مضمون کے اہم نکات
اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت و قدرت سے مختلف مخلوقات پیدا فرمائیں، جن میں سب سے پاکیزہ اور نورانی مخلوق فرشتے (ملائکہ) ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار بندے ہیں جو کسی معاملے میں اس کی نافرمانی نہیں کرتے، بلکہ اس کے ہر حکم پر فوراً عمل کرتے ہیں۔ وہ دن رات عبادت میں مصروف رہتے ہیں، اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں، سستی یا تھکاوٹ ان کے قریب بھی نہیں آتی۔
قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿ وَقَالُوْا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًا سُبْحَانَہُ بَلْ عِبَادٌ مُّکْرَمُوْنَ ٭ لَا یَسْبِقُوْنَہُ بِالْقَوْلِ وَہُمْ بِأَمْرِہٖ یَعْمَلُوْنَ ﴾
[الأنبیاء: 26،27]
ترجمہ: ’’(مشرک لوگ) کہتے ہیں کہ رحمن نے اولاد اختیار کی ہے! اس کی ذات پاک ہے، بلکہ وہ سب (فرشتے) اس کے معزز بندے ہیں، وہ کسی بات میں اس پر سبقت نہیں کرتے اور اسی کے حکم پر عمل کرتے ہیں۔‘‘
اسی طرح فرمایا:
﴿ لَا یَعْصُوْنَ اللّٰہَ مَا أَمَرَہُمْ وَیَفْعَلُوْنَ مَا یُؤمَرُوْنَ ﴾
[التحریم: 6]
ترجمہ: ’’وہ اللہ کے حکم کی نافرمانی نہیں کرتے اور وہی کرتے ہیں جو انہیں حکم دیا جاتا ہے۔‘‘
اور فرمایا:
﴿ یُسَبِّحُوْنَ اللَّیْلَ وَالنَّہَارَ لَا یَفْتُرُوْنَ ﴾
[الأنبیاء: 20]
ترجمہ: ’’وہ رات دن اللہ کی تسبیح کرتے ہیں، سستی نہیں کرتے۔‘‘
فرشتوں کی مومنین سے محبت
فرشتے صرف عبادت ہی نہیں کرتے بلکہ اہلِ ایمان سے محبت بھی رکھتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
(( إِذَا أَحَبَّ اللّٰہُ عَبْدًا نَادَی جِبْرِیْلَ… ))
[بخاری: 7485، مسلم: 2637]
ترجمہ: ’’جب اللہ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو جبریل کو کہتا ہے کہ میں فلاں بندے سے محبت کرتا ہوں، تم بھی اس سے محبت کرو۔ جبریل بھی محبت کرتے ہیں اور آسمان کے فرشتوں میں اعلان کرتے ہیں کہ اللہ نے فلاں سے محبت کی ہے، تم بھی کرو، تو سب فرشتے اس سے محبت کرتے ہیں، پھر زمین میں اس کے لیے قبولیت رکھ دی جاتی ہے۔‘‘
فرشتے مومنین کے لیے دعا کرتے ہیں
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿ ھُوَ الَّذِیْ یُصَلِّیْ عَلَیْکُمْ وَمَلَائِکَتُہٗ لِیُخْرِجَکُمْ مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَی النُّوْرِ ﴾
[الأحزاب: 43]
ترجمہ: ’’وہی ہے جو تم پر رحمت بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے بھی تمہارے لیے دعا کرتے ہیں تاکہ تمہیں اندھیروں سے روشنی کی طرف نکالے۔‘‘
فرشتے کن کے لیے دعائے مغفرت کرتے ہیں
➊ توبہ کرنے والوں کے لیے
﴿ اَلَّذِیْنَ یَحْمِلُوْنَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَہُ… فَاغْفِرْ لِلَّذِیْنَ تَابُوْا ﴾
[غافر: 7]
ترجمہ: ’’جو فرشتے عرش اٹھائے ہوئے ہیں اور اس کے اردگرد ہیں، وہ ایمان والوں کے لیے استغفار کرتے ہیں، کہتے ہیں: اے ہمارے رب! جو توبہ کرچکے اور تیرے راستے پر چل پڑے انہیں بخش دے۔‘‘
➋ لوگوں کو خیر سکھانے والوں کے لیے
(( إِنَّ اللّٰہَ وَمَلَائِکَتَہٗ… لَیُصَلُّونَ عَلٰی مُعَلِّمِ النَّاسِ الْخَیْرَ ))
[ترمذی: 2685]
ترجمہ: ’’اللہ، اس کے فرشتے، آسمان و زمین والے، چیونٹی اور مچھلی بھی اس شخص کے لیے دعا کرتے ہیں جو لوگوں کو خیر سکھاتا ہے۔‘‘
➌ جائے نماز پر بیٹھے رہنے والے
(( وَالْمَلَائِکَۃُ یُصَلُّوْنَ عَلَیْہِ… اَللّٰہُمَّ اغْفِرْ لَہُ ))
[بخاری: 2119، مسلم: 649]
ترجمہ: ’’جب تک بندہ اپنی نماز کی جگہ بیٹھا رہتا ہے، فرشتے دعا کرتے رہتے ہیں: اے اللہ! اس پر رحم کر، اس کی مغفرت فرما، اس کی توبہ قبول فرما۔‘‘
➍ پہلی صف میں نماز پڑھنے والے
(( إِنَّ اللّٰہَ وَمَلَائِکَتَہٗ یُصَلُّوْنَ عَلَی الصُّفُوفِ الْأُوَلِ ))
[ابو داود: 664]
ترجمہ: ’’اللہ اور اس کے فرشتے پہلی صف والوں پر رحمت بھیجتے ہیں۔‘‘
➎ صفوں کو ملانے والے
(( إِنَّ اللّٰہَ وَمَلَائِکَتَہٗ یُصَلُّوْنَ عَلَی الَّذِیْنَ یَصِلُوْنَ الصُّفُوفَ ))
[ابن ماجہ: 995]
ترجمہ: ’’اللہ اور فرشتے ان لوگوں پر رحمت بھیجتے ہیں جو صفوں کو ملاتے ہیں۔‘‘
➏ سحری کرنے والے
(( اَلسَّحُوْرُ کُلُّہُ بَرَکَۃٌ… فَإِنَّ اللّٰہَ وَمَلَائِکَتَہٗ یُصَلُّوْنَ عَلَی الْمُتَسَحِّرِیْنَ ))
[مسند احمد، صحیح الترغیب: 1070]
ترجمہ: ’’سحری سراسر برکت ہے، اسے نہ چھوڑو، اگرچہ ایک گھونٹ پانی ہی کیوں نہ ہو، کیونکہ اللہ اور فرشتے سحری کرنے والوں پر رحمت بھیجتے ہیں۔‘‘
➐ مریض کی عیادت کرنے والے
(( مَا مِنْ مُسْلِمٍ یَعُوْدُ مُسْلِمًا… إِلَّا صَلّٰی عَلَیْہِ سَبْعُوْنَ أَلْفَ مَلَکٍ ))
[ترمذی: 969]
ترجمہ: ’’جو مسلمان صبح کے وقت مریض کی عیادت کرے تو شام تک ستر ہزار فرشتے اس کے لیے دعا کرتے ہیں۔‘‘
➑ نبی ﷺ پر درود بھیجنے والے
(( مَا مِنْ مُسْلِمٍ یُصَلِّیْ عَلَیَّ إِلَّا صَلَّتْ عَلَیْہِ الْمَلَائِکَۃُ… ))
[ابن ماجہ: 907]
ترجمہ: ’’جب کوئی مسلمان مجھ پر درود بھیجتا ہے تو فرشتے اس کے لیے دعا کرتے ہیں، جب تک وہ درود بھیجتا رہے۔‘‘
➒ مومن کی غائبانہ دعا
(( دَعْوَۃُ الْمَرْءِ الْمُسْلِمِ… قَالَ الْمَلَکُ: آمِیْنَ وَلَکَ بِمِثْلٍ ))
[مسلم: 2733]
ترجمہ: ’’جب مسلمان اپنے بھائی کے لیے غائبانہ دعا کرتا ہے تو فرشتہ کہتا ہے: آمین، اور تمہیں بھی یہی نصیب ہو۔‘‘
فرشتے کن پر نازل ہوتے اور کن کے ساتھ شریک ہوتے ہیں
اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو نہ صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا بلکہ ان کی ایک بڑی ذمہ داری اہلِ ایمان کے ساتھ ہے — وہ ان پر نازل ہوتے ہیں، ان کی مدد کرتے ہیں، ان کے لیے دعا کرتے ہیں اور نیکی کے مختلف مواقع پر ان کے ساتھ شریک ہوتے ہیں۔
➊ استقامت اختیار کرنے والوں پر
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿ إِنَّ الَّذِیْنَ قَالُوا رَبُّنَا اللّٰہُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَیْْہِمُ الْمَلَائِکَۃُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّۃِ الَّتِیْ کُنتُمْ تُوعَدُونَ ٭ نَحْنُ أَوْلِیَاؤُكُمْ فِی الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَفِی الْآخِرَۃِ ﴾
[فصلت: 30-31]
ترجمہ: ’’یقیناً وہ لوگ جنہوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے اور پھر اس پر قائم رہے، ان پر فرشتے نازل ہوتے ہیں کہ نہ ڈرو، نہ غم کرو، اور خوش ہوجاؤ اس جنت کی بشارت سے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے۔ ہم دنیا اور آخرت دونوں میں تمہارے دوست ہیں۔‘‘
یہ آیات اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ جو لوگ توحید پر جمے رہتے ہیں اور نیک اعمال کرتے ہیں، ان پر دنیا و آخرت میں فرشتے اطمینان و بشارت لے کر نازل ہوتے ہیں۔
➋ نمازِ فجر اور نمازِ عصر کے وقت
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
(( یَتَعَاقَبُوْنَ فِیْكُمْ مَلَائِکَۃٌ بِاللَّیْلِ وَمَلَائِکَۃٌ بِالنَّهَارِ… ))
[بخاری: 555، مسلم: 632]
ترجمہ: ’’تم میں دن اور رات کے فرشتے باری باری آتے ہیں، وہ نمازِ فجر اور نمازِ عصر کے وقت جمع ہوتے ہیں۔ پھر وہ فرشتے جو تمہارے پاس رات گزارتے ہیں اوپر جاتے ہیں، اللہ ان سے پوچھتا ہے: میرے بندوں کو کس حال میں چھوڑ کر آئے ہو؟ وہ کہتے ہیں: ہم نے انہیں نماز پڑھتے ہوئے چھوڑا اور جب آئے تب بھی وہ نماز میں تھے۔‘‘
➌ اہلِ ذکر اور مجالسِ علم پر
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
(( إِنَّ لِلّٰہِ مَلَائِکَۃً یَطُوْفُوْنَ فِی الطُّرُقِ یَلْتَمِسُوْنَ أَہْلَ الذِّکْرِ… ))
[بخاری: 6408، مسلم: 2689]
ترجمہ: ’’اللہ کے ایسے فرشتے ہیں جو زمین پر گھومتے ہیں اور ذکر کرنے والوں کی تلاش کرتے ہیں۔ جب وہ کسی مجلسِ ذکر کو پاتے ہیں تو ایک دوسرے کو پکار کر کہتے ہیں: آؤ، یہی وہ چیز ہے جس کی ہمیں تلاش تھی۔ پھر وہ ان کو اپنے پروں سے ڈھانپ لیتے ہیں، یہاں تک کہ آسمان دنیا تک بھر جاتا ہے۔‘‘
پھر اللہ تعالیٰ فرشتوں سے پوچھتا ہے: ’’میرے بندے کیا کہہ رہے تھے؟‘‘
وہ عرض کرتے ہیں: ’’وہ تیری تسبیح، حمد اور بڑائی بیان کر رہے تھے۔‘‘
اللہ فرماتا ہے: ’’میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے ان سب کو بخش دیا۔‘‘
ایک فرشتہ عرض کرتا ہے: ’’ان میں ایک شخص ایسا بھی تھا جو ان میں سے نہیں تھا، کسی کام سے آیا تھا۔‘‘
اللہ فرماتا ہے: (( وَلَہٗ غَفَرْتُ، ہُمُ الْقَوْمُ لَا یَشْقٰی بِہِمْ جَلِیْسُہُمْ ))
ترجمہ: ’’میں نے اسے بھی بخش دیا، یہ وہ لوگ ہیں جن کے ساتھ بیٹھنے والا بھی محروم نہیں رہتا۔‘‘
➍ فرشتے نمازِ جمعہ کے آنے والوں کے نام لکھتے ہیں
نبی ﷺ نے فرمایا:
(( إِذَا کَانَ یَوْمُ الْجُمُعَۃِ، كَانَ عَلَی كُلِّ بَابٍ مِنْ أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ الْمَلَائِکَۃُ یَکْتُبُوْنَ الْأَوَّلَ فَالْأَوَّلَ… ))
[بخاری: 929، مسلم: 850]
ترجمہ: ’’جب جمعے کا دن آتا ہے تو مسجد کے ہر دروازے پر فرشتے کھڑے ہوجاتے ہیں جو آنے والوں کے نام ترتیب سے لکھتے ہیں۔ جب امام خطبہ دینے بیٹھ جاتا ہے تو وہ اپنے صحیفے لپیٹ کر ذکر سننے کے لیے آجاتے ہیں۔‘‘
➎ فرشتے نماز میں مومنوں کے ساتھ شریک ہوتے ہیں
حضرت رفاعہ بن رافعؓ روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے رکوع سے اٹھتے وقت کہا:
(( رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ، حَمْدًا کَثِیْرًا طَیِّبًا مُبَارَکًا فِیْہِ ))
رسول ﷺ نے فرمایا:
(( لَقَدْ رَأَیْتُ بِضْعَۃً وَثَلَاثِیْنَ مَلَکًا یَبْتَدِرُوْنَہَا، أَیُّہُمْ یَکْتُبُہَا الْأَوَّلُ ))
[بخاری: 799]
ترجمہ: ’’میں نے دیکھا کہ تیس سے زائد فرشتے ان کلمات کو سب سے پہلے لکھنے کے لیے ایک دوسرے سے آگے بڑھ رہے تھے۔‘‘
اسی طرح فرمایا:
(( إِذَا أَمَّنَ الْإِمَامُ فَأَمِّنُوا، فَإِنَّہٗ مَن وَّافَقَ تَأْمِیْنُہٗ تَأْمِیْنَ الْمَلَائِکَۃِ، غُفِرَ لَہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہٖ ))
[بخاری: 780، مسلم: 410]
ترجمہ: ’’جب امام آمین کہے تو تم بھی کہو، کیونکہ جس کی آمین فرشتوں کی آمین کے ساتھ مل جائے اس کے پچھلے گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔‘‘
➏ فرشتے قاریِ قرآن کے قریب آ جاتے ہیں
حضرت اسید بن حضیرؓ کا واقعہ ہے کہ جب وہ رات کو سورۃ البقرہ کی تلاوت کر رہے تھے تو ان کا گھوڑا بدک گیا۔ نبی ﷺ نے فرمایا:
(( تِلْکَ الْمَلَائِکَۃُ دَنَتْ لِصَوْتِکَ… ))
[بخاری: 5018، مسلم: 796]
ترجمہ: ’’یہ فرشتے تھے جو تمہاری آواز کے قریب آگئے تھے، اگر تم تلاوت جاری رکھتے تو لوگ انہیں صبح دیکھ لیتے۔‘‘
➐ قرآن پڑھنے اور سکھانے والوں پر
نبی ﷺ نے فرمایا:
(( وَمَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ فِی بَیْتٍ مِنْ بُیُوتِ اللّٰہِ یَتْلُونَ كِتَابَ اللّٰہِ وَیَتَدَارَسُونَہٗ بَیْنَہُمْ، إِلَّا نَزَلَتْ عَلَیْہِمُ السَّکِیْنَۃُ، وَغَشِیَتْہُمُ الرَّحْمَۃُ، وَحَفَّتْہُمُ الْمَلَائِکَۃُ، وَذَکَرَہُمُ اللّٰہُ فِیْمَنْ عِنْدَہٗ ))
[مسلم: 2699]
ترجمہ: ’’جو لوگ اللہ کے گھروں میں جمع ہوکر قرآن پڑھتے اور اس پر غور کرتے ہیں، ان پر سکینت نازل ہوتی ہے، اللہ کی رحمت انہیں ڈھانپ لیتی ہے، فرشتے ان کو گھیر لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کا ذکر اپنے خاص بندوں میں کرتا ہے۔‘‘
➑ فرشتے نبی ﷺ تک امت کا سلام پہنچاتے ہیں
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
(( إِنَّ لِلّٰہِ مَلَائِکَۃً سَیَّاحِیْنَ فِی الْأَرْضِ یُبَلِّغُوْنِیْ عَنْ أُمَّتِی السَّلَامَ ))
[نسائی: 1282]
ترجمہ: ’’اللہ کے کچھ فرشتے زمین میں گردش کرتے رہتے ہیں اور میری امت کی طرف سے میرا سلام مجھے پہنچاتے ہیں۔‘‘
➒ علمِ دین کے طالب علموں پر
نبی ﷺ نے فرمایا:
(( مَنْ سَلَکَ طَرِیْقًا یَطْلُبُ فِیْہِ عِلْمًا سَلَکَ اللّٰہُ لَہٗ بِہِ طَرِیْقًا إِلَی الْجَنَّۃِ، وَإِنَّ الْمَلَائِکَۃَ لَتَضَعُ أَجْنِحَتَہَا رِضًا لِطَالِبِ الْعِلْمِ ))
[ابو داود: 3641]
ترجمہ: ’’جو شخص علم حاصل کرنے کے لیے راستہ اختیار کرتا ہے، اللہ اس کے لیے جنت کا راستہ آسان کر دیتا ہے، اور فرشتے طالب علم کے لیے اپنے پر بچھاتے ہیں۔‘‘
➓ فرشتے مومنوں کو بشارت دیتے ہیں
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿ فَنَادَتْہُ الْمَلَائِکَۃُ وَھُوَ قَآئِمٌ یُّصَلِّیْ فِی الْمِحْرَابِ أَنَّ اللّٰہَ یُبَشِّرُکَ بِیَحْیٰی ﴾
[آل عمران: 39]
ترجمہ: ’’جب وہ محراب میں کھڑے نماز پڑھ رہے تھے تو فرشتوں نے انہیں پکارا کہ اللہ تمہیں یحییٰ (بیٹے) کی بشارت دیتا ہے۔‘‘
اسی طرح نبی ﷺ نے فرمایا:
(( فَإِنِّیْ رَسُولُ اللّٰہِ إِلَیْکَ بِأَنَّ اللّٰہَ قَدْ أَحَبَّکَ كَمَا أَحْبَبْتَہُ فِیْہِ ))
[مسلم: 2567]
ترجمہ: ’’میں اللہ کا رسول ہوں تمہاری طرف، یہ پیغام لے کر آیا ہوں کہ جس طرح تم نے اپنے بھائی سے اللہ کے لیے محبت کی، اللہ نے بھی تم سے محبت کرلی۔‘‘
فرشتوں کا مومنوں کی مدد اور دیگر مواقع پر نزول
فرشتے صرف عبادت و دعا کرنے والے ہی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے اہلِ ایمان کی مدد، رہنمائی، اور حفاظت کے فرائض بھی انجام دیتے ہیں۔ قرآن و سنت میں اس حقیقت کے بے شمار دلائل موجود ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ فرشتے مومنوں کے ساتھ کئی مواقع پر شریک ہوتے ہیں۔
جنگوں میں مومنوں کی مدد اور انہیں ثابت قدم رکھنا
اللہ تعالیٰ نے جنگِ بدر کے موقع پر صحابۂ کرامؓ کی مدد کے لیے فرشتے نازل فرمائے، جیسا کہ قرآن میں فرمایا گیا:
﴿ اِذْ تَسْتَغِیْثُوْنَ رَبَّکُمْ فَاسْتَجَابَ لَکُمْ اَنِّیْ مُمِدُّکُمْ بِاَلْفٍ مِّنَ الْمَلَائِکَۃِ مُرْدِفِیْنَ ﴾
[الأنفال: 9]
ترجمہ: ’’جب تم اپنے رب سے فریاد کر رہے تھے تو اس نے تمہاری دعا قبول فرمائی کہ میں ایک ہزار فرشتوں کے ذریعہ تمہاری مدد کروں گا جو پے در پے آئیں گے۔‘‘
اسی طرح فرمایا:
﴿ وَلَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰہُ بِبَدْرٍ وَّاَنْتُمْ اَذِلَّۃٌ… ﴾
[آل عمران: 123–124]
ترجمہ: ’’اللہ نے بدر میں تمہاری مدد کی جب کہ تم کمزور تھے۔ پس اللہ سے ڈرو تاکہ تم شکر گزار بنو۔ جب تم سے کہا گیا کہ کیا تمہیں یہ کافی نہیں کہ تمہارا رب تین ہزار فرشتے بھیج کر تمہاری مدد کرے؟ ہاں، اگر تم صبر کرو اور تقویٰ اختیار کرو تو تمہارا رب تمہاری مدد پانچ ہزار مخصوص فرشتوں سے کرے گا۔‘‘
یہ آیات اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ مومن جب حق کے لیے لڑتے ہیں اور اللہ سے مدد طلب کرتے ہیں تو فرشتے ان کی مدد کے لیے نازل ہوتے ہیں اور دشمنوں کے دلوں میں رعب ڈال دیتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿ اِذْ یُوْحِیْ رَبُّکَ اِلَی الْمَلَائِکَۃِ اَنِّیْ مَعَکُمْ فَثَبِّتُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ﴾
[الأنفال: 12]
ترجمہ: ’’جب تمہارے رب نے فرشتوں کو وحی کی کہ میں تمہارے ساتھ ہوں، پس ایمان والوں کو ثابت قدم رکھو۔‘‘
مصیبت میں پھنسے ہوئے مومنوں کی مدد کے لیے فرشتوں کا نزول
فرشتے صرف میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ مصیبت اور اضطرار کے موقع پر بھی اہلِ ایمان کی مدد کرتے ہیں۔
❀ حضرت ہاجرہؓ کی مدد کے لیے جبریل علیہ السلام کا نزول
جب حضرت ہاجرہ علیہا السلام پانی کی تلاش میں صفا و مروہ کے درمیان چکر لگا رہی تھیں اور ان کا بچہ حضرت اسماعیل علیہ السلام پیاس سے تڑپ رہا تھا، تو اللہ تعالیٰ نے جبریل علیہ السلام کو بھیجا۔
صحیح بخاری میں روایت ہے کہ جبریلؑ نے اپنی ایڑی یا پر زمین پر مارا تو وہاں سے زمزم کا چشمہ پھوٹ نکلا۔
نبی ﷺ نے فرمایا:
(( یَرْحَمُ اللّٰہُ أُمَّ إِسْمَاعِیلَ، لَوْ تَرَکَتْ زَمْزَمَ لَکَانَتْ زَمْزَمُ عَیْنًا مَعِینًا ))
[بخاری: 3364]
ترجمہ: ’’اللہ ام اسماعیل پر رحم فرمائے! اگر وہ زمزم کو اپنے حال پر چھوڑ دیتیں تو زمزم ایک بہتا ہوا چشمہ بن جاتا۔‘‘
❀ اضطرار میں اللہ کی مدد کا آنا — ابن کثیر کا واقعہ
حافظ ابن کثیرؒ نے
﴿ أَمَّنْ یُّجِیْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاہُ وَیَکْشِفُ السُّوْئَ ﴾
ترجمہ:"بھلا کون ہے جو بے قرار کی فریاد کو قبول کرتا ہے جب وہ اسے پکارتا ہے، اور تکلیف و پریشانی کو دور کر دیتا ہے؟”
[النمل: 62]
کی تفسیر میں ایک عجیب واقعہ نقل کیا ہے:
ایک فقیر شخص بیان کرتا ہے کہ ایک دن میرا خچر کرایے پر دینے کے دوران ایک شخص سوار ہوا۔ اس نے مجھے ایک غیر معروف راستے پر چلنے کو کہا۔ جب ہم وہاں پہنچے تو وہ مجھے قتل کرنے کے لیے چھری نکالنے لگا۔ میں بھاگا اور اسے اللہ کا واسطہ دیا مگر اس نے نہ سنی۔ میں نے کہا: ’’مجھے دو رکعت نماز پڑھنے دو۔‘‘ اس نے اجازت دے دی۔ میں نے نماز شروع کی مگر خوف کے مارے کچھ پڑھ نہ سکا۔ پھر اچانک میری زبان پر یہ آیت جاری ہوئی:
﴿ أَمَّنْ یُّجِیْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاہُ وَیَکْشِفُ السُّوْئَ ﴾
ترجمہ:"بھلا کون ہے جو بے قرار کی فریاد کو قبول کرتا ہے جب وہ اسے پکارتا ہے، اور تکلیف و پریشانی کو دور کر دیتا ہے؟”
اتنے میں ایک گھوڑسوار نمودار ہوا جس نے نیزہ مار کر میرے دشمن کو قتل کردیا۔ میں نے اس سے پوچھا: ’’تم کون ہو؟‘‘
اس نے جواب دیا: ’’میں وہ ہوں جسے اس نے بھیجا ہے جو مضطر کی دعا قبول کرتا ہے اور تکلیف دور کرتا ہے۔‘‘
یہ واقعہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ فرشتے اللہ کے اذن سے مصیبت میں گرفتار مومنوں کی مدد کے لیے نازل ہوتے ہیں۔
مومن کی موت کے بعد فرشتوں کی شرکت
❀ غسل دینے میں شرکت
حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
(( رَأَیْتُ الْمَلَائِکَۃَ تَغْسِلُ حَمْزَۃَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَحَنْظَلَۃَ بْنَ الرَّاہِبِ ))
[الألبانی: أحکام الجنائز]
ترجمہ: ’’میں نے دیکھا کہ فرشتے حضرت حمزہ اور حضرت حنظلہ کو غسل دے رہے تھے۔‘‘
❀ نمازِ جنازہ میں شرکت
رسول اکرم ﷺ نے سعد بن معاذؓ کے بارے میں فرمایا:
(( ہٰذَا الَّذِیْ تَحَرَّکَ لَہُ الْعَرْشُ، وَفُتِحَتْ لَہُ أَبْوَابُ السَّمَاءِ، وَشَہِدَہُ سَبْعُوْنَ أَلْفًا مِنَ الْمَلَائِکَۃِ ))
[نسائی: 2055]
ترجمہ: ’’یہ وہ (سعد بن معاذؓ) ہیں جن کے لیے عرش حرکت میں آیا، آسمانوں کے دروازے کھول دیے گئے، اور ستر ہزار فرشتے ان کے جنازے میں شریک ہوئے۔‘‘
مومنوں کو فرشتوں کی بشارت
نبی ﷺ نے فرمایا کہ جبریل علیہ السلام میرے پاس آئے اور کہا:
(( هٰذِہِ خَدِیْجَۃُ قَدْ أَتَتْکَ… فَاقْرَأْ عَلَیْہَا السَّلَامَ مِنْ رَبِّہَا وَمِنِّی، وَبَشِّرْہَا بِبَیْتٍ فِی الْجَنَّۃِ مِنْ قَصَبٍ ))
[بخاری: 3820، مسلم: 2432]
ترجمہ: ’’یہ خدیجہؓ ہیں جو آپ کے پاس آرہی ہیں، انہیں ان کے رب کی طرف سے اور میری طرف سے سلام کہیے، اور انہیں جنت میں موتیوں سے بنے ایسے گھر کی بشارت دیجیے جہاں نہ شور ہوگا نہ تھکاوٹ۔‘‘
یہ عظیم مثال بتاتی ہے کہ فرشتے اہلِ ایمان کو سلام، رحمت اور جنت کی خوشخبری دیتے ہیں۔
نتیجہ
فرشتے اللہ تعالیٰ کے ایسے بندے ہیں جو ہر وقت عبادت، دعا، اور خدمت میں مصروف ہیں۔ ایمان والوں کے لیے وہ رحمت، مغفرت اور تسکینِ قلب کا ذریعہ ہیں۔ خوش نصیب ہیں وہ مومن جو ایسے اعمال کرتے ہیں جن کی برکت سے فرشتے ان کے قریب آتے ہیں، ان کے لیے دعا کرتے ہیں اور ان کے ساتھ ہوتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ان لوگوں میں شامل فرمائے جن پر فرشتوں کی دعائیں، ان کی مدد اور ان کی بشارتیں نازل ہوں۔
آمین یا رب العالمین۔