سوال:
میت مرد ہو، تو سر کی جانب اور عورت میت کے درمیان کی طرف کھڑا ہونے میں کیا حکمت ہے؟
جواب:
يقوم عند رأس الرجل وعجيزة المرأة
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (جنازہ میں) مرد میت کے سر کے برابر اور عورت میت کے درمیان میں کھڑے ہوتے تھے۔
(سنن أبي داود: 3194، وسنده صحيح)
❀ سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
صليت وراء النبى صلى الله عليه وسلم على امرأة ماتت فى نفاسها، فقام عليها وسطها
میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں ایک عورت کی نماز جنازہ پڑھی، جو حالت نفاس میں فوت ہوئی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم (جنازہ میں) اس کے وسط میں کھڑے ہوئے۔
(صحيح البخاري: 1332، صحیح مسلم: 964)
کوئی شک نہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر عمل مبنی بر حکمت ہے، مگر یہ ضروری نہیں کہ شریعت کے ہر حکم کی حکمت معلوم ہو۔ اطاعت اور بجا آوری کے لیے حکمت کا معلوم ہونا ضروری نہیں، مسلمان غیب پر ایمان رکھتا ہے۔
مرد اور عورت کی میت کے سامنے کھڑا ہونے کا جو فرق شریعت نے بیان کیا ہے، اس کی اگرچہ اہل علم نے کئی حکمتیں ذکر کی ہیں، مگر اس کا صحیح اور محکم علم اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔
﴿وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ﴾
(النور: 59)
اللہ خوب علم والا اور حکمت والا ہے۔