مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

نئے اور پرانے نوٹوں کے کاروبار میں کمیشن کا شرعی حکم

فونٹ سائز:

سوال:

اگر کوئی شخص نئے اور پرانے نوٹوں کا کاروبار کرتا ہے اور قیمت میں کمی بیشی کے بجائے کمیشن لینے کا طریقہ اپناتا ہے، تو کیا یہ طریقہ شرعاً جائز ہوگا؟

جواب از فضیلۃ الشیخ عبد الوکیل ناصر حفظہ اللہ ، فضیلۃ العالم فہد انصاری حفظہ اللہ

عام طور پر لوگ یہ دلیل دیتے ہیں کہ اس کام میں محنت شامل ہوتی ہے، جیسے نوٹوں کا حصول، ان کی ترسیل اور لین دین، لیکن یہ تمام تاویلیں ناقابلِ قبول ہیں۔ کیونکہ یہ ایک ہی کرنسی ہے، اس لیے اس میں قیمت کم یا زیادہ کرنا جائز نہیں۔

اضافی وضاحت:

اگر کوئی شخص یہ کہے کہ وہ قیمت میں کمی بیشی نہیں کرتا بلکہ کمیشن لیتا ہے، تو یہ بھی محض ایک حیلہ ہے اور اس کی حقیقت سود اور ناجائز منافع سے مختلف نہیں۔

واللہ اعلم

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔