مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

میت کی طرف سے قربانی کا شرعی حکم اور تفصیلی وضاحت

فونٹ سائز:
ماخوذ : فتاویٰ علمیہ (توضیح الاحکام) جلد 2، صفحہ 182

میت کی طرف سے قربانی کرنا شرعاً کیسا ہے؟

جواب:

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

میت کی طرف سے قربانی کرنے کے جواز پر جو روایت پیش کی جاتی ہے، وہ روایت ابو الحسناء نامی راوی کی جہالت کی بنا پر ضعیف ہے۔ جیسا کہ راقم الحروف کی تحقیق ماہنامہ شہادت میں شائع ہوچکی ہے۔

عمومی دلائل کی روشنی میں حکم:

صدقہ کے جواز پر موجود عمومی دلائل کی روشنی میں میت کی طرف سے قربانی کرنا جائز ہے، کیونکہ ایسی قربانی کا شمار صدقہ میں ہوگا۔

  • ❀ اس لیے اس قربانی کا سارا گوشت غریبوں میں تقسیم کر دینا چاہیے۔
  • ❀ خود کھانا یا کسی مالدار کو دینا درست نہیں ہوگا، کیونکہ یہ قربانی صدقہ کے زمرے میں آتی ہے۔

شیخ الاسلام عبد اللہ بن مبارک رحمہ اللہ کا قول:

شیخ الاسلام عبد اللہ بن مبارک رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

احب الی ان یتصدق عنه ولا یضحی عنه، وان ضحی فلا یاکل منها شیئا و یتصدق بها کلها

میرے نزدیک پسندیدہ بات یہ ہے کہ میت کی طرف سے (مطلقاً) صدقہ کیا جائے اور قربانی نہ کی جائے، اور اگر کوئی قربانی کر دے تو اس میں سے کچھ بھی نہ کھائے بلکہ سارے گوشت کو صدقہ کر دے۔

(سنن الترمذی، ابواب الاضاحی، باب ما جاء فی الاضحیۃ عن المیت، حدیث: 1495)

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔