میت کی طرف سے حج کرنے کا شرعی جواز

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ مبشر احمد ربانی کی کتاب احکام و مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

میت کی طرف سے حج کرنا
سوال : کیا میت کی طرف سے حج کیا جا سکتا ہے؟
جواب : سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک شخص نے پوچھا: ”میری والدہ نے حج کرنے کی نذر مانی تھی لیکن وہ حج کرنے سے پہلے ہی فوت ہو گئی تو کیا اس کی طرف سے حج ہے ؟“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
”اگر اس کے ذمے قرض ہوتا تو تم اسے ادا کرتے ؟“ اس نے کہا: ”ہاں !“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اللہ تعالیٰ کا قرض زیادہ حق رکھتا ہے کہ اسے ادا کیا جائے۔“ [بخاري، كتاب الجزاء الصيد : باب الحج والنذور عن الميت والرجل يحج عن المرأة 1852]
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ میت کی طرف سے حج کیا جا سکتا ہے۔