مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

نابالغ طالب علم کے لیے روزہ رکھنا بہتر ہے یا پڑھائی میں مشغول رہنا؟

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

نابالغ لڑکا، جو پڑھائی کرتا ہے، کیا اس کے لیے روزہ رکھنا بہتر ہے یا وہ پڑھائی میں وقت لگائے؟

جواب:

روزہ رکھ کر بھی پڑھائی کی جا سکتی ہے۔ نابالغ کو بھی عادت ڈالنے کے لیے روزے رکھوانے چاہیے، یہ اس کی تربیت ہے۔
❀ سیدہ ربیع بنت معوذ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:
كنا نصوم صبياننا ونجعل لهم اللعبة من العهن، فإذا بكى أحدهم من الجوع أعطيناه إياها حتى يكون عند الإفطار
ہم اپنے بچوں کو روزے رکھواتے تھے اور ان کے لیے کھلونے بناتے تھے، جب کوئی بچہ بھوک سے رونے لگتا تو ہم اسے وہ کھلونا دیتے تاکہ افطار کا وقت ہو جائے۔
(صحيح البخاري: 1960، صحیح مسلم: 1136)

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔