میت کی طرف سے روزوں کی قضا کا حکم
عبید اللہ طاہر حفظ اللہ

میت کی جانب سے روزوں کی قضا
❀ «عن عائشة رضي الله عنها، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: من مات وعليه صيام صام عنه وليه. »
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو اس حالت میں مر جائے کہ اس پر روزے باقی تھے، تو اس کا ولی اس کی طرف سے روزے رکھے گا۔“ [صحيح بخاري 1952، صحيح مسلم 1147]

«عن ابن عباس رضي الله عنهما عنها، قال: جاء رجل إلى النبى صلى الله عليه وسلم، فقال: يا رسول الله صلى الله عليه وسلم، إن أمي ماتت وعليها صوم شهر، أفأقضيه عنها؟ قال: لو كان على أمك دي، أنت قاضيه عنها؟ قال: نعم، قال: فدين الله أحق أن يقضي.» [صحيح بخاري 1953، صحيح مسلم 1148: 155]
الفاظ صحیح مسلم کے ہیں۔
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا کہ میری ماں کی وفات ہو گئی ہے، اور ان کے ذمے ایک مہینے کا روزہ باقی ہے، کیا میں ان کی طرف سے قضا کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ اگر تمہاری ماں پر کسی کا قرض ہوتا تو تم ادا کرتے؟ اس نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کا قرض زیادہ حق دار ہے کہ اسے ادا کیا جائے۔“
نوٹ: اہل علم کے در میان اس مسئلے میں اختلاف ہے : زیادہ تر علماء کے نزدیک اس کی طرف سے اس کا ولی روزہ نہیں رکھے گا، اور اس کے رکھنے کی وجہ سے میت کی ذمہ داری ختم نہیں ہو گی، بلکہ وہ اس کی طرف سے ہر دن کے بدلے ایک مد کھانے کی چیز کسی مسکین کو دے گا۔ جبکہ بعض علماء کے نزدیک اس کا ولی اس کی طرف سے روزہ رکھ سکتا ہے، اور ایسا کرنے سے میت بری الذمہ ہو جائے گی، اور اس کی طرف سے فدیہ دینے کی ضرورت نہ ہو گی۔
ولی سے مراد قریبی رشتے دار ہے، جیسے اس کا باپ، بیٹا، بھائی، چچا وغیرہ ہو یا دوسرا کوئی رشتے دار۔

یہ پوسٹ اپنے دوست احباب کیساتھ شئیر کریں

فیس بک
وٹس اپ
ٹویٹر ایکس
ای میل

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

1