی روایت:
قال فیہ کنت اءمھم وانا ابن سبع سنین او ثمان سنین۔ (ابوداؤد)
امام احمد اور ابوداؤد کی روایت:
وَلِأَحْمَدَ وَأَبِي دَاوُد: فَمَا شَهِدْتُ مَجْمَعًا مِنْ جَرْمٍ إلَّا كُنْتُ إمَامَهُمْ إلَى يَوْمِي هَذَا (نیل الأوطار: باب ما جاء فی امامة الصبی ص۱۸۷ج۳)
نتیجہ
اس صحیح حدیث سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اگر نابالغ لڑکا بڑے لوگوں کے مقابلے میں زیادہ علم رکھتا ہو اور صاحبِ تمیز بھی ہو، تو اس کی امامت کرنا بالکل جائز ہے۔
ھذا ما عندي واللہ أعلم بالصواب