مضمون کے اہم نکات
مومنین سے محبت کی علامات
بہت سے امور ہیں جو مسلمانوں سے محبت کی علامت قرار پاتے ہیں۔ ان میں بعض درج ذیل ہیں۔
(1) سرزمین کفر کو چھوڑ کر مسلمانوں کے علاقوں کی طرف منتقل ہونا
ہجرت کا معنی ہے اپنے دین کی سلامتی اور تحفظ کی خاطر کفار کی سرزمین کو چھوڑ کر مسلمانوں کے علاقوں میں منتقل ہو جانا۔ یہ ہجرت جس میں یہ عظیم الشان مقصد کارفرما ہے تا قیامت باقی ہے اور واجب بھی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر اس شخص سے برائت اور ناراضگی کا اظہار فرمایا ہے جو مشرکیین کے درمیان مقیم ہے۔ لہٰذا ایک مسلمان پر کفار کی سرزمین میں رہنا حرام ہے، إلا یہ کہ وہ ہجرت کی طاقت نہ رکھتا ہو یا پھر اس کے سرزمین کفر میں رہنے کی کوئی دینی مصلحت ہو ۔ مثلاً دعوت الی اللہ، یا تبلیغ دین وغیرہ۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿إِنَّ الَّذِينَ تَوَفَّاهُمُ الْمَلَائِكَةُ ظَالِمِي أَنفُسِهِمْ قَالُوا فِيمَ كُنتُمْ ۖ قَالُوا كُنَّا مُسْتَضْعَفِينَ فِي الْأَرْضِ ۚ قَالُوا أَلَمْ تَكُنْ أَرْضُ اللَّهِ وَاسِعَةً فَتُهَاجِرُوا فِيهَا ۚ فَأُولَٰئِكَ مَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ ۖ وَسَاءَتْ مَصِيرًا . إِلَّا الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ لَا يَسْتَطِيعُونَ حِيلَةً وَلَا يَهْتَدُونَ سَبِيلًا . فَأُولَٰئِكَ عَسَى اللَّهُ أَن يَعْفُوَ عَنْهُمْ ۚ وَكَانَ اللَّهُ عَفُوًّا غَفُورًا .﴾ (النساء:97-99)
۲ترجمہ: (جو لوگ اپنے جانوں پر ظلم کرتے ہیں جب فرشتے ان کی جان قبض کرنے لگتے ہیں تو ان سے پوچھتے ہیں، کہ تم کس حال میں تھے؟ تو وہ کہتے ہیں کہ ہم ملک میں عاجز و ناتواں تھے۔ فرشتے کہتے ہیں کیا اللہ تعالیٰ کا ملک فراخ نہیں تھا، کہ تم اس میں ہجرت کر جاتے؟ تو ایسے لوگوں کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور وہ بری جگہ ہے۔ ہاں جو مرد اور عورتیں اور بچے بے بس ہیں کہ نہ تو کوئی چارہ کر سکتے ہیں اور نہ ہی راستہ جانتے ہیں، قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسوں کو معاف کر دے، اور اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا اور بخشنے والا ہے۔)
(2) مسلمانوں کے ساتھ حسن تعاون
مسلمانوں کی مدد اور ان کی دینی و دنیاوی ضروریات میں جان و مال اور زبان کے ساتھ معاونت بھی محبت کی ایک نشانی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ (التوبة:71)
ترجمہ: (اور مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے دوست ہیں۔)
اور فرمایا:
﴿وَإِنِ اسْتَنصَرُوكُمْ فِي الدِّينِ فَعَلَيْكُمُ النَّصْرُ إِلَّا عَلَىٰ قَوْمٍ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُم مِّيثَاقٌ﴾ (الأنفال:73)
ترجمہ: (اور اگر وہ تم سے دین میں مدد طلب کریں تو تم پر ان کی مدد کرنا واجب ہے الا یہ کہ وہ ایسی قوم کے خلاف مدد طلب کریں جس کا تمہارے ساتھ کوئی معاہدہ ہے۔)
(3) مسلمانوں کی تکلیف پر غمزدہ ہونا اور ان کی خوشی پر خوش ہونا
یہ بھی باہمی محبت اور الفت کی ایک زبردست نشانی ہے۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا:
مثل المسلمين فى توادهم وتراحمهم وتعاطفهم مثل الجسد الواحد إذا اشتكىٰ منه عضو تداعىٰ له سائر الجسد بالسهر والحمىٰ
ترجمہ: (باہمی الفت و محبت اور دوستی و شفقت کے لحاظ سے مسلمانوں کی مثال ایک جسم کی سی ہے کہ جب اس کا کوئی عضو تکلیف میں ہو تو سارا جسم بخار زدہ اور بیدار رہ کر اس تکلیف کا اظہار کرتا ہے۔)
ایک دوسری حدیث میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا:
ایک مومن دوسرے مومن کے لئے ایک عمارت کی مانند ہے، جس کی ایک اینٹ دوسری اینٹ کو مضبوط کرتی ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے اپنے ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں داخل کر کے یہ مثال سمجھائی۔
(4) جذبہ خیرخواہی
مسلمانوں کے ساتھ خیرخواہی، ان کے لئے ہر قسم کی بھلائی چاہنا اور ہر قسم کی دھوکہ دہی اور مکر و فریب سے گریز کرنا بھی ان کے ساتھ محبت کی علامت ہے۔
رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا:
لا يؤمن أحدكم حتىٰ يحب لأخيه ما يحب لنفسه
ترجمہ: (تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک اپنے (مسلمان) بھائی کے لئے وہ چیز پسند نہ کرنے لگے جو اپنے لئے پسند کرتا ہے۔)
نیز فرمایا:
المسلم أخو المسلم لا يحقره ولا يخذله ولا يسلمه بحسب امرئ من الشر أن يحقر أخاه المسلم كل المسلم على المسلم حرام دمه وماله وعرضه
ترجمہ: (ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے، نہ تو وہ اسے حقیر سمجھتا ہے، نہ ذلیل کرتا ہے اور نہ ہی اسے تکلیفوں کا نشانہ بننے کے لئے چھوڑتا ہے۔ آدمی کے برا ہونے کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے۔ ہر مسلمان کا خون، مال اور عزت دوسرے مسلمان پر حرام ہے۔)
ایک اور حدیث میں فرمایا:
لا تباغضوا ولا تدابروا ولا يبع بعضكم علىٰ بيع بعض وكونوا عباد الله إخوانا
ترجمہ: (آپس میں بغض نہ کرو،باہمی دشمنی نہ کرو ، ایک دوسرے کے سودے کو بگاڑنے کی کوشش نہ کرو، اور ایک دوسرے کے سودے پر اپنا سودا قائم کرنے کی کوشش نہ کرو۔ اللہ تعالیٰ کے بندو! آپس میں بھائی بھائی بن جاؤ۔)
(5) عزت واحترام کی فضا
مسلم معاشرہ میں ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان کا احترام اور عزت و توقیر بجا لانا نیز تذلیل و توہین اور عیب جوئی سے گریز کرنا بھی محبت کی واضح دلیل ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِّن قَوْمٍ عَسَىٰ أَن يَكُونُوا خَيْرًا مِّنْهُمْ وَلَا نِسَاءٌ مِّن نِّسَاءٍ عَسَىٰ أَن يَكُنَّ خَيْرًا مِّنْهُنَّ ۖ وَلَا تَلْمِزُوا أَنفُسَكُمْ وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ ۖ بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوقُ بَعْدَ الْإِيمَانِ ۚ وَمَن لَّمْ يَتُبْ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ . يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِّنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ ۖ وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا يَغْتَب بَّعْضُكُم بَعْضًا ۚ أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَن يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوهُ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۚ إِنَّ اللَّهَ تَوَّابٌ رَّحِيمٌ﴾ . (الحجرات:11،12)
ترجمہ: (مومنوں! کوئی قوم کسی قوم سے تمسخر نہ کرے، ممکن ہے کہ وہ لوگ ان سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں عورتوں سے (تمسخر کریں) ممکن ہے کہ وہ ان سے اچھی ہوں اور اپنے (مومن بھائی) کو عیب نہ لگاؤ اور نہ ہی ایک دوسرے کا برا نام رکھو۔ ایمان لانے کے بعد برا نام (رکھنا) گناہ ہے اور جو توبہ نہ کریں وہ ظالم ہیں۔ اے اہل ایمان! بہت گمان کرنے سے احتراز کرو کہ بعض گمان گناہ ہیں اور ایک دوسرے کے حال کا تجسس نہ کیا کرو اور نہ کوئی کسی کی غیبت کرے۔ کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرے گا کہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے؟ اس سے تم ضرور نفرت کرو گے، (تو غیبت نہ کرو) اور اللہ تعالیٰ سے ڈر رکھو، بے شک اللہ تعالیٰ توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔)
(6) ہر حال میں وفاداری
مسلمانوں سے محبت اور دوستی کا ایک تقاضا یہ بھی ہے کہ ہر حال میں ان کے ساتھ رہے خواہ تنگی ہو یا آسانی، سختی ہو یا نرمی، صرف آسانی اور نرمی کی حالت میں ساتھ دینا اور سختی اور تکلیف کی حالت میں ساتھ چھوڑ دینا تو منافقین کا شیوہ ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿الَّذِينَ يَتَرَبَّصُونَ بِكُمْ فَإِن كَانَ لَكُمْ فَتْحٌ مِّنَ اللَّهِ قَالُوا أَلَمْ نَكُن مَّعَكُمْ وَإِن كَانَ لِلْكَافِرِينَ نَصِيبٌ قَالُوا أَلَمْ نَسْتَحْوِذْ عَلَيْكُمْ وَنَمْنَعْكُم مِّنَ الْمُؤْمِنِينَ﴾ (النساء:141)
ترجمہ: (جو تم کو دیکھتے رہتے ہیں، اگر اللہ کی طرف سے تم کو فتح ملے تو کہتے ہیں کہ کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے اور اگر کافروں کو فتح نصیب ہو تو ان سے کہتے ہیں کہ کیا ہم تم پر غالب نہیں تھے، اور تم کو مسلمانوں (کے ہاتھوں) سے بچایا نہیں۔ تو اللہ تم میں قیامت کے دن فیصلہ کرے گا اور اللہ کافروں کو مومنوں پر ہرگز غلبہ نہیں دے گا۔)
(7) زیارتوں اور ملاقاتوں کا تسلسل
مسلمانوں کا ایک دوسرے کی زیارت کرتے رہنا، ملاقات کی چاہت رکھنا، اور مل جل کر بیٹھنے کا شوق رکھنا، باہمی محبت کی دلیل ہے۔
ایک حدیث قدسی میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وجبت محبتي للمتزاورين في.. وفي حديث آخر .. ان رجلا زار اخاله فى الله فا رصد الله على مد رجته ملكا ، فساله اين تريد ؟ قال ازوز اخالي فى الله . قال هل لك عليه من نعمة تربها عليه ؟ لا، غير اني احببته فى الله قال فاني رسول الله اليك بان الله قد احبك كما احببته فيه
ترجمہ: (محض میری رضا کی خاطر ایک دوسرے کی زیارت کرنے والوں کے لئے میری محبت واجب ہے۔)
ایک اور حدیث میں ہے، رسول ﷺ نے فرمایا: (ایک آدمی محض اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر اپنے کسی بھائی کی زیارت کے لئے نکلا، اللہ تعالیٰ نے اس کے راستے میں ایک فرشتے کو بٹھا دیا جو اس کا انتظار کر رہا تھا، (جب وہ شخص وہاں پہنچا) تو اس فرشتے نے سوال کیا، کہاں جانا چاہتے ہو؟ اس شخص نے کہا: اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے اپنے بھائی کو ملنے جا رہا ہوں۔ فرشتے نے کہا: کیا تمہارا کوئی اس پر احسان ہے، جس کا بدلہ وصول کرنے جا رہے ہو؟ اس نے جواب دیا: نہیں، میں صرف اس سے اللہ تعالیٰ کے لئے محبت کرتا ہوں۔ تو اس فرشتے نے کہا: میں تمہاری طرف اللہ کی طرف سے بھیجا ہوا نمائندہ ہوں اور یہ بتانے آیا ہوں کہ جس طرح تم نے اپنے اس بھائی سے اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر محبت کی ہے، اسی طرح اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرنے لگا ہے۔)
(8) باہمی حقوق کا احترام
حقوق کا احترام بھی محبت میں اضافہ کا موجب ہے، چنانچہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کی خرید پر اپنی خرید نہیں لگاتا اور نہ ہی اس کی بولی پر بولی لگاتا ہے۔ نہ اس کی منگنی پر اپنی منگنی کا پیغام بھیجتا ہے۔ الغرض جس مباح کام پر جو سبقت لے جائے، دوسرا اس کے آڑے نہیں آتا۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا:
(خبردار! کوئی شخص اپنے بھائی کے سودے پر اپنا سودا نہ کرے اور نہ اس کے پیغام نکاح پر اپنا پیغام بھجوائے۔)
ایک اور روایت میں ہے (اور نہ اس کی لگائی ہوئی قیمت پر اپنی قیمت لگائے۔)
(9) کمزور کے ساتھ مشفقانہ برتاؤ
یہ مشفقانہ حسن سلوک بھی باہمی محبت کی علامت ہے۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا:
ليس منا من لم يرحم صغيرنا ويوقر كبيرنا
ترجمہ: (جو ہمارے چھوٹوں پر شفقت نہیں کرتا اور بڑوں کا احترام نہیں کرتا وہ ہم میں سے نہیں۔)
ایک اور حدیث میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا:
هل تنصرون وترزقون إلا بضعفائكم
ترجمہ: (تمہیں صرف تمہارے کمزور لوگوں کی بدولت رزق بھی دیا جاتا ہے اور مدد بھی کی جاتی ہے۔)
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُم بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ ۖ وَلَا تَعْدُ عَيْنَاكَ عَنْهُمْ تُرِيدُ زِينَةَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا﴾ (الكهف:28)
ترجمہ: (اور جو لوگ صبح و شام اپنے پروردگار کو پکارتے ہیں اور اس کی خوشنودی کے طالب ہیں، ان کے ساتھ صبر کرتے رہو، اور تمہاری نگاہیں ان میں سے (گزر کر اور طرف )نہ دوڑیں کہ تم آرائش زندگانی دنیا کے خواستگار ہو جاؤ۔)
(10) دعائے خیر
ایک مسلمان کا دوسرے مسلمانوں کے لئے دعا کرنا اور استغفار چاہنا بھی باہمی محبت کی دلیل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿وَاسْتَغْفِرْ لِذَنبِكَ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ﴾ (محمد:19)
ترجمہ: (اپنے گناہوں اور تمام مومن مرد اور عورتوں کے لئے مغفرت طلب کر۔)
اور اللہ تعالیٰ نے ایک مقام پر مومنین کی اسی دعا کا ذکر فرمایا ہے:
﴿رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ﴾ (الحشر:10)
ترجمہ: (اے ہمارے رب! ہمیں بخش دے اور ہمارے ان تمام بھائیوں کو بھی بخش دے جو بحالت ایمان ہم سے پہلے گزر چکے ہیں۔)
تنبیہ: (قرآن حکیم کی ایک آیت سے کچھ لوگوں کو ایک غلط فہمی ہو سکتی ہے، جس کا ازالہ ضروری ہے۔) وہ آیت یہ ہے:
﴿لَّا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُم مِّن دِيَارِكُمْ أَن تَبَرُّوهُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَيْهِمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ﴾ (الممتحنة:8)
ترجمہ: (جن لوگوں نے تم سے دین کے بارے میں جنگ نہیں کی اور نہ تم کو تمہارے گھروں سے نکالا۔ ان کے ساتھ بھلائی اور انصاف کا سلوک کرنے سے اللہ تعالیٰ تم کو منع نہیں کرتا، اللہ تعالیٰ تو انصاف کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔)
اس آیت سے استدلال کرتے ہوئے غلط فہمی کی بناء پر کچھ لوگ یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہاں بعض کفار سے دوستی اور محبت قائم کرنے کا حکم ملتا ہے۔
حالانکہ یہ مفہوم غلط ہے۔ اس آیت کا معنی یہ ہے کہ کفار میں سے جو شخص مسلمانوں کو اذیت پہنچانے سے باز آجائے، نہ تو ان سے جنگ کریں اور نہ ہی انہیں ان کے گھروں سے نکالیں تو مسلمان اس کے مقابلے میں عدل و احسان کے ساتھ دنیوی معاملات میں مکافات عمل اور حسن سلوک کا مظاہرہ کریں، نہ کہ ان سے دلی محبت اور دوستی کا رشتہ استوار کریں۔
تو گویا یہاں حکم نیکی اور احسان کا ہے، نہ کہ دوستی اور محبت کا، اس کی ایک اور مثال:
﴿وَإِن جَاهَدَاكَ عَلَىٰ أَن تُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا ۖ وَصَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا ۖ وَاتَّبِعْ سَبِيلَ مَنْ أَنَابَ إِلَيَّ ۚ ثُمَّ إِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ فَأُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ﴾ (لقمان:15)
ترجمہ: (اور اگر وہ تیرے درپے ہوں کہ تو میرے ساتھ کسی ایسی چیز کو شریک کرے کہ جس کا تجھے کچھ بھی علم نہیں، تو ان کا کہنا نہ ماننا۔ ہاں! دنیا کے (کاموں) میں ان کا اچھی طرح ساتھ دینا اور جو شخص میری طرف رجوع کرے، اس کے رستے پر چلنا۔)
اسماء رضی اللہ عنھا کی والدہ جو کہ کافرہ تھیں، ان کے پاس آئیں اور ان سے ماں ہونے کے ناطے صلہ رحمی طلب کی، اسماء رضی اللہ عنھا نے اس بارے میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے اجازت طلب کی، تو آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا:
(اپنی والدہ سے صلہ رحمی کرو۔) حالانکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں فرمایا ہے:
﴿لَّا تَجِدُ قَوْمًا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ يُوَادُّونَ مَنْ حَادَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلَوْ كَانُوا آبَاءَهُمْ أَوْ أَبْنَاءَهُمْ﴾ (المجادلة:22)
ترجمہ: (ایسے لوگ تمہیں نہیں ملیں گے جو اللہ تعالیٰ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہوں اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے دشمنوں سے دوستی بھی رکھتے ہوں، خواہ ان کے باپ یا بیٹے ہی کیوں نہ ہوں۔)
اس سے معلوم ہوا کہ دنیوی مکافات اور صلہ رحمی اور شئی ہے اور قلبی محبت اور دوستی بالکل دوسری شئی ہے۔
بلکہ اس صلہ رحمی اور حسن معاملہ میں کفار کو اسلام کی طرف راغب کرنے کا پہلو رکھا گیا ہے اور یہ چیز دعوت دین کے طرق میں سے ہے، جب کہ محبت اور دوستی کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہے، محبت اور دوستی تو یہ ظاہر کرتی ہے کہ کافر اپنے کفر پر صحیح ہے اور ہم اس سے راضی ہیں کیونکہ ایسا شخص اس کافر کو اسلام کی دعوت نہیں دے پاتا۔
یہاں یہ بات واضح طور پر سمجھ لینی چاہئے کہ کفار سے دوستی اور محبت کے حرام ہونے کا یہ معنی نہیں ہے کہ ان کے ساتھ دنیوی معاملات کرنا بھی حرام ہیں، نہیں، دنیوی معاملات کئے جا سکتے ہیں، مثلاً: جائز قسم کی تجارت کرنا، ان سے سامان اور مفید قسم کی مصنوعات منگوانا اور ان کی ایجادات سے فائدہ اٹھانا وغیرہ۔
نبی صلى الله عليه وسلم نے ایک بار راستے کی رہنمائی کے لئے ابن أريقط الليثي نامی کافر کو اجرت پر لیا تھا۔ اس کے علاوہ بعض یہودیوں سے قرضہ لینا بھی ثابت ہے۔
مسلمان ہمیشہ سے کفار سے مختلف مصنوعات اور سامان منگواتے رہے ہیں، یہ ایک چیز کی قیمت کے بدلے خریدنا ہے، اس میں ان کا ہم پر کوئی احسان نہیں ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مؤمنوں سے محبت اور دوستی اور کافروں سے بغض و عداوت کو واجب قرار دیا ہے۔
چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَهَاجَرُوا وَجَاهَدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالَّذِينَ آوَوا وَّنَصَرُوا أُولَٰئِكَ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ﴾ (الأنفال:72)
ترجمہ: (جو لوگ ایمان لائے اور وطن سے ہجرت کر گئے اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنے مال اور جان سے لڑے اور جنہوں نے ہجرت کرنے والوں کو جگہ دی اور ان کی مدد کی، وہ آپس میں ایک دوسرے کے رفیق ہیں۔)
دوسرے مقام پر فرمایا:
﴿وَالَّذِينَ كَفَرُوا بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ ۚ إِلَّا تَفْعَلُوهُ تَكُن فِتْنَةٌ فِي الْأَرْضِ وَفَسَادٌ كَبِيرٌ﴾ (الأنفال:73)
ترجمہ: (اور جو لوگ کافر ہیں وہ بھی ایک دوسرے کے رفیق ہیں، تو مومنو! اگر تم یہ کام نہ کرو گے تو ملک میں فساد برپا ہو جائے گا۔)
اس آیت کریمہ کے تحت حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
اگر تم مشرکین سے دور ہو کر نہیں رہو گے اور مومنین سے محبت نہیں کرو گے تو لوگوں کے درمیان فتنہ واقع ہو جائے گا اور وہ اس طرح کہ مسلمانوں کا کافروں کے ساتھ اختلاط اور اقتباس لازم آئے گا، جس سے لوگوں کے درمیان بہت لمبا چوڑا فساد برپا ہو جائے گا۔
میں کہتا ہوں کہ ہمارے اس زمانے میں یہ سب کچھ ظاہر ہو چکا ہے (والله المستعان)۔