مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

مکہ کی حرمت کا آغاز: قرآن و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

مکہ کو حرم کس نے بنایا؟ ایک حدیث میں ہے کہ اسے حرم سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے بنایا۔
إن إبراهيم حرم مكة
بلاشبہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرمت والا قرار دیا۔
(صحيح البخاري: 2129، صحیح مسلم: 1360)
جبکہ دوسری حدیث میں ہے کہ اسے حرم اللہ تعالیٰ نے اسی وقت بنا دیا تھا، جب زمین و آسمان کی تخلیق ہوئی تھی؟
إن هذا البلد حرمه الله يوم خلق السماوات والأرض
اس شہر (مکہ) کو اللہ تعالیٰ نے اسی دن سے حرمت والا قرار دیا ہے، جس دن آسمانوں اور زمین کو تخلیق کیا۔
(صحيح البخاري: 3189، صحیح مسلم: 1353)

جواب:

جس دن زمین و آسمان کی تخلیق ہوئی، اسی دن اللہ تعالیٰ نے مکہ کو حرم بنانے کا فیصلہ کیا تھا۔ پھر سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی زبانی اسے حرم قرار دے دیا۔
❀ حافظ ابن الجوزی رحمہ اللہ (597ھ) فرماتے ہیں:
إن الله تعالى قضى بتحريمه وأجرى الحكم بذلك على لسان إبراهيم عليه السلام
بلا شبہ اللہ تعالیٰ نے مکہ کو حرم بنانے کا فیصلہ کیا اور اس کا حکم (بذریعہ دعا) سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی زبان پر جاری کیا۔
(كشف المشكل: 2/192)

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔