نابالغ شوہر کی وفات پر بیوی کا مہر اور نان و نفقہ کا حکم

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

شوہر نابالغی میں فوت ہو جائے تو کیا عورت مہر اور نان و نفقہ کی حق دار ہے؟

جواب :

اس صورت میں بھی عورت پورے مہر اور وراثت کی حق دار ہے، نیز وہ چار ماہ دس دن عدت وفات شوہر گزارے گی ، نفقہ و سکنی کی حق دار نہیں ، البتہ اگر بیوہ حاملہ ہے ، تو وضع حمل تک نفقہ وسکنی کی حق دار بھی ہے۔
❀اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿وَإِنْ كُنَّ أُولَاتِ حَمْلٍ فَأَنْفِقُوا عَلَيْهِنَّ حَتَّى يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ﴾
(الطلاق : 6)
”عورتیں حاملہ ہوں، تو وضع حمل تک ان کا نفقہ تم پر واجب ہے۔“
❀سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کو تین طلاقیں ہوئیں، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا نفقة لك إلا أن تكوني حاملا
”آپ کے لیے کوئی نفقہ نہیں ہے، الا کہ آپ حاملہ ہوتیں ۔“
(سنن أبي داود : 2290، وسنده صحيح)
❀امام ابن شہاب زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
المبتوتة لا تخرج من بيتها حتى تحل وليست لها نفقة إلا أن تكون حاملا فينفق عليها حتى تضع حملها
”طلاق بتہ والی عورت عدت ختم ہونے تک گھر سے باہر نہیں نکلے گی۔ اس کے لیے نفقہ بھی نہیں ہو گا ، ہاں حاملہ ہو ، تو وضع حمل تک خرچہ شوہر کے ذمہ ہے۔“
(موطأ الإمام مالك : 837/4)
❀امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
هذا الأمر عندنا
”ہمارا بھی یہی موقف ہے ۔“
(ایضاً)
اگر بیوہ یا طلاق بتہ والی عورت حاملہ ہو ، تو نان و نفقہ کی حق دار ہے۔