مہر کے تیسرے حصے کی وصیت کا حکم

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

عورت نے وفات سے کچھ دیر پہلے وصیت کی کہ اس کے شوہر سے جو مہر ملے، اس کا تیسرا حصہ خیرات کر دیا جائے ، تو کیا حکم ہے؟

جواب :

شرعی طور پر یہ وصیت جائز ہے۔ کیونکہ وصیت کے جائز ہونے کے لیے دو شرائط ہیں ؛ ثلث سے زائد نہ ہو اور کسی وارث کے لیے نہ ہو۔
❀ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
”ایک دفعہ میں مکہ میں اتنا بیمار ہوا کہ قریب الموت ہو گیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لیے آئے ، تو میں نے عرض کی : اللہ کے رسول ! میرے پاس بہت زیادہ مال ہے اور صرف ایک بیٹی ہی میری وارث ہے، کیا میں دو تہائی مال صدقہ کرنے کی وصیت کر دوں؟ فرمایا : نہیں ! میں نے پوچھا : آدھا مال صدقہ کر دوں؟ فرمایا : نہیں ! میں نے پوچھا: ایک تہائی صدقہ کر دوں؟ فرمایا: ایک تہائی (ہو سکتا ہے) لیکن یہ بھی بہت زیادہ ہے۔ اگر آپ اپنے ورثا کو خوشحال چھوڑ کر جائیں، تو انہیں تنگ دست چھوڑنے سے بہتر ہے۔“
(صحيح البخاري : 6373 ، صحیح مسلم : 1628)
❀سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
”ایک آدمی نے فوت ہوتے وقت اپنے چھ غلام آزاد کر دیے، جب کہ اس کے پاس ان کے علاوہ کوئی مال ہی نہیں تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلا کر تین حصوں میں تقسیم کیا ، پھر ان کے مابین قرعہ ڈال کر دو کو آزاد کر دیا اور چار کو غلام بنا دیا اور اس آدمی کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سخت الفاظ استعمال کیے ۔“
(صحیح مسلم : 1668)
❀سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن الله قد أعطى كل ذي حق حقه فلا وصية لوارث
”اللہ تعالیٰ نے ہر حقدار کو اس کا حق دے دیا ہے، لہذا اب کسی وارث کے لیے کوئی وصیت نہیں ۔“
(سنن أبي داود : 2870 ، وسنده حسن)
اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ (2120) نے حسن کہا ہے اور امام ابن الجارود رحمہ اللہ (949) نے صحیح قرار دیا ہے۔