مضمون کے اہم نکات
مکہ مکرمہ اور بیت اللہ کا تعارف
مکہ مکرمہ ایک قدیم تاریخی اور بڑا بابرکت شہر ہے۔ اس سے محبت رکھنا اور اس کا احترام کرنا ہر مسلمان کا دینی فریضہ ہے۔ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اسے حرم [محترم] قرار دیا۔
مکہ مکرمہ کی فضیلت:
مکہ مکرمہ کو کئی لحاظ سے فضیلت حاصل ہے:
① قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے مکہ مکرمہ کو امن والا شہر قرار دیاہے۔ [التین:3]
② نبی اکرمﷺ کو مکہ مکرمہ بہت زیادہ محبوب تھا۔ [جامع الترمذي، المناقب، حديث:3925]
③ دجال مکہ اور مدینہ میں داخل نہیں ہو سکے گا۔ [صحیح مسلم، الفتن، حدیث:2943]
[مکہ کی فضیلت کے سلسلے میں تفصیلی مطالعے کے لیےدیکھیے:تاریخ مکہ دار السلام، الریاض، لاہور]
حرم مکہ کی حدود:
شمال میں مقام تنعیم (مسجد عائشہ رضی اللہ عنہما) تک حرم ہے۔
مشرق میں جعرانہ کے قریب تک حرم مکی ہے۔
شمال مشرق میں وادی نخلة تک ہے۔
مغرب میں حديبية (شمسی) تک ہے۔
اب سعودی حکومت نے حدود حرم کی ابتدا اور انتہا پر ستون بنا دیے ہیں، جن پر بدایة الحرم اور نہایة الحرم لکھا ہوا ہے۔
مسئلہ:
حرم کی حدود میں کسی قسم کا شکار کرنا یا شکار کو ڈرانا اور سوائے اذخر گھاس کے خود رو گھاس، درختوں، کانٹوں اور پتوں کو کاٹنا یا تو ڑنامنع ہے۔ [صحيح البخاري، جزاء الصيد، حديث: 1834,1833]
یاد رکھیے!
حرم مکہ میں جس طرح کسی نیک کام کا اجر و ثواب کئی گنا زیادہ ہے، اسی طرح اس میں کسی برے کام کا گناہ بھی کئی گنا زیادہ ہے۔ بلکہ اس میں گناہ کے ارادے پر عذاب کی وعید ہے:
[وَ مَنۡ یُّرِدۡ فِیۡہِ بِاِلۡحَادٍۭ بِظُلۡمٍ نُّذِقۡہُ مِنۡ عَذَابٍ اَلِیۡمٍ]
اور جو بھی ظلم کے ساتھ وہاں الحاد کا ارادہ کرے ہم اسے دردناک عذاب چکھا ئیں گے ۔ [الحج:25]
جبکہ صرف ارادے پر یہ وعید دوسرے جگہوں میں نہیں ہے۔
لہذا حجاج کرام اور عمرہ کرنے والوں اور مکہ کے رہائش پذیر لوگوں کو چاہیے، کہ اس بابرکت شہر میں نیکی کے کاموں کی طرف رغبت کریں، اور ہر قسم کے برے کاموں سے بچیں ۔ اس شہر اور اس مقام کو عام شہروں اور مقامات کی طرح نہ سمجھیں۔
بیت اللہ کا مختصر تعارف:
ہر دور کے انسان کا طریقہ رہا ہے کہ وہ روحانی تسکین حاصل کرنے کے لیے کسی جگہ اور مقام کو مقدس سمجھ کر وہاں محض برکت، زیارت اور ثواب کی نیت سے جاتا ہے۔ اس مقصد کے پیش نظر اسلام نے مسلمانوں کے روحانی سکون اور حصول ثواب کے لیے صرف تین مقدس مقامات کی طرف سفر زیارت کی اجازت دی ہے:
① مسجد حرام
② مسجدنبوی
③ مسجد اقصى
[صحيح البخاري، فضل الصلاة في مسجد مکۃ والمدینۃ، حدیث:1189]
مسجد حرام:
بیت اللہ شریف اور اس کے چاروں اطراف میں پھیلی ہوئی عمارت مسجد حرام کہلاتی ہے۔ اس میں ادا کی گئی ایک نماز کا ثواب ایک لاکھ نماز سے افضل ہے۔ [مسند أحمد:397/3]
مسجد نبوی:
اسلام میں مسجد قبا کے بعد یہ دوسری مسجد ہے،جسے ہجرت کے بعد نبی اکرمﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے مدینہ منورہ میں اپنے مبارک ہاتھوں سے تعمیر فرمایا۔ [صحيح البخاري، مناقب الأنصار، حديث: 3932]
اس مسجد میں ادا کی گئی ایک نماز کا ثواب ایک ہزار نماز سے افضل ہے۔ [صحیح البخاري، فضل الصلاة في مسجد مكة والمدينة،حدیث:1190]
مسجد اقصیٰ:
یہ مسلمانوں کا قبلہ اوّل ہے، اور فلسطین کے شہر بیت المقدس میں واقع ہے۔ نبی اکرمﷺ سفر معراج کے لیے یہیں سے روانہ ہوئے، اور یہیں جملہ انبیاء و رسل علیہم السلام کی امامت فرمائی۔ اس مسجد میں ادا کی گئی ایک نماز کا ثواب 250 نمازوں کے برابر ہے۔ [المستدرك للحاكم:509/4]
اسے خانہ کعبہ کی تعمیر ابراہیمی کے 40 سال بعد تعمیر کیا گیا۔ [صحیح البخاري مع فتح الباري، أحاديث الأنبياء:495/6، حديث:3366]
بیت اللہ:
اس کی تاریخ اور فضیلت کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہی کافی ہے:
[اِنَّ اَوَّلَ بَیۡتٍ وُّضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِیۡ بِبَکَّۃَ مُبٰرَکًا وَّ ہُدًی لِّلۡعٰلَمِیۡنَ]
بے شک اولیں گھر جو لوگوں کے لیے بنایا گیا، وہ ہے جو مکہ میں ہے، بابرکت اور جہان والوں کے لیے باعث ہدایت
ہے۔ [آل عمران:96]
اللہ کا سب سے پہلا گھر، مسلمانوں کا قبلہ و کعبہ، فیوض و برکات اور روحانی تجلیات کا ایسا مرکز جو پوری زمین کے عین وسط میں واقع ہے۔اسے سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کے حکم سے فرشتوں نے تعمیر کیا، یہ طوفان نوح سے مٹ گیا تھا۔ پھر سیدنا ابراہیم اور اسماعیل علیہما السلام نے اپنے ہاتھوں سے دوبارہ تعمیر فرمایا۔
حطیم:
اسلام سے پہلے زمانہ جاہلیت میں بیت اللہ ایک دفعہ سیلاب سے متاثر ہوا، تو کفار مکہ نے صرف حلال کمائی سے سابقہ بنیادوں پر اس کی از سر نو تعمیر شروع کر دی، مگر تکمیل سے پہلے ہی یہ رقم ختم ہونے کی وجہ سے اس کا کچھ حصہ نامکمل چھوڑ دیا گیا، وہ موجودہ عمارت کے ایک طرف نیم دائرے کی شکل میں اب بھی موجود ہے، اسے حطیم یا حجر کہتے ہیں۔
[صحيح البخاري، الحج، حديث: 1584,1583، و مناقب الانصار، حدیث:3887]
اس حصے میں نماز ادا کرنے کا وہی حکم ہے جو کہ بیت اللہ کے اندر نماز حکم ادا کرنے کا ہے۔
[سنن أبي داود، المناسك، حديث: 2028]
بیت المعمور:
اس موقع پر یہ بتانا بھی دلچسپی سے خالی نہیں ہو گا کہ بیت اللہ کے عین اوپر ساتویں آسمان پر بیت المعمور ہے، جو فرشتوں کی عبادت گاہ ہے، وہاں ہر روز ستر ہزار فرشتے طواف کرتے ہیں۔ جس فرشتے نے ایک دفعہ اس کا طواف کر لیا قیامت تک اس کی دوبارہ باری نہیں آئے گی۔ [صحیح البخاري، بدء الخلق، حديث: 3207]،[تفسير ابن كثير:306،305/4]،[تفسير الطبري:27/22]
ملتزم:
بیت اللہ کے دروازے اور حجر اسود کے درمیان والے حصے کو ملتزم کہتے ہیں۔ اس پر اپنا چہرہ رکھنا اور سینے کو ساتھ ملانا اور نہایت عجز و انکسار کے ساتھ دعا کرنا مشروع اور مسنون عمل ہے۔ یہ عمل بعض صحابہ کرام، مثلاً: عبد اللہ بن عباس، عبداللہ بن عمر ، عبد اللہ بن عمر و اور زبیر بن عوام رضی اللہ عنہم سے بھی ثابت ہے۔ [الصحيحة للألباني، حديث: 2138]
مقام ابراہیم:
یہ ایک پتھر ہے جس پر کھڑے ہو کر سیدنا ابراہیم علیہ السلام بیت اللہ کی دیواریں اُٹھاتے رہے۔ معجزانہ طور پر آج تک اس پتھر پرسیدنا ابراہیم علیہ السلام کے پاؤں کے نشانات موجود ہیں۔ یہ پتھر بیت اللہ کے دروازے کی جانب قریب ہی ایک گنبد نما کے اندر شیشے میں محفوظ ہے۔ اس کے متعلق اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
[وَ اتَّخِذُوۡا مِنۡ مَّقَامِ اِبۡرٰہٖمَ مُصَلًّی]
اور مقام ابراہیم کو جائے نماز بناؤ۔ [البقرة:125]
یاد رکھیے! اس پتھر کے باہر لگے خول یا جالی کو برکت کی نیت سے بوسہ دینا یا اسے چھونا ثابت نہیں ہے۔
مطاف:
بیت اللہ کے ارد گرد طواف کرنے کی جگہ مطاف کہلاتی ہے۔
بئر زمزم:
با برکت کنواں جسے اللہ رب العالمین نے سیدہ ہاجر اور سیدنا اسمعیل علیہما السلام کے لیے جاری فرمایا تھا۔ ہزاروں برس گزر گئے، اس کا بابرکت پانی ابھی تک جاری ہے۔ اب یہ کنواں مطاف کے نیچے تہ خانہ میں ہے۔
صفا و مروہ:
یہ بیت اللہ کے قریب واقع دو پہاڑیوں کے نام ہیں، جنھیں قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کی تعظیم کا نشان قرار دیا گیا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ کے حکم سے سیدنا ابراہیم، سیدہ ہاجر اور شیر خوار اسمعیل علیہم السلام کو اس ویران پہاڑی علاقے میں چھوڑ کر واپس شام چلے گئے، تو جلد ہی ان کے پاس کھانے پینے کا سامان ختم ہو گیا، تب پانی کی تلاش میں سیدہ ہاجر نے ان پہاڑیوں کے درمیان بھاگ دوڑ کی۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے زمزم کا چشمہ جاری فرما دیا۔ سیدہ ہاجر علیہا السلام کے اس عمل کو اللہ تعالیٰ نے حج و عمرے کا حصہ بنا دیا۔ حجاج کرام اسی سنت کو اپناتے ہوئے حج و عمرے کے دوران میں صفا ومروہ کے درمیان سات چکر لگاتے ہیں، جسے اصطلاحاً ،،سعی،، کہتے ہیں۔
آج کل اس کی توسیع کر کے ایک تو اس کی چوڑائی کو دگنا کر دیا گیا ہے اور مزید دو منزلوں کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔ ایک تہہ خانہ [بیسمنٹ] اور تیسری بالائی منزل۔ یوں اب یہ چار منزلہ عمارت بن گئی ہے اور مسجد حرام سے ملحق ہونے کی وجہ سے عملی طور پر مسجد حرام کا حصہ بن گئی ہے۔
