مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

نابالغ بچیوں کے پردے اور نماز کا شرعی حکم

فونٹ سائز:
یہ تحریر علمائے حرمین کے فتووں پر مشتمل کتاب 500 سوال و جواب برائے خواتین سے ماخوذ ہے جس کا ترجمہ حافظ عبداللہ سلیم نے کیا ہے۔

سوال :

نابالغ بچیوں کے متعلق پردے کا کیا حکم ہے ؟ کیا وہ بے پردہ گھر سے باہر نکل سکتی ہیں ؟ اور کیا وہ اوڑھنی کے بغیر نماز پڑھ سکتی ہیں ؟

جواب :

نابالغ بچیوں کے ورثاء پر انہیں اسلامی آداب سکھانا واجب ہے۔ وہ انہیں اخلاق فاضلہ کی تربیت دینے کی غرض سے اور فتنہ کے خوف کے پیش نظر بے پردہ گھر سے باہر جانے کی اجازت نہ دیں۔ تاکہ وہ فتنہ و فساد برپا کرنے کا سبب نہ بن سکیں۔ اسی طرح ورثاء انہیں اوڑھنی میں نماز پڑھنے کا حکم دیں ہاں اگر نابالغ بچی اوڑھنی کے بغیر نماز پڑھے تو ایسا کرنا درست ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :
لا يقبل الله صلاة حائض إلا بخمار [ أبوداؤد 641 و ابن ماجه 655]
” اللہ تعالیٰ بالغ عورت کی نماز اوڑھنی کے بغیر قبول نہیں کرتا۔“
(دارالافتاءکمیٹی)

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔